Skip to content

مولانا فضل الرحمٰن بمقابلہ مقتدرہ

شیئر

شیئر

تحریر : شاہ زمان حنیف

یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مولانا فضل الرحمٰن پاکستان کی سیاست میں اپنی مثال آپ رہے ہیں۔ مخالفین کے لیے سخت سے سخت لہجہ استعمال کرتے ہوئے بھی تہذیب کی پٹڑی سے نہ اترنا ان کا خاصہ رہا ہے۔ انہوں نے تقریباً چار دہائیوں سے اپنی سیاسی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ ان کی سیاست کا ایک نمایاں وصف یہ رہا ہے کہ وہ کبھی اقتدار کے ایوانوں کے قریب رہے اور کبھی انہی ایوانوں کے خلاف احتجاجی سیاست کرتے دکھائی دیے۔ مختلف سیاسی حکومتوں، اتحادیوں اور مقتدر حلقوں کے ساتھ ان کے تعلقات بدلتے رہے، لیکن قومی سیاست میں ان کی اہمیت برقرار رہی۔ تاہم موجودہ صورت حال میں مولانا اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ان کی سیاسی حکمت عملی، ماضی کے کردار اور مستقبل کے امکانات پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ان کی جماعت مختلف ادوار میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) اور دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ اقتدار میں شریک رہی ہے۔ 2002ء سے 2007ء تک متحدہ مجلس عمل کے ذریعے جنرل پرویز مشرف کے دور میں صوبائی اقتدار کا حصہ بننا، 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں شمولیت اور 2022ء سے 2023ء تک پی ڈی ایم حکومت میں اہم حکومتی نمائندگی اس کی مثالیں ہیں۔ اس پس منظر میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مولانا کی سیاست کا بنیادی محور اصولی جدوجہد ہے یا اقتدار کے مختلف مراکز میں اپنی جماعت کے لیے مناسب حصہ حاصل کرنا بھی اس کا اہم محرک رہا ہے؟
مولانا کی سیاست کا ایک قابل بحث پہلو امریکہ کے ساتھ ان کے روابط بھی ہیں۔ افغانستان میں امریکی مداخلت اور جہاد کے نام پر مذہبی سیاست کے فروغ کے دوران ان کی جماعت نے امریکہ مخالف بیانیہ اختیار کیا، لیکن امریکی سفارتی ریکارڈ میں ان کے امریکی سفارت کاروں سے روابط اور تعاون کی خواہش کا ذکر بھی ملتا ہے۔ 2008ء کے ایک امریکی سفارتی مراسلے میں ان کے امریکی حکام سے رابطوں کا تذکرہ موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ مذہبی بیانیے اور عملی سیاسی روابط میں اس فرق کی وضاحت کیسے کی جائے؟ سیاسی قیادت سے اس کے نظریاتی مؤقف اور عملی کردار میں مطابقت کا سوال کرنا عوام کا حق ہے۔ان کی سیاست پر خاندانی اثر و رسوخ کی تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔ ان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود وفاقی وزیر مواصلات رہ چکے ہیں اور خاندان کے دیگر افراد بھی سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ خاندان کے افراد سیاست میں کیوں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا جماعت کے عام کارکنوں اور نظریاتی ساتھیوں کو بھی قیادت اور وزارتوں تک پہنچنے کے مساوی مواقع حاصل ہیں؟ شوریٰ اور جمہوریت کی بات کرنے والی جماعت کو اپنے داخلی نظام میں بھی ان اصولوں کی مثال پیش کرنی چاہیے۔موجودہ حکومتی بندوبست میں مولانا کی جماعت کو وہ حصہ نہیں ملا جو ماضی کی اتحادی حکومتوں میں حاصل رہا۔ اس صورت حال میں ان کا سخت سیاسی مؤقف مزید نمایاں ہوا ہے۔ تاہم ان کے اختلافات کو صرف وزارتیں نہ ملنے سے جوڑنا بھی درست نہیں۔ آئینی بالادستی، پارلیمنٹ کے اختیار اور ریاستی اداروں کے سیاسی کردار سے متعلق ان کے اعتراضات بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں۔یہاں پاکستان کی تقریباً اسی سالہ سیاسی تاریخ کا ایک بنیادی تضاد بھی زیر بحث آنا چاہیے۔ ہماری سیاسی جماعتوں نے اقتدار اور اپوزیشن دونوں میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اپنے تعلقات کے معاملے میں مستقل اصولی مؤقف اختیار نہیں کیا۔ جب اقتدار میں ہوتی ہیں تو فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی اور قربت کو اپنے لیے باعثِ افتخار اور سیاسی استحکام کا ذریعہ سمجھتی ہیں، لیکن اقتدار سے باہر ہوتے ہی اسی ادارے کے سیاسی کردار پر سخت اعتراضات شروع کردیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو مداخلت کل قابل قبول تھی، وہ آج ناقابل قبول کیوں ہوگئی؟ کیا اصول اقتدار کے ساتھ بدل جاتے ہیں؟ اگر سیاسی جماعتیں واقعی جمہوریت اور پارلیمانی بالادستی چاہتی ہیں تو انہیں یہ مؤقف اپوزیشن اور اقتدار، دونوں حالتوں میں یکساں رکھنا ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی سیاسی معاملات میں آئینی حدود کا پابند ہونا چاہیے۔مولانا کے موجودہ سیاسی مؤقف کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ماضی میں ان کے سخت ناقد رہنے والے بعض عناصر آج ان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں۔ بظاہر وہ مولانا کے کاندھے پر بندوق رکھ کر اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اپنا سیاسی غبار نکال رہے ہیں۔ ممکن ہے بعض افراد واقعی ان کے مؤقف سے اتفاق رکھتے ہوں، لیکن مولانا کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ آج ان کی واہ واہ کرنے والے کل ان کے سیاسی مخالف کیوں تھے؟ وقتی حمایت کو مستقل نظریاتی ہم آہنگی سمجھنا سیاسی غلطی ہوسکتی ہے۔اس کشمکش کا ایک حساس پہلو دینی مدارس اور مذہبی تعلیمی بورڈز کا کردار بھی ہے۔ اگر مولانا اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان محاذ آرائی طویل ہوتی ہے تو کیا مدارس کے طلبہ اور اساتذہ بھی اس سیاسی کشمکش کا حصہ بنیں گے؟ کیا مذہبی تعلیمی اداروں کو کسی سیاسی تحریک کے لیے استعمال کیا جائے گا؟ تمام مدارس اور ان کے منتظمین کی سیاسی وابستگیاں یکساں نہیں۔ ان اداروں کا بنیادی مقصد تعلیم و تربیت ہے، انہیں سیاسی تصادم سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔دوسری طرف سوشل میڈیا نے عوامی شعور کو تبدیل کردیا ہے۔ ماضی میں مسجد، منبر اور مذہبی اجتماعات رائے عامہ پر گہرا اثر رکھتے تھے، لیکن اب عوام سیاسی رہنماؤں کی پرانی تقاریر، اتحادوں اور فیصلوں کا موجودہ مؤقف سے تقابل کرتے ہیں۔ مسجد و منبر کا احترام اپنی جگہ، مگر اب سیاسی قیادت کی ہر بات بلا سوال قبول کرنے کا دور نہیں رہا۔میرا ذاتی فکری مؤقف یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، لیکن اسلام کو ذاتی انا، خاندانی مفادات یا سیاسی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنانا اس کی بنیادی تعلیمات کے منافی ہے۔ مسلم معاشروں کے بگاڑ کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم اسلام کے ان اصولوں سے دور ہوگئے ہیں جن میں عدل، دیانت، مساوات، برداشت اور انسانیت کی خدمت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسلام نے انسانیت کو عزت و تکریم کا مقام دیا ہے۔ اس لیے انسان کی خدمت مذہب، مسلک، نسل اور گروہ کی تفریق کے بغیر ہماری اجتماعی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ مذہبی قیادت کی اصل عظمت بھی نعروں میں نہیں بلکہ کردار، عدل اور خدمتِ انسانیت میں ہے۔
آج پاکستان دہشت گردی کے سنگین چیلنج سے دوچار ہے۔ ہمارے فوجی جوان سرحدوں اور مختلف محاذوں پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں۔ ان حالات میں ان کی قربانیوں کی توقیر اور حوصلہ افزائی کے بجائے ہر وقت اداروں کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنانا قومی انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ فوجی جوانوں کی قربانیوں کا احترام اپنی جگہ، اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار پر آئینی تنقید اپنی جگہ۔ دونوں معاملات کو خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ افسوس کہ بحیثیت قوم ہم اکثر دوسروں کے دکھ اور قربانیوں کو اس وقت تک محسوس نہیں کرتے جب تک خود کسی مشکل سے دوچار نہ ہوجائیں۔ ہمارے سیاست دانوں کی چیخ بھی اکثر اس وقت بلند ہوتی ہے جب ان کے اپنے سیاسی مفادات خطرے میں پڑتے ہیں۔اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا مولانا فضل الرحمٰن فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کرکے دوبارہ اقتدار حاصل کرلیں گے؟ محض احتجاج اور تصادم دیرپا اقتدار کی ضمانت نہیں۔ انہیں چاہیے کہ اپنی جماعت کی داخلی اصلاح کریں، عام کارکنوں کو آگے لائیں، پارلیمانی سیاست مضبوط بنائیں اور آئینی بالادستی کے اصول پر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں مؤقف اختیار کریں۔ اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف ہو تو مکالمے اور جمہوری
جدوجہد کا راستہ اپنائیں۔آخرکار سوال صرف مولانا فضل الرحمٰن کا نہیں، پوری پاکستانی سیاسی قیادت کا ہے:جب اقتدار میں ہوں تو فوج مائی باپ اپوزیشن میں ہوں تو ناقابلِ قبول کیوں؟ کیا سیاست دان اصولوں کے بجائے اپنے اقتدار اور مفادات کے مطابق اداروں کو اچھا یا برا قرار دیتے رہیں گے؟ پاکستان کو شخصیات کی جنگ نہیں، اصولوں کی سیاست درکار ہے۔ مولانا سمیت تمام سیاسی رہنماؤں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے، مگر قوموں کی تاریخ میں کردار، اصول اور عوامی اعتماد ہی مستقل حیثیت رکھتے ہیں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں