خیبر پختونخوا میں اسلحہ لائسنس رکھنے والے بعض شہریوں کے لیے صرف صوبے کی حدود تک لائسنس کی اجازت کافی نہیں ہوتی، بلکہ ضرورت کے مطابق لائسنس کو آل پاکستان سطح تک توسیع دینے یا لائسنس میں مقررہ کارتوس کی تعداد بڑھانے
ایسے معاملات کے لیے خیبر پختونخوا رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن میں باقاعدہ سروس موجود ہے جس کا نام ’’آل پاکستان اسلحہ لائسنس اور کارتوس میں اضافہ‘‘ ہے۔
آل پاکستان اسلحہ لائسنس کیا ہے؟
خیبر پختونخوا آرمز ایکٹ 2013 کے تحت عام طور پر صوبائی سطح پر جاری لائسنس کی حیثیت صوبے تک ہوتی ہے، تاہم حکومت اسے مخصوص طریقہ کار کے تحت آل پاکستان تک مؤثر قرار دے سکتی ہے۔
آرمز رولز 2014 کے رول 35 کے مطابق غیر ممنوعہ بور (non-restricted bore) کے لائسنس کی مدتِ اعتبار دیگر صوبوں اور وفاقی دارالحکومت تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنر یا پولیٹیکل ایجنٹ، فوجی اہلکار کی صورت میں کمانڈنگ آفیسر، یا گزیٹڈ افسر/عوامی نمائندے کی سفارش کا طریقہ قواعد میں بیان کیا گیا ہے۔
کارتوس میں اضافہ کیا ہے؟
اسلحہ لائسنس میں ہتھیار کے ساتھ کارتوس کی مجاز تعداد بھی درج ہوتی ہے۔ قانون کے مطابق حکومت وقتاً فوقتاً کارتوس کی زیادہ سے زیادہ تعداد اور لائسنس میں اس تعداد میں اضافے کا طریقہ کار مقرر کرسکتی ہے۔
اس لیے شہری اپنی مرضی سے لائسنس پر درج مقدار سے زیادہ کارتوس رکھنے یا خریدنے کا مجاز نہیں ہوتا۔ آرمز رولز کے مطابق لائسنس یافتہ شخص حکومت کی مقرر کردہ زیادہ سے زیادہ حد سے زائد اسلحہ یا ایمونیشن خرید نہیں سکتا۔
درخواست پر کون فیصلہ کرتا ہے؟
آپ کے فراہم کردہ کے پی آر ٹی ایس بروشر کے مطابق آل پاکستان اسلحہ لائسنس اور کارتوس میں اضافہ کی درخواست کے لیے:
مقررہ مدت: 10 دن
ذمہ دار افسر: ڈپٹی سیکرٹری (ایڈمن)، ہوم ڈیپارٹمنٹ
اپیلیٹ اتھارٹی: سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ
یہ تفصیلات بروشر میں اس سروس کے سامنے درج ہیں۔
درخواست گزار کے لیے بنیادی قانونی شرائط
چونکہ یہ موجودہ اسلحہ لائسنس کی توسیع یا کارتوس کی مقدار میں اضافے سے متعلق سروس ہے، اس لیے درخواست گزار کے پاس پہلے سے معتبر اسلحہ لائسنس ہونا بنیادی امر ہے۔
آرمز رولز 2014 کے مطابق لائسنس یافتہ شخص کو لائسنس میں درج شرائط اور حکومت کی مقرر کردہ حدود کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ اسلحہ اور ایمونیشن کی مقدار بھی اسی قانونی فریم ورک کے تحت آتی ہے۔
کون سی دستاویزات درکار ہوں گی؟
اس مخصوص سروس کے لیے آپ کے فراہم کردہ بروشر میں مکمل دستاویزات کی فہرست درج نہیں ہے، اس لیے کسی مخصوص کاغذ کو لازمی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
البتہ چونکہ درخواست موجودہ اسلحہ لائسنس کی آل پاکستان توسیع یا کارتوس میں اضافے سے متعلق ہے، اس لیے درخواست گزار کو اپنا اصل/معتبر اسلحہ لائسنس اور متعلقہ شناختی دستاویزات ساتھ رکھنے چاہئیں۔ حتمی دستاویزات اور تازہ طریقہ کار درخواست جمع کرانے سے پہلے متعلقہ ہوم ڈیپارٹمنٹ سے معلوم کرنا بہتر ہے۔
10 دن کی مدت کیوں اہم ہے؟
یہاں کے پی آر ٹی ایس شہری کے حق کو واضح کرتا ہے۔ بروشر میں اس سروس کے لیے 10 دن کی مقررہ مدت رکھی گئی ہے۔
یعنی درخواست متعلقہ طریقہ کار کے مطابق جمع ہونے کے بعد شہری کو معلوم ہے کہ اس نوٹیفائیڈ سروس کے لیے مقررہ مدت کیا ہے۔
البتہ 10 دن کا مطلب یہ نہیں کہ ہر درخواست لازماً منظور ہوجائے گی۔ درخواست کی منظوری قانون، لائسنس کی حیثیت، متعلقہ شرائط اور مجاز اتھارٹی کے فیصلے سے مشروط ہے۔
اگر 10 دن میں سروس نہ ملے تو کیا کریں؟
اگر درخواست مقررہ طریقے سے جمع ہوچکی ہے لیکن 10 دن گزرنے کے باوجود سروس پر کارروائی نہیں ہوتی تو شہری متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی سے رجوع کرسکتا ہے۔
بروشر کے مطابق اس سروس کی اپیلیٹ اتھارٹی سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ ہیں۔
شہری کو درخواست کی رسید، لائسنس کی نقل، شناختی دستاویزات اور دیگر متعلقہ کاغذات محفوظ رکھنے چاہئیں تاکہ اپیل یا شکایت کے وقت ثبوت فراہم کیے جاسکیں۔
اگر مسئلہ حل نہ ہو تو شہری رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا سے بھی رجوع کرسکتا ہے۔
کے پی آر ٹی ایس سے رابطہ
رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن خیبر پختونخوا
فون: 091-9216375
ویب سائٹ: www.kprts.gov.pk
ای میل: pschief.rts@kp.gov.pk
سروس آل پاکستان اسلحہ لائسنس اور کارتوس میں اضافہ
سروس نمبر 9
مقررہ مدت 10 دن
ذمہ دار افسر ڈپٹی سیکرٹری (ایڈمن)، ہوم ڈیپارٹمنٹ
اپیلیٹ اتھارٹی سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ
متعلقہ قانون خیبر پختونخوا آرمز ایکٹ 2013
متعلقہ قواعد خیبر پختونخوا آرمز رولز 2014
اہم معلومات
آل پاکستان حیثیت اور کارتوس میں اضافہ خودکار حق نہیں؛ دونوں معاملات متعلقہ قانون، قواعد اور مجاز اتھارٹی کی منظوری سے مشروط ہیں۔ آرمز رولز 2014 میں خاص طور پر غیر ممنوعہ بور کے لائسنس کی توسیع اور کارتوس کی تعداد بڑھانے کا قانونی طریقہ موجود ہے۔
