ایبٹ آباد
حطار انڈسٹریل اسٹیٹ سمیت خیبرپختونخوا کے صنعتی مزدوروں کے کامسیٹس یونیورسٹی (ایبٹ آباد کیمپس) میں ورکرز ویلفیئر بورڈ اسکالرشپس کے تحت زیر تعلیم بچوں پر مبینہ طور پر ایک لاکھ سے زائد ڈگری ٹیکس لاگو کرنے کا انکشاف ہوا ہے جس سے 2021 میں فال کرنے والے غریب محنت کش گھرانوں کے گریجویٹ نوجوانوں کی ڈگریاں اور ٹرانسکرپٹ روک کر اجراء کو ایک لاکھ کی ادائیگی سے مشروط کر دیا گیا ہے جب کہ اس ضمن میں کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد کے اہم ذمہ دار نے رابطے پر بتایا کہ کامسیٹس ٹیکس فری ادارہ ہے تاہم ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبرپختونخوا نے اسکالرشپس رقوم منتقلی کے وقت ٹیکس کاٹ لیا ہے جسے ہم نے ہر بچے کے پورٹل پر شو بھی کیا ہے اور ہماری اس سلسلے میں ورکرز ویلفیئر بورڈ کے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے بات چیت ہوئی ہے جنھوں نے کہا ہے کہ ہم اسے دیکھ رہے ہیں اور جلد ایشو ریزالوو کر دیا جائے گا دوسری طرف طلباء تشویش میں مبتلا ہیں کہ سپرنگ 2022 میں فال کرنے والے طلباء کی ڈگریاں بھی مکمل ہونے ہی والی ہیں جنھیں سخت تشویش ہے کہ اپنے سینئیرز کی طرح وہ بھی ایک لاکھ سے زائد ٹیکس دے کر اپنی ڈگریاں اور ٹرانسکرپٹ یونیورسٹی سے کیسے حاصل کریں گے؟کیونکہ ان کے والدین تو مختلف فیکٹریوں میں معمولی مشاہروں پر ملازم ہیں جن سے گھر چلانا مشکل ہے تو وہ ہماری ڈگری کے لیے اتنی بھاری رقم ا کیسے ادا کریں گے اور اگر نہیں کریں گے تو بغیر ڈگری یا ٹرانسکرپٹ کے وہ آگے جاب یا اعلی تعلیم کیسے حاصل کر سکیں گے؟باوثوق ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے صنعتی اداروں کے ملازمین کے جو بچے ورکرز ویلفیئر بورڈ اسکالرشپس پر کامسیٹس ایبٹ آباد سے اپنی ڈگری مکمل کر چکے ہیں اور ان کا کانووکیشن بھی ہو چکا ہے مگر ان کے بچوں کو ڈگری نہیں دی گئی بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایک لاکھ دس ہزار روپے جمع کروائیں تب یہ ڈگری جاری کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق ورکرز ویلفیئر بورڈ اسکالرشپس پر مبینہ طور پر کوئی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے جو اسکالرشپس پر زیر تعلیم طلباء پر ڈال کر تقسیم کر دیا گیا ہے اس لیے 2021 میں فال کر کے ڈگری مکمل کرنے والے اسٹوڈنٹس سے ڈگری جاری کرنے کے عوض ایک لاکھ دس ہزار فیس مقرر کر دی گئی ہے جو اسپرنگ 2022 یا اس کے بعد اسکالرشپس پر آنے والے طلباء کے لئے زیادہ ہونے کا بھی امکان ہے تاہم اسے متاثرہ والدین غیر منصفانہ قرار دے کر ارباب اختیار سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ غریب محنت کش خاندانوں کے بچوں کو اس بوجھ سے نجات دلائی جائے وہ ایک لاکھ یا زیادہ بچے کی ڈگری فیس ادائیگی کی سکت نہیں رکھتے۔ادھر معلوم ہوا ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ اسکالرشپس سے کامسیٹس میں صنعتی ورکرز کے زیر تعلیم بچوں (طلباء) کی ٹیوشن فیس اور ہاسٹل اخرجات ادا کیے جاتے ہیں کبھی کبھار اسکالرشپ فنڈز یونیورسٹی کو ٹرانسفر ہونے میں تاخیر ہو سکتی ہے جس پر طلباء کو انتباہ جاری کیا جاتا ہے مگر اسٹوڈنٹس سکالرشپس پر ٹیکس کون سے ادارے نے اور کیوں لگا کر اسٹوڈنٹس اور ان کے والدین کو زیر بار اور ذہنی اذیت سے دوچار کر دیا اس کی والدین اور طلبہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔دریں اثناء متاثرہ طلباء اور ان کے پریشان حال والدین نے بتایا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ اسکالرشپس پر کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد ڈگریوں یا ٹرانسکرپٹس کے عدم اجراء کے باعث نہ ان کے بچے اندرون یا بیرون ملک اعلی تعلیم کے لیے اپلائی کرنے کے قابل ہیں اور نہ ہی کسی جاب یا فارن اسکالرشپس کے لیے اور ہمارا پرسان حال بھی کوئی نہیں۔انھوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم ارشد ایوب خان،صوبائی وزیر ہائر ایجوکیشن،صوبائی وزیر محنت اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ کہ کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد میں ورکرز ویلفیئر بورڈ اسکالرشپس پر ٹیکس ختم کروا کر پریشان حال طلباء و طالبات اور والدین کو ریلیف دیا جائے تا کہ ڈگریاں مکمل کرنے والے بچے یونیورسٹی سے ٹرانسکرپٹ اور ڈگریاں حاصل کر کے اندرون یا بیرون اسکالرشپس پر اعلی تعلیم یا جابز حاصل کر کے اپنا مستقبل روشن اور والدین کا سہارا بن سکیں۔