Skip to content

پوسٹ مارٹم کی کاپی/میڈیکولیگل رپورٹ، کتنے دن میں ملنی چاہیے؟

شیئر

شیئر

کسی شخص کی غیر طبعی موت، حادثے یا ایسے واقعے میں جس میں قانونی اور طبی تفتیش ضروری ہو، پوسٹ مارٹم اور میڈیکولیگل کارروائی سے متعلق رپورٹ اہم دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ متاثرہ خاندان یا متعلقہ فریق کے لیے اس رپورٹ کی کاپی حاصل کرنا کئی مرتبہ قانونی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں شہریوں کو مختلف سرکاری خدمات مقررہ مدت کے اندر فراہم کرنے کے لیے کے پی آر ٹی ایس کے تحت متعدد خدمات باقاعدہ طور پر نوٹیفائی کی گئی ہیں۔ انہی خدمات میں پوسٹ مارٹم کی کاپی/میڈیکولیگل رپورٹ کا حصول بھی شامل ہے۔

پوسٹ مارٹم کی کاپی کتنے دن میں ملنی چاہیے؟

کے پی آر ٹی ایس کے مطابق پوسٹ مارٹم کی کاپی یا میڈیکولیگل رپورٹ فراہم کرنے کے لیے 30 دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ یعنی درخواست جمع ہونے کے بعد متعلقہ سرکاری دفتر کو مقررہ مدت کے اندر یہ سروس فراہم کرنا ہوتی ہے۔

اس سروس کے لیے ذمہ دار افسر متعلقہ میڈیکل آفیسر برائے سول ہسپتال ہے، جبکہ مقررہ مدت میں سروس فراہم نہ ہونے کی صورت میں اپیل کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (DHO) سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

ذمہ دار افسر کون ہے؟

پوسٹ مارٹم کی کاپی یا میڈیکولیگل رپورٹ کے حصول کی درخواست پر کارروائی کی ذمہ داری متعلقہ میڈیکل آفیسر برائے سول ہسپتال کی ہوتی ہے۔

درخواست جمع کراتے وقت شہری کو اس کی رسید، درخواست نمبر یا کوئی دوسرا دستیاب ثبوت ضرور محفوظ رکھنا چاہیے۔ یہ ریکارڈ بعد میں درخواست کی تاریخ اور مقررہ مدت کا تعین کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

درخواست جمع کراتے وقت کیا احتیاط کریں؟

رپورٹ یا اس کی کاپی کے حصول کے لیے درخواست جمع کراتے وقت درخواست کی رسید یا جمع کرانے کا ثبوت اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ اگر متعلقہ دفتر کی جانب سے درخواست نمبر یا رسید نمبر فراہم کیا جائے تو اسے بھی سنبھال کر رکھنا چاہیے۔

یہ دستاویزات اس صورت میں خاص اہمیت رکھتی ہیں جب مقررہ 30 دن گزرنے کے باوجود درخواست پر کارروائی نہ ہو یا رپورٹ فراہم نہ کی جائے۔

30 دن گزر جائیں تو کیا کریں؟

اگر درخواست جمع کرانے کے بعد مقررہ 30 دن مکمل ہو جائیں اور پوسٹ مارٹم کی کاپی یا میڈیکولیگل رپورٹ فراہم نہ کی جائے تو شہری متعلقہ اپیل اتھارٹی، یعنی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سے رجوع کر سکتے ہیں۔

اپیل کے وقت درخواست کی رسید، درخواست نمبر اور دیگر متعلقہ دستاویزات ساتھ رکھنا مفید ہوگا تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ سروس کے حصول کے لیے درخواست کب جمع کرائی گئی تھی۔

اگر متعلقہ اپیل اتھارٹی سے رجوع کرنے کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو شہری مزید رہنمائی یا شکایت کے لیے کے پی آر ٹی ایس سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔

اپیل کا عملی طریقہ کیا ہے؟

مقررہ مدت گزرنے کے بعد شہری اپنی درخواست اور اس سے متعلق دستیاب ریکارڈ کے ساتھ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سے رجوع کر سکتے ہیں۔ درخواست کی رسید یا دیگر ثبوت کے ذریعے یہ واضح کیا جا سکتا ہے کہ درخواست کب جمع کرائی گئی اور مقررہ مدت کے باوجود سروس فراہم نہیں ہوئی۔

اپیل سے متعلق دستیاب رسید یا دیگر ثبوت بھی محفوظ رکھنا چاہیے تاکہ ضرورت پڑنے پر درخواست اور اپیل دونوں کا ریکارڈ پیش کیا جا سکے۔

کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ

اگر مقررہ مدت میں سروس فراہم نہ ہو یا متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کے باوجود مسئلہ حل نہ ہو تو شہری کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ کر سکتے ہیں:

فون: 091-9216375
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk
ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk

شہریوں کے لیے اہم بات

پوسٹ مارٹم یا میڈیکولیگل رپورٹ جیسے معاملات میں رپورٹ کی بروقت فراہمی اس لیے اہم ہے کہ متعلقہ خاندان یا فریق کو قانونی کارروائی کے لیے یہ دستاویز درکار ہو سکتی ہے۔ کے پی آر ٹی ایس کے بروشر کے مطابق اس سروس کے لیے 30 دن کی مدت مقرر ہے، جبکہ متعلقہ میڈیکل آفیسر برائے سول ہسپتال ذمہ دار افسر اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اپیل اتھارٹی ہیں۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں