Skip to content

آمدِ رسول ﷺ اور خواتین کے حقوق

شیئر

شیئر

تحریر : راشد خان سواتی

آمدِ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ صرف ایک عظیم پیغمبر کی تشریف آوری نہیں تھی بلکہ انسانیت کے لیے رحمت، عدل، مساوات اور حقوق کے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔ آپ ﷺ ایسے معاشرے میں تشریف لائے جہاں عورت کو اکثر کم تر سمجھا جاتا تھا، بیٹی کی پیدائش پر شرمندگی محسوس کی جاتی اور بعض سنگ دل لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ کی آمد نے اس ظلم کے خلاف ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس نے عورت کو اس کا حقیقی انسانی مقام عطا کیا۔ قرآنِ کریم نے بیٹی کے قتل کو سنگین جرم قرار دیا اور زندہ دفن کی جانے والی بچی کی پکار کو قیامت کے دن انصاف کا سوال بنا دیا۔اسلام نے عورت کو بیٹی کی صورت میں رحمت، ماں کی صورت میں عظمت، بہن کی صورت میں محبت اور بیوی کی صورت میں رفاقت عطا کی۔

نبی کریم ﷺ نے عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی اور ان کے حقوق کی حفاظت کو معاشرے کی ذمہ داری قرار دیا۔آپ ﷺ نے عورت کو وراثت کا حق دیا، نکاح میں اس کی رضامندی کو اہمیت دی، اس کی عزت و عصمت کی حفاظت کی اور معاشرے کو یہ تعلیم دی کہ عورت بھی اسی انسانی عزت کی مستحق ہے جو مرد کو حاصل ہے۔

قرآنِ کریم کا واضح اعلان ہے:”اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا۔”(الحجرات: 13)یہ آیت انسانی مساوات کا بنیادی اصول بیان کرتی ہے کہ انسان کی عزت اس کی جنس نہیں بلکہ اس کے تقویٰ اور کردار سے ہے۔آج اگر بیٹی کو رحمت سمجھا جاتا ہے، ماں کے قدموں تلے جنت کا تصور زندہ ہے، بہن عزت کی علامت ہے اور عورت کو حقوقِ انسانی کے دائرے میں دیکھا جاتا ہے تو اس میں سب سے روشن کردار تعلیماتِ مصطفیٰ ﷺ کا ہے۔

آمدِ رسول ﷺ ہمیں صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ ایک عہد کرنے کا پیغام دیتی ہے:ہم بیٹیوں کو زندہ رہنے کا حق دیں گے، خواتین کی عزت کریں گے، ان کے حقوق کی حفاظت کریں گے اور ہر قسم کے ظلم و استحصال کے خلاف آواز بلند کریں گے۔کیونکہ رسولِ رحمت ﷺ نے انسانیت کو یہ سکھایا کہ عورت کمزور نہیں، قابلِ احترام انسان ہے؛ اور بیٹی بوجھ نہیں، اللہ کی رحمت ہے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں