Skip to content

مجروح شخص بمعہ ایڈوانسڈ ایگزامینیشن، رپورٹ کتنے دن میں جاری ہونی چاہیے؟

شیئر

شیئر

کسی شخص کے زخمی ہونے کی صورت میں ابتدائی طبی معائنے کے بعد بعض معاملات میں مزید یا ایڈوانسڈ ایگزامینیشن کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ ایسے معاملات میں اضافی طبی یا فارنزک معائنے سے متعلق رپورٹ قانونی کارروائی کا اہم ریکارڈ بن سکتی ہے، اس لیے شہریوں کے لیے اس سروس کی مقررہ مدت سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔

خیبر پختونخوا رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے بروشر میں مجروح شخص بعد از ایڈوانسڈ انویسٹی گیشن کو میڈیکولیگل سروس کے طور پر شامل کیا گیا ہے اور اس کے لیے باقاعدہ مدت مقرر کی گئی ہے۔

رپورٹ کتنے دن میں جاری ہونی چاہیے؟

کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن کے مطابق مجروح شخص بعد از ایڈوانسڈ انویسٹی گیشن کی رپورٹ کے اجرا کے لیے 2 سے 7 دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔

اس سروس کے ذمہ دار افسر چیئرمین، ڈپارٹمنٹ آف فارنزک میڈیسن، خیبر میڈیکل کالج پشاور ہیں، جبکہ مقررہ مدت میں سروس نہ ملنے یا مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں اپیل کے لیے ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور متعلقہ اپیل اتھارٹی ہیں۔

ایڈوانسڈ ایگزامینیشن کے بعد رپورٹ کیوں اہم ہے؟

کسی زخمی شخص کے معاملے میں ابتدائی طبی معائنے کے بعد بعض صورتوں میں مزید طبی یا فارنزک جانچ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں اضافی معائنے سے متعلق نتائج رپورٹ کا حصہ بن سکتے ہیں۔

کے پی آر ٹی ایس میں اس سروس کو الگ میڈیکولیگل سروس کے طور پر درج کیا گیا ہے اور اس کے لیے 2 سے 7 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔

شہری کے لیے اہم بات یہ ہے کہ سروس کے لیے مقررہ مدت معلوم ہو اور درخواست یا متعلقہ کارروائی کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے تاکہ ضرورت پڑنے پر تاخیر کے معاملے کو متعلقہ اتھارٹی کے سامنے اٹھایا جا سکے۔

ذمہ دار افسر کون ہے؟

اس سروس کے لیے چیئرمین، ڈپارٹمنٹ آف فارنزک میڈیسن، خیبر میڈیکل کالج پشاور ذمہ دار افسر مقرر ہیں۔

اگر مقررہ مدت میں رپورٹ فراہم نہ کی جائے تو شہری متعلقہ اپیل اتھارٹی، یعنی ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور سے رجوع کر سکتا ہے۔

مقررہ مدت میں رپورٹ نہ ملے تو کیا کریں؟

اگر 2 سے 7 دن کی مقررہ مدت گزر جائے اور رپورٹ فراہم نہ کی جائے تو درخواست گزار کو اپنی درخواست، رسید، درخواست نمبر اور دیگر متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھنی چاہییں۔

اس کے بعد شہری ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور سے بطور اپیل اتھارٹی رجوع کر سکتا ہے۔ اپیل کے وقت یہ واضح کیا جائے کہ سروس کے لیے درخواست دی گئی تھی، مقررہ مدت گزر چکی ہے اور رپورٹ ابھی تک فراہم نہیں کی گئی۔

اگر اپیل کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو شہری کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے رابطہ کر کے مقررہ مدت میں سروس فراہم نہ ہونے کی شکایت اٹھا سکتا ہے۔

اپیل کا عملی طریقہ کیا ہے؟

سروس کے لیے درخواست دیتے وقت رسید، درخواست نمبر اور متعلقہ دستاویزات کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ اگر مقررہ 2 سے 7 دن کی مدت گزرنے کے باوجود رپورٹ نہ ملے تو پہلے متعلقہ اپیل اتھارٹی، یعنی ڈین خیبر میڈیکل کالج پشاور سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

اپیل کے وقت درخواست سے متعلق دستیاب ریکارڈ پیش کرنا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ سروس کے لیے درخواست کب دی گئی اور مقررہ مدت گزرنے کے باوجود رپورٹ فراہم نہیں ہوئی۔

اگر متعلقہ سطح پر مسئلہ حل نہ ہو تو شہری کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ کر سکتا ہے۔

میڈیکولیگل سروسز کی مدت مختلف کیوں ہے؟

میڈیکولیگل خدمات میں ہر رپورٹ یا معائنے کے لیے ایک جیسی مدت مقرر نہیں۔ مثال کے طور پر سادہ مجروح شخص کی رپورٹ کے لیے 24 گھنٹے جبکہ مجروح شخص بعد از ایڈوانسڈ انویسٹی گیشن کے لیے 2 سے 7 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح دیگر میڈیکولیگل اور آٹوپسی سروسز کے لیے بھی ان کی نوعیت کے مطابق الگ الگ مدتیں مقرر ہیں۔ اس لیے درخواست دیتے وقت متعلقہ سروس کا درست نام اور اس کے لیے مقررہ مدت معلوم کرنا ضروری ہے۔

کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ

اگر مقررہ مدت میں سرکاری سروس فراہم نہ کی جائے تو شہری کے پی رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

فون: 091-9216375
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk
ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk

شہریوں کے لیے اہم بات

مجروح شخص بعد از ایڈوانسڈ انویسٹی گیشن کی رپورٹ کے لیے مقررہ مدت 2 سے 7 دن ہے۔ اس سروس کے ذمہ دار افسر چیئرمین، ڈپارٹمنٹ آف فارنزک میڈیسن، خیبر میڈیکل کالج پشاور جبکہ اپیل اتھارٹی ڈین، خیبر میڈیکل کالج پشاور ہیں۔

مقررہ مدت گزرنے کے باوجود رپورٹ نہ ملنے کی صورت میں شہری کو درخواست اور متعلقہ ریکارڈ محفوظ رکھتے ہوئے پہلے اپیل اتھارٹی سے رجوع کرنا چاہیے۔ مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں