پشاور
خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں ایبٹ آباد کی خاتون ڈاکٹر وردہ کے اغوا اور قتل کے واقعے پر ارکان نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا اور ذمہ داران کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کی جانب سے تفتیش میں مبینہ غفلت پر برہمی ظاہر کی، انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کی سنگین کوتاہی ناقابلِ برداشت ہے اور غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اسپیکر نے ڈی آئی جی ہزارہ کو ایوان میں طلب کیا تاکہ جاری تحقیقات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے۔
ایوان کو بتایا گیا کہ خاتون ڈاکٹر کے قتل میں ملوث تین مبینہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم کیس کی حساس نوعیت کے باعث مزید تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
حکومتی رکن افتخار خان نے پولیس کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ڈیوٹی پر موجود ایک خاتون ڈاکٹر کا دن دہاڑے اغوا اور قتل ہونا پولیس کی ناکامی ظاہر کرتا ہے۔
اے این پی کے رکن ارباب عثمان نے تفتیش کے طریقۂ کار پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف نگرانی اور پیش رفت یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
اسی دوران مسلم لیگ ن کی رکن آمنہ سردار نے واقعے کو معاشرے کے منہ پر طمانچہ قرار دیا اور کہا کہ پولیس کا تاخیر سے ردِعمل انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے سخت اور فوری اقدامات کیے جائیں۔
ارکانِ اسمبلی نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ کیس کی شفاف تفتیش، فوری انصاف، اور پولیس اصلاحات پر فوری پیش رفت کے بغیر ایسے واقعات کا سدِّباب ممکن نہیں۔