Skip to content

احتساب کی چکی اور قدرت کا انتقام

شیئر

شیئر

تحریر: سردار شعیب محمد کھٹانہ۔

وقت بدلتے دیر نہیں لگتی پل بھر میں بادشاہ گدا اور گدا بادشاہ بن جایا کرتے ہیں انسان کو کبھی طاقت، اختیارات اور عہدے کا گھمنڈ نہیں ہونا چاہٸے آج تارثخ 11دسمبر 2025 ہے اور آج دنیا بھر کے الیکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا میں سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ پاکستان کے سابق ڈی جی آٸی ایس آٸی لیفٹننٹ جنرل(ر) فیض حمید کو آرمی ایکٹ کے
تحت 14سال قید بامشقت کی سزا سناٸی جا چکی ہے۔
آج یہ خبر سنتے ہی مجھے وہ وقت یاد آگیا جب جنرل (ر) فیض حمید حاضر سروس آٸی ایس آٸی کے چیف تھے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے انھوں نے اس وقت ایک بڑی چال چلی اور گہری سازش و منصوبہ بندی کے تحت عدلیہ کا کندھا استعمال کرتے ہوٸے اس وقت کی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا اور وزیراعظم نواز شریف کو انکی بیٹی مریم نواز شریف سمیت بے گناہ جیل میں قید کروا دیا ،

یہ دور جنرل (ر) فیض حمید کا دور تھا یہ طاقت، عہدے اور اختیارات کے نشے میں مست یہ شخص اس ملک کی افواج سے لیکر تمام اداروں اور عدلیہ تک سب کو براہِ راست کنٹرول کرتا تھا کسی کی مجال نہیں تھی اس کے حکم اور خواہش کو ٹھکرا سکے، اس دور میں جنرل فیض حمید اقتدار اور اختیارات کا بے تاج بادشاہ تھا شاید اس طاقتور ترین چیف نے کبھی ایک لمحہ کیلٸے سوچا بھی نہیں تھا کہ ہر عروج کو زوال ہے سورج بھی اگر بوقت سحر طلوع ہوتا ہے تو بوقت شام غروب بھی ہوتا ہے سدا بہار کچھ بھی نہیں، یہ اقتدار ، عہدے اور اختیارات سب عارضی ہیں سدا بادشاہی صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ذات اقدس کی ہے، بہرکیف یہ وہ دور تھا مسلم لیگ ن زیر عتاب تھی سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز زندگی اور موت کی کشمکش میں تھی عین اسی وقت نواز شریف اور مریم نوز کو ایک ہی کیس میں الگ الگ سزاٸیں سناٸی گٸیں اور نواز شریف اپنی بیمار اہلیہ کو بستر مرگ پر حالت نزع میں چھوڑ کر وطن واپس آٸے اٸیرپورٹ پر جہاز سے اترنے کے ساتھ ہی انتہاٸی ہتک آمیز سلوک کے ساتھ گرفتار کرکے جیل میں قید کردیا گیا اور یہ پیغام زبان ذدٍ عام کیا گیا کہ نواز شریف کا قصہ اب سدا ختم ،

بہرکیف جنرل (ر) فیض حمید کا سکّہ اس ملک کے طول وعرض میں چپے چپے پر راٸج الوقت تھا ہر سمت انکا طوطی بولتا تھا ملک میں میڈیا سے لیکر عدلیہ تک سب ادارے میاں نواز شریف کی کردار کشی میں مصروف عمل تھے سابق وزیراعظم نواز شریف میاں شہباز شریف اور شریف خاندان بے بسی کی تصویر تھے مگر ایک روز عدالت پیشی پر ایک صحافی کے سوال جواب میں نواز شریف نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا اور شہادت کی انگلی آسمان کی طرف کرکے کہا ” میں اپنا فیصلہ اللّٰہ پر چھوڑتا ہوں“ ملٹری کورٹ نے آج جب اپنے ادارے کے ایک سابق جرنیل کو صرف ایک ہی کیس میں 14 سال بامشقت سزا سناٸی تو میرے دل میں فوراً خیال آیا کہ آج یقیناً اللّٰہ تعالیٰ نے بہترین انصاف کیا کیونکہ میاں نواز شریف نے اپنا فیصلہ اللّٰہ پر چھوڑا تھا اور آج بے گناہ ضمیر کا قیدی نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور بیٹی وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کی بے گناہی کا فیصلہ ہوچکا اس وقت کاطاقتور ترین جرنیل آج خود احتساب کی چکی میں پس رہا ہے اور چکی چلانے والا کوٸی سیاستدان نہیں بلکہ وہی ادارہ ہے جس کے عہدے اور اختیارات کا ناجاٸز استعمال کرتے ہوٸے لیفٹننٹ جنرل (ر) فیض حمید نے ظلم و ستم کا بازار گرم کررکھا تھا اور سیاستدانوں پر پاک سرزمین پر عرصہِ حیات تنگ کر رکھا تھا،

بہرحال قدرت کا کرشمہ دیکھیۓ کہ اس وقت کا قیدی نواز شریف آج بھرپور آزاد فضاٶں میں سکھ و چین کی بہترین زندگی گزار رہا ہے اسکا خاندان آج اقتدار میں ہے اسکی جماعت کی مرکز اور پنجاب میں حکومت ہے بھاٸی میاں محمد شہباز شریف وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور بیٹی محترمہ مریم نواز پنجاب کی وزیراعلیٰ ہے اور وہ خود رکن قومی اسمبلی و قاٸد پاکستان ہیں اس وقت سسٹم کا باپ میاں نواز شریف ہے سب فیصلے انکی منظوری سے ہورہے ہیں اور کل کی طاقتور ترین شخصیت سابق آٸی ایس آٸی چیف جنرل (ر) فیض حمید کی باقاٸدہ آج سے 14 سالہ قید بامشقت کا آغاز ہونے جارہا ہے فیض حمید آج سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ایک خطرناک قیدی کی حثیت سے زندگی گزار رہا ہے، جنرل (ر) فیض حمید کو فی الوقت صرف ایک کیس میں 14سال قید بامشقت کی سزا سناٸی ہے اور فیض حمید اس وقت جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہے اور 9مٸی سمیت دیگر کٸی خطرناک ترین مزید کیسسز چلیں گے اور ان میں بھی یقینی طور پر مزید سخت سے سخت سزا ہوگی بات آرٹیکل 6 تک جاسکتی ہے اور اس شکنجے میں وہ سب سوّلین بھی آٸیں گے جن کو سدا بہار اقتدار سونپنے اور اپنے ناجاٸز مقاصد پورے کرنے کے لیٸے سازشیں رچاٸی گٸیں لہٰذا اب آگ لگ چکی ہے سب کے سب یاروں کے گھر اس آگ کی ذد میں آٸیں گے کچھ جل کر خاکستر ہو جاٸیں گے اور کچھ یاروں کو ہلکی پھلکی تپش بھی پہنچے گی مگر یہ طے ہے کہ احتساب اب کی بار سوّلین کے ساتھ ساتھ ججوں اور جرنیلوں کا بھی ہوگا اس احتساب کی چکی میں پسنے کے بعد اپنے وقت کا طاقتور ترین جرنیل فیض حمید بھی جنرل مشرف ، شجاع پاشا، ظہیرالاسلام کی طرح ماضی کا قصہ پارینہ بن جاٸیں گے ا نکا نام لیوا دور دور تک کوٸی نہیں ملے گا اور ایک روز گمنامی کے صفحات کی کسی آخری سطر کا حصہ ہوں گے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں