Skip to content

مانسہرہ اور خیبرپختونخوا میں جب بھی کیمسٹری کی تدریس کا ذکر ہوگا تو سید واجد حسین شاہ مرحوم کا نام لازماً لیا جائے گا

شیئر

شیئر

تحریر : راشد خان سواتی

آج سرکاری و نجی اسکولوں اور کالجوں میں کیمسٹری پڑھانے والے بے شمار اساتذہ ایسے ہوں گے جنہیں شاہ صاحب سے براہِ راست علم حاصل کرنے کا شرف ملا ہوگا۔ یوں ان کی تدریس کا چراغ صرف ان کی زندگی تک محدود نہیں رہا، بلکہ ان کے شاگردوں کی صورت میں آج بھی روشن ہے۔

کیمسٹری پڑھانے کا فن بے مثال، مگر شخصیت کی کیمسٹری اس سے بھی زیادہ دل نشین تھی۔

شاہ صاحب کی تدریسی صلاحیتیں اپنی جگہ مسلمہ تھیں، لیکن ان کی شخصیت کا سحر صرف کلاس روم تک محدود نہیں تھا۔ وہ طلبہ کے دلوں پر راج کرتے تھے۔ ان کی گفتگو، اندازِ تدریس، شفقت، خودداری، سخاوت، بہادری اور ہمہ جہت شخصیت انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی تھی۔ ان کے اندر حسینی وقار اور سادات کی روایتی شرافت و نجابت نمایاں تھی۔ ان کی شخصیت میں ایک ایسی کشش تھی جو لوگوں کو ان کے قریب لے آتی اور ان کے دلوں میں احترام پیدا کرتی تھی۔

ان کی آواز میں ایسا رعب اور گھن گرج تھی کہ سننے والا سنجیدہ ہو جاتا، مگر اسی چہرے پر سجی مسکراہٹ اس رعب کو محبت میں بدل دیتی تھی۔ یہی ان کی شخصیت کا منفرد امتزاج تھا کہ وہ اپنی ہیبت سے نظم و ضبط قائم کرتے اور اپنی مسکراہٹ سے دل جیت لیتے تھے۔

دنیا میں بہت سی شخصیات اپنے عہدوں، مناصب اور انتظامی اختیارات کی وجہ سے پہچانی جاتی ہیں، لیکن سید واجد حسین شاہ صاحب کی اصل پہچان ان کا کردار، گفتار، علم، وضع داری اور انسانوں کے ساتھ ان کا برتاؤ تھا۔ پروفیسر اور پرنسپل جیسے بڑے عہدوں پر فائز رہنے کے باوجود ان کے نام کے ساتھ کسی عہدے کی نسبت ضروری محسوس نہیں ہوتی تھی۔ ان کے لیے محبت اور احترام سے پکارا جانے والا نام ہی کافی تھا:

کیمسٹری والے سید واجد شاہ صاحب!

یہ نام محض ایک استاد کی شناخت نہیں، بلکہ ایک پورے علمی عہد کی علامت ہے۔

شاہ صاحب کا تعلق گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 مانسہرہ سے بھی تھا، جہاں سے انہوں نے اپنی تعلیم حاصل کی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ جب مجھے سکول کی گورننگ باڈی کی تشکیل کا موقع ملا تو میں نے ان سے، ان کے کلاس فیلو جناب سید ظہیر الاسلام صاحب اور اپنے سینئر جناب بریگیڈیئر حفیظ صاحب کے ہمراہ، گورننگ باڈی میں شامل ہونے کی درخواست کی۔ شاہ صاحب نے نہ صرف اس دعوت کو خوش دلی سے قبول کیا بلکہ سکول کے ساتھ اپنی وابستگی کا عملی اظہار بھی کیا۔

گورننگ باڈی کی پہلی ہی میٹنگ کے سلسلے میں وہ مجھے اپنی گاڑی میں ساتھ لے کر کمشنر آفس ایبٹ آباد گئے۔ یہ محض ایک سفر نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے بزرگ استاد کی شفقت اور حوصلہ افزائی کا اظہار تھا جو اپنے ادارے سے محبت کرنے والے ایک ساتھی کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔

گورننگ باڈی کی تشکیل کے بعد میری ٹرانسفر ہوگئی۔ اس موقع پر شاہ صاحب نے جس خلوص اور حوصلہ افزائی کے ساتھ مجھ سے گفتگو کی، وہ میرے لیے آج بھی ایک قیمتی یاد ہے۔ انہوں نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1 مانسہرہ کے لیے میری علمی و انتظامی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ تم نے ادارے کے لیے جو کام کیا ہے، وہ قابلِ داد اور خراجِ تحسین ہے۔ انہوں نے مجھے یہ احساس دلایا کہ جو لوگ کام کرتے ہیں، انہیں زندگی میں مشکلات اور ناموافق حالات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

اپنی اور بریگیڈیئر حفیظ صاحب کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہم بھی ایسے حالات سے گزرے ہیں، لیکن انسان کو بہادری اور حوصلے کے ساتھ ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

ان کے یہ الفاظ میرے لیے محض تسلی نہیں تھے، بلکہ ایک تجربہ کار استاد، ایک باوقار شخصیت اور زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنے والے انسان کا پیغام تھے۔ ان کی باتوں میں تجربے کی گہرائی، اپنائیت کی حرارت اور حوصلے کی طاقت موجود تھی۔

آج جب سید واجد حسین شاہ صاحب کی اچانک رحلت کا خیال آتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ بعض لوگ اپنی زندگی میں صرف وقت نہیں گزارتے، بلکہ اپنے پیچھے ایک پورا عہد چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کا دنیا سے چلے جانا یقیناً ایک بڑا علمی و شخصی نقصان ہے، لیکن ان کی خدمات، ان کا کردار اور ان کی تدریس ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

آج اگر خیبرپختونخوا کے مختلف تعلیمی اداروں میں کیمسٹری کے اساتذہ علم کی شمع روشن کر رہے ہیں تو ان میں بہت سے ایسے ہوں گے جن کی علمی تربیت میں شاہ صاحب کا حصہ شامل ہے۔ ان کے شاگرد ان کی فکر، ان کے اندازِ تدریس اور ان سے حاصل کیے گئے علم کو آگے منتقل کر رہے ہیں۔ یہی ایک حقیقی استاد کی کامیابی ہے کہ اس کی زندگی ختم ہو جاتی ہے، مگر اس کا علم نسل در نسل سفر کرتا رہتا ہے۔

سید واجد حسین شاہ صاحب مرحوم کی اصل میراث ان کے عہدے نہیں، ان کے شاگرد ہیں؛ ان کی اصل پہچان ان کے القابات نہیں، ان کا کردار ہے؛ اور ان کی اصل یادگار وہ روشن چراغ ہیں جو انہوں نے علم و تدریس کے ذریعے ہزاروں ذہنوں میں جلائے۔

اللہ تعالیٰ سید واجد حسین شاہ صاحب مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی و تدریسی خدمات کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے اور ان کے اہلِ خانہ، شاگردوں، رفقائے کار اور تمام چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

محمد راشد
وائس پرنسپل، گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول نمبر 1، مانسہرہ

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں