Skip to content

عنایت اللہ وسیم خان کی علمی خدمات اور سماجی اقدامات کا اعتراف

شیئر

شیئر

معاشرے کی ترقی کا دارومدار صرف وسائل پر نہیں بلکہ ان شخصیات پر ہوتا ہے جو اپنے کردار، دیانت اور وژن سے نظام میں بہتری لانے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ایسے ہی افراد میں ایک نمایاں نام عنایت اللہ وسیم خان کا ہے، جو اس وقت بطور چیئرمین بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ایبٹ آباد خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ضلع مانسہرہ کے علاقے جبوڑی سے تعلق رکھنے والے عنایت اللہ وسیم خان ایک ایسے علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں تعلیم صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن رہی ہے۔ ان کے والد محترم محمد اکرم خان بطور ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن اور ہری پور ایلیمنٹری کالج میں انسٹرکٹر خدمات سرانجام دیتے رہے اور اساتذہ کی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہی مضبوط تعلیمی بنیاد ان کے بیٹے کی شخصیت میں بھی نمایاں نظر آتی ہے۔

عنایت اللہ وسیم خان نے اپنے عملی سفر کا آغاز بطور لیکچرار انگلش ایبٹ آباد پبلک سکول سے کیا۔ تدریس کے شعبے میں ان کی سنجیدگی اور طلبہ کے ساتھ ان کا مخلصانہ تعلق ان کی پہچان بنا۔ بعد ازاں وہ انتظامی میدان میں آئے اور ضلعی و صوبائی سطح پر مختلف اہم ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

بطور چیئرمین ایبٹ آباد بورڈ، ان کی کارکردگی خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ انہوں نے امتحانی نظام میں بہتری کے لیے جدید اصلاحات متعارف کروائیں، جن میں "ای-شیٹ” کا نفاذ ایک اہم قدم ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف امتحانی عمل میں آسانی پیدا ہوئی بلکہ شفافیت کو بھی یقینی بنانے میں مدد ملی۔ ایسے وقت میں جب تعلیمی نظام کو اعتماد کی بحالی کی اشد ضرورت ہے، یہ اقدامات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

ان کی قیادت کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ وہ طلبہ اور والدین سے براہ راست رابطہ رکھتے ہیں۔ مسائل کو سننا، ان کا ادراک کرنا اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ان کے طرزِ عمل کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شخصیت ایک روایتی افسر سے بڑھ کر ایک ذمہ دار راہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔

مزید برآں، ان کے خاندان کی جانب سے سرن ویلی میں ہائر سیکنڈری سکول کے لیے زمین کی فراہمی ایک قابلِ قدر سماجی خدمت ہے۔ اس اقدام سے علاقے کے ہزاروں طلبہ کو تعلیم کے بہتر مواقع میسر آئے ہیں، جو بلاشبہ ایک صدقہ جاریہ ہے۔

مختصراً، عنایت اللہ وسیم خان کی شخصیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور وژن واضح ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی نظام میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ آج جب ہم تعلیمی اصلاحات کی بات کرتے ہیں تو ایسے افراد کی خدمات کو تسلیم کرنا اور انہیں مثال کے طور پر پیش کرنا نہایت ضروری ہے۔

تحریر:راشد خان سواتی
وائس پرنسپل گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول بفہ۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں