پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے لینڈ ریکارڈ نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کی جانب اہم پیشرفت کرتے ہوئے ای-فرد پورٹل اور ڈیجیٹل پبلک فیڈ بیک نظام کا اجرا کر دیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے نظام کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو آسان، شفاف اور تیز رفتار خدمات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل اصلاحات سے زمین کے ریکارڈ سے متعلق خدمات میں رفتار اور شفافیت مزید بہتر ہوگی۔
ای-فرد کیسے حاصل کی جا سکے گی؟
بریفنگ کے مطابق شہری اب ریونیو دفاتر کے بار بار چکر لگانے کے بجائے گھر بیٹھے یا قریبی مرکز سے فرد حاصل کر سکیں گے۔ ای-فرد کے حصول کے لیے تین چینلز دستیاب ہوں گے:
- نادرا ای سہولت مراکز
- آفیشل ویب سائٹ سیلف سروس پورٹل
- دستک ایپ
نادرا سے بائیومیٹرک تصدیق شدہ صارفین ہی ای-فرد ڈاؤن لوڈ کر سکیں گے، جبکہ فرد کی فیس ون لنک اور ایزی پیسہ کے ذریعے الیکٹرانک طور پر سرکاری خزانے میں جمع ہوگی۔
ادائیگی کے بعد ای-فرد شہری کے اکاؤنٹ میں محفوظ رہے گی اور اسے ضرورت کے وقت دوبارہ ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا۔ فرد پر موجود کیو آر کوڈ کے ذریعے مرکزی اراضی ریکارڈ سے اس کی آن لائن تصدیق بھی ممکن ہوگی۔
ریونیو خدمات کا ڈیجیٹل فیڈ بیک نظام
نئے ڈیجیٹل پبلک فیڈ بیک نظام کے تحت ریونیو خدمات حاصل کرنے والے شہریوں سے بے ترتیب بنیادوں پر ٹیلی فونک رابطہ کیا جائے گا اور ان کی رائے آواز کی صورت میں ریکارڈ کی جائے گی۔
بریفنگ کے مطابق شہری اطمینان کو چار درجات میں ریکارڈ کیا جائے گا، جبکہ غیر مطمئن شہریوں کی شکایات براہ راست ڈپٹی کمشنر کے ڈیش بورڈ پر ظاہر ہوں گی۔
حکومت کے مطابق اس نظام سے ریونیو خدمات میں تاخیر اور ناقص کارکردگی کی نشاندہی میں مدد ملے گی۔ شہریوں کے فیڈ بیک کو اضلاع کی کارکردگی اور عوامی اطمینان کی مسلسل نگرانی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ شہریوں کی رائے کو ڈپٹی کمشنرز کے ماہانہ اجلاسوں میں کارکردگی کے اہم اشاریے کے طور پر شامل کیا جائے گا، جبکہ بہترین کارکردگی والے اضلاع کی حوصلہ افزائی اور کمزور کارکردگی والے اضلاع سے جواب طلبی کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ڈیجیٹل اصلاحات زمین سے متعلق شکایات میں کمی اور لینڈ ریکارڈ نظام پر عوامی اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہوں گی۔ انہوں نے ڈیجیٹل اصلاحات کے اجرا میں کردار ادا کرنے والے حکام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے تعریفی اسناد بھی تقسیم کیں۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ لینڈ ریکارڈ میں ڈیجیٹل اصلاحات وقت کی اہم ضرورت تھیں اور حکومت عوام کو آسان، شفاف اور مؤثر خدمات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔