پشاور: خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں شدید گرمی، حبس اور متوقع بارشوں کے باعث گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور اچانک سیلابی ریلوں کا خطرہ بڑھ گیا، جس کے پیش نظر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ہائی الرٹ جاری کردیا۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق 31 اگست کی رات سے 4 ستمبر تک بالائی علاقوں میں شدید گرمی اور وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ متوقع ہے، جس کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کا عمل تیز ہوسکتا ہے۔ گلیشیائی جھیلوں میں پانی کی سطح بڑھنے سے ان کے پھٹنے اور پہاڑی وادیوں میں اچانک سیلابی ریلے آنے کا خدشہ ہے۔
اتھارٹی نے اپر چترال، لوئر چترال، اپر دیر، سوات، اپر کوہستان، لوئر کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں 24 گھنٹے نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ضلعی انتظامیہ کو نشیبی آبادیوں کو ممکنہ خطرات سے بروقت آگاہ کرنے، حساس مقامات پر امدادی ٹیموں اور ضروری مشینری کی دستیابی یقینی بنانے جبکہ ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں میں ہنگامی انخلا کی مشقیں کرانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں بالخصوص سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں، گلیشیائی جھیلوں اور تنگ پہاڑی دروں کے قریب غیر ضروری قیام، کیمپنگ اور ٹریکنگ سے گریز کریں، کیونکہ اچانک آنے والی سیلابی ریلے کے باعث چند ہی لمحوں میں صورتحال خطرناک ہوسکتی ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ندی نالوں کے پانی کے بہاؤ یا رنگ میں اچانک تبدیلی، پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ یا پہاڑوں سے گڑگڑاہٹ جیسی غیر معمولی آوازیں سنائی دینے کی صورت میں شہری خطرہ مول لینے کے بجائے فوری طور پر محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل ہوجائیں۔پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال میں باہمی رابطہ مؤثر رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
اتھارٹی کا ایمرجنسی آپریشنز سینٹر 24 گھنٹے فعال رہے گا، جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا فوری مدد کی ضرورت کی صورت میں شہری ٹول فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم سے متعلق جاری ہونے والی ہدایات پر عمل کریں اور خطرناک مقامات پر جانے سے گریز کریں تاکہ ممکنہ جانی و مالی نقصان سے بچا جاسکے۔
