امیر معاویہ قریشی
وطن عزیز کی مٹی بڑی زرخیز ہے ، باقی وسائل کی طرح اللّٰہ تعالیٰ نے قوم کو غیر معمولی تعداد میں با صلاحیت نوجوان عطا کیے ہیں ۔ ملک پاکستان کی آ بادی کا تقریباً ایک بڑا حصہ جوان طبقے پر مشتمل ہے ۔
سنہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق کل آبادی کا تقریباً %79 حصہ 40 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے ۔ اور تقریباً 30 سال سے کم عمر افراد ، ملک کی مجموعی آبادی میں %64 شریک ہیں ۔
کسی بھی قوم کے لیے اس کا نوجوان طبقہ بہترین سرمایہ ہوتا ہے ۔ اور ترقی یافتہ قومیں اس سرمایے کی بہترین انویسٹمنٹ پر کوئی کمپرومائز نہیں کرتیں ۔
ملک پاکستان میں اتنی بڑی آبادی کا پڑھا لکھا اور با ہنر ہونا نہ صرف ضروری ہے بلکہ اسی میں معیشت اور سماجیات کی بقاء ہے ۔ بدقسمتی سے یہ پڑھا لکھا طبقہ پچھلے کئی عرصے سے بڑی تیزی کے ساتھ ملک سے باہر جانے لگا ہے ۔ امیگریشن حکام کے مطابق صرف سنہ 2025 کے پہلے چھ ماہ میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد سلسلہ روزگار حاصل کرنے کے لیے ملک چھوڑ گئے ہیں ۔ یہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اندرون ملک اتنی بڑی مقدار میں افرادی قوت کو روزگار کے مواقع نہیں مل رہے، جس کی کئ معقول وجوہات سامنے آتی ہیں ۔
بڑھتی ہوئی آبادی کیساتھ ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو پا رہے ۔ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد روزگار کے انتظار میں در بدر ہو رہیں ہوتے ہیں ۔
حکومتیں اور باقی متعلقہ آرگنائزیشنز کوئی ٹھوس اقدامات اٹھانے سے قاصر ہیں ۔ ایک جامع منصوبہ بندی نہ ہونے کے سبب دورانِ تعلیم ہی طلباء کو مستقبل میں ذریعہ معاش کی فکر لاحق ہونے لگ جاتی ہے ۔ جس کے سبب ان کا تعلیمی عمل بھی شدید متاثر ہوتا ہے ۔
بسا اوقات بیشتر students کوئی چھوٹے موٹے روزگار پر لگ کر تعلیم کو ادھورا چھوڑ لیتے ہیں ۔
ملک کی معاشی صورتحال بھی ” قرض لو – نظام چلاؤ” کے درجے میں ہے ۔جس سے نہ صرف ملکی تعمیر وترقی کے سفر میں واضح طور پر کمی ہے بلکہ بنیادی ضروریات پورا کرنے والے ادارے بھی شدید مالی خسارے کی ضد میں ہیں ۔جس سے اداروں میں مزید ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کے بجائے پہلے سے موجود ورک فورس دباؤ کا شکار ہے جس کے اثرات اداروں کی کارکردگی پر بھی پڑتے ہیں ۔
سنہ 2018 سے جاری ملک میں مہنگائی کی لہر نے صرف معیشت کو متاثر ہی نہیں کیا بلکہ اس کا ڈھانچہ ہی مکمل طور پر تبدیل کر کے چھوڑ دیا ہے ۔جس کے باعث حکومتیں مزید روزگار کے مواقع پیدا کرنے یا ان کے لیے منصوبہ بندی کرنے کے بجائے پہلے سے موجود ملازمین کو سنبھالنے یا انکا دباؤ کم کرنے کے لیے لگیں ہوئی ہے ۔ اور اسی مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کے لیے آمدن اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو تا جا رہا ہے،جو کہ اس کو روزگار چھوڑنے اور بیرون مُلک دھکیلنے کا باعث بنتا ہے ۔
کسی بھی سماج میں موجود بیروزگاری اور غربت وغیرہ سے نمٹنے کیلئے کاروبار یا تجارت بہترین ہتیھار ہوتے ہیں لیکن ملک پاکستان میں ایک طویل عرصے سے جاری سیاسی وسماجی بدامنی اور دہشتگردی وغیرہ نے ان ہتھیاروں کی افادیت کو کم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ پرائیویٹ سیکٹر میں روزگار کے مواقع تب ہی پیدا ہو سکتے ہیں جب اندرون ملک کے سرمایہ دار بجائے اس کے کہ اپنا سرمایہ اٹھائیں اور باہر ممالک میں انویسٹ کریں، ملک میں رہ کر کاروبار کریں اور صنعتیں وغیرہ قائم کریں اور بیرون مُلک سے بھی انویسٹرز آئیں ادھر کاروبار کریں اور انڈسٹریز وغیرہ لگائیں ۔ لیکن یہ دونوں عوامل "امن” سے مشروط ہیں ۔جہاں امن ہو گا وہاں تجارت اور کاروبار ہوگا بھی اور اسکو فروغ بھی ملے گا ،جہاں بد امنی ہو دہشتگردی ہو سیاسی وسماجی افراتفری ہو، وہاں لوگ کیونکر اور کیسے کاروبار کر سکتے ہیں یا کیسے اپنا سرمایہ لگا سکتے ہیں ؟ سو تجارتی و صنعتی میدان میں اگر کچھ کرنا ہے یا ہونا ہے تو اِس کیلئے امن وخوشخالی لازماً ہے۔
پرائیویٹ سیکٹر میں پہلے سے موجود صنعتوں ، کارخانوں وغیرہ میں سے بیشتر بلکہ کثرت کے ساتھ ایسی صنعتیں اور کارخانیں موجود ہیں جہاں کام کرنے والے عام افراد کو ماہانہ اجرت حکومت کی طرف سے مقرر کردہ (جو کہ مالی سال 26-2025 میں کم سے کم تقریباً 39000 روپے ہے) سے بھی کم دی جاتی ہے ۔ اب کم تنخواہیں جن کے ساتھ بنیادی ضروریات تک نہ پوری ہوں تو کیسے افراد ان صنعتوں کی طرف رخ کر سکتے ہیں یا پھر ٹھر سکتے ہیں اسلئے موقع ملتے ہی بیرون ملک کر طرف نکل جاتے ہیں ۔
اعلیٰ سطحی تعلیمی ادارے مثلاً یونیورسٹیز وغیرہ بھی جس سپیڈ کے ساتھ ڈگریاں بانٹنے میں مصروف ہیں اس سے بھی بیروزگاری کا گراف بڑھتا ہی چلا گیا ہے ۔
یہ کچھ مذکورہ وجوہات ہیں جو افرادی قوت کو ملک سے باہر دھکیلنے کی باعث بنتی ہیں ۔
سو اگر افرادی قوت کو ملک میں رکھنا ہے تو ضروری ہے روزگار کے لئے منصوبہ بندی کی جائے ۔ ہنر مند افراد کو اچھی تنخواہوں کے ساتھ روزگار دیا جائے ۔ اداروں میں شفافیت کے عمل کو یقینی بنایا جائے جس سے کرپشن وغیرہ کم ہو گی اور اداروں میں اتنی سکت پیدا ہو گی کہ وہ مزید افراد کے لیے ڈیمانڈ بڑھا سکیں۔
ملک میں نئی صنعتیں ، کارخانیں لگائیں جائیں ، بیرون ملک سے انویسٹرز کو لانے کے لیے سازگار ماحول بنایا جائے، انویسٹرز کو ملک میں لانے کے لیے ٹیکسز میں چھوٹ اور رعایت دی جائے ۔ ڈومیسٹک اور فارن انویسٹرز جب نئی انڈسٹریز لگائیں گے تو روزگار بھی بڑھے گا اور پیدوار بھی بڑھے گی ، جس سے ایکسپورٹ میں اضافہ ہوگا اور نتیجتاً ملک کا GDP گرو کرے گا ۔

