تحریر: محمد راشد خان سواتی
اکیسویں صدی کا انسان بظاہر سہولیات، طاقت اور شہرت کے عروج پر ہے، مگر حقیقت میں وہ شدید ذہنی انتشار، بے چینی اور عدم اطمینان کا شکار ہے۔ پوری دنیا طبقاتی کشمکش، طاقت و اختیارات کی ہوس اور شہرت کی نمائش کے ایسے گرداب میں پھنسی ہوئی ہے جہاں اقدار پیچھے اور مفادات آگے کھڑے نظر آتے ہیں۔ اسی پس منظر میں ہماری مشرقی تہذیب کو بومرز، جنریشن زی اور برو کلچر کے تناظر میں سمجھنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
نوجوان نسل، جو سوشل میڈیا، اسمارٹ فون اور ڈیجیٹل دنیا کی پیداوار ہے، عموماً اپنے سے پہلی نسل کو—جو پی ٹی وی کے بلیک اینڈ وائٹ دور میں پلی بڑھی—قدامت پسند قرار دیتی ہے۔ یہی نوجوان عالمی اصطلاح میں جنریشن زی کہلاتے ہیں، جبکہ سادگی، صبر اور روایات کی علمبردار نسل کو بومرز کہا جاتا ہے۔ دونوں نسلوں کے درمیان فکری فاصلے ضرور ہیں، مگر ان کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔
اصل مسئلہ نسلوں کا فرق نہیں بلکہ نسلوں کے درمیان مکالمے کا فقدان ہے۔ اگر جنریشن زی کے جذبے، خود اعتمادی اور تخلیقی صلاحیت کو بومرز کے تجربے، حکمت اور بصیرت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو معاشرے کے لیے نہ صرف مثبت بلکہ دیرپا اور قابلِ عمل فیصلے سامنے آ سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے ماضی سے جڑی رہتے ہوئے مستقبل کی طرف بڑھتی ہیں۔
اس ساری بحث میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو برو کلچر کا فروغ ہے۔ برو کلچر محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ فکر ہے جو سنجیدگی، حیا اور خاندانی اقدار کو فرسودہ سمجھتا ہے۔ یہ خالصتاً مغربی آزاد خیالی کا تسلسل ہے جہاں آزادی کو ذمہ داری سے الگ کر دیا گیا ہے اور لذت، نمود و نمائش اور وقتی خوشی کو کامیابی کا معیار بنا دیا گیا ہے۔
مشرق، خصوصاً جنوبی ایشیا، صدیوں سے مضبوط خاندانی نظام کا امین رہا ہے۔ یہاں ماں، بہن، بیٹی اور بیوی محض رشتے نہیں بلکہ اقدار کی علامت ہیں۔ ہندو گھرانوں میں ماں کو بھگوان کا درجہ دیا جاتا ہے، جبکہ اسلامی تعلیمات میں ماں کے قدموں تلے جنت اور بہن کو عفت، شفقت اور غیرت کا معیار قرار دیا گیا ہے۔ دادا، دادی، نانا اور نانی جیسے رشتے ہماری تہذیبی پہچان ہیں، جن کے بغیر مشرقی معاشرہ ادھورا ہے۔
برو کلچر اس پورے تہذیبی نظام کے برعکس ایک ایسے معاشرے کا تصور پیش کرتا ہے جہاں گرل فرینڈز، بوائے فرینڈز، بے مقصد پارٹیاں اور ہر حد سے آزاد طرزِ زندگی کو معمول سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ہماری مشرقی اقدار کو سب سے بڑا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
اس لیے آج سب سے بڑی ذمہ داری بومرز پر عائد ہوتی ہے کہ وہ محض تنقید کے بجائے رہنمائی کریں، محض حکم دینے کے بجائے مکالمہ کریں، اور محض ماضی پر فخر کرنے کے بجائے نوجوانوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ جنریشن زی کو روکنا نہیں بلکہ سمجھانا ہوگا کہ آزادی اور بے راہ روی میں فرق کیا ہے۔
ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ، ضمیرِ مغرب ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ، یہاں بدلتا نہیں زمانہ
آخرکار یہی کہا جا سکتا ہے کہ مشرق کی بقا نہ اندھی تقلید میں ہے اور نہ ہی جامد روایت پر اصرار میں، بلکہ توازن میں ہے—جہاں بومرز کا تجربہ اور جنریشن زی کا جوش مل کر برو کلچر کے منفی اثرات کے سامنے ایک مضبوط فکری دیوار بن سکے۔
