تحریر: رخسار جاوید
’’عورتوں کو گھر میں رہنا چاہیے، باہر کی دنیا محفوظ نہیں۔‘‘
ہم نے یہ جملہ نہ جانے کتنی بار سنا ہے۔ بیٹی کو باہر جاتے ہوئے روکنا ہو، بہن کے لباس پر سوال اٹھانا ہو، بیوی کی نقل و حرکت محدود کرنی ہو یا کسی لڑکی کو اس کی آزادی یاد دلانی ہو، جواب تقریباً ایک ہی ہوتا ہے: ’’گھر میں رہو، یہی تمہارے لیے محفوظ ہے۔‘‘
لیکن اگر گھر واقعی عورت کے لیے سب سے محفوظ جگہ ہے تو پھر ان عورتوں کو کون مار رہا ہے جو اپنے ہی گھروں میں محفوظ سمجھی جاتی تھیں؟
حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے چند واقعات نے اس سوال کو ایک بار پھر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ حنا ظریف کا معاملہ ہو، حنا جاوید کا یا کسی بھی لڑکی سے جڑا حالیہ قتل، تمام واقعات میں ایک تکلیف دہ مماثلت دکھائی دیتی ہے، عورت کے تحفظ کے نام پر جس گھر، خاندان اور رشتوں پر بھروسہ کرنے کو کہا جاتا ہے، وہی کبھی کبھی اس کے لیے خطرے کی سب سے بڑی جگہ بن جاتے ہیں۔
حنا ظریف کے معاملے میں اطلاعات کے مطابق ان کے والد انہیں یہ یقین دہانی کراتے ہوئے گھر لے گئے کہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ پولیس اہلکار کی جانب سے اس حوالے سے مبینہ طور پر ریکارڈ بھی موجود تھا۔ مگر بعد میں حنا کی موت کی خبر سامنے آئی اور الزام اسی خاندان کے افراد پر آیا جن کے پاس انہیں تحفظ کے لیے واپس بھیجا گیا تھا۔
یہ صرف ایک قتل کا واقعہ نہیں۔ یہ اس سوچ پر سوال ہے جس کے تحت عورت کی حفاظت کی ذمہ داری اس کی آزادی محدود کرکے پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پھر حنا جاوید کا معاملہ سامنے آتا ہے۔ وہ اپنے گھر میں قتل ہوئیں اور پولیس نے ان کے شوہر سمیت بعض افراد کو گرفتار کیا۔ تحقیقات میں قتل کے محرکات اور گھریلو حالات کو دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ایک عورت اپنے گھر کے اندر بھی محفوظ نہیں تو صرف یہ کہنا کہ ’’باہر مت نکلو‘‘ مسئلے کا حل کیسے ہو سکتا ہے؟
ہم عورتوں کو سڑکوں سے ڈراتے ہیں، بازار سے ڈراتے ہیں، دفتر سے ڈراتے ہیں، یونیورسٹی سے ڈراتے ہیں، سوشل میڈیا سے ڈراتے ہیں۔ انہیں لباس، وقت، دوستوں، سفر اور گفتگو تک کے بارے میں احتیاط کی فہرست تھما دی جاتی ہے۔ لیکن بہت کم لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ مردوں کو عورتوں کے خلاف تشدد سے روکنے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں؟
یہاں اصل مسئلہ عورت کا گھر سے باہر نکلنا نہیں، بلکہ وہ ذہنیت ہے جو عورت کو اپنی ملکیت سمجھتی ہے۔ وہ ذہنیت جو عورت کے فیصلے کو بغاوت، اس کی آواز کو بدتمیزی اور اس کی آزادی کو خاندان کی ’’بدنامی‘‘ قرار دے دیتی ہے۔’’عزت‘‘ کے نام پر ہونے والے قتل اس ذہنیت کی انتہائی خوفناک شکل ہیں۔ کسی عورت کا قتل خاندان کی عزت بحال نہیں کرتا۔ یہ صرف ایک انسان کی زندگی ختم کرتا ہے اور معاشرے کے ضمیر پر ایک اور داغ چھوڑ جاتا ہے۔
اور یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہر قتل کو صرف ’’خاندانی معاملہ‘‘ کہہ کر نظرانداز کرنا خطرناک ہے۔ جب کسی عورت کو دھمکی دی جاتی ہے، جب اسے زبردستی گھر میں رکھا جاتا ہے، جب اس کی شکایت کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا یا جب تشدد کو خاندان کا اندرونی مسئلہ سمجھا جاتا ہے تو ہم دراصل اگلے سانحے کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہوتے ہیں۔
عورت کو محفوظ رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے گرد دیواریں بلند کر دی جائیں۔ تحفظ کا مطلب یہ ہے کہ اسے قانون، انصاف اور ایک ایسا معاشرہ ملے جہاں اسے اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی سزا نہ دی جائے۔عورت کو گھر میں بند کرنا آسان حل ہے، مگر یہ حل نہیں۔ اگر خطرناک مردوں سے نمٹنے کے بجائے عورتوں کی نقل و حرکت محدود کردی جائے تو ہم نے مسئلہ حل نہیں کیا، صرف متاثرہ شخص کو قید کردیا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم عورتوں سے یہ کہنا بند کریں کہ ’’گھر میں رہو، وہاں محفوظ ہو۔‘‘اس کے بجائے ہمیں مردوں، خاندانوں، اداروں اور ریاست سے پوچھنا ہوگا، عورت جہاں بھی ہو، اسے محفوظ رکھنے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں؟
کیونکہ ان واقعات کے بعد یہ کہنا کجا نہیں کہ چار دیواری ہمیشہ تحفظ کی علامت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی اسی چار دیواری کے اندر ایک عورت کی آخری سانس بھی چھپی ہوتی ہے۔
