Skip to content

پاکستان کی اجتماعی شناخت طے کرنے کا وقت

شیئر

شیئر

آج سے بارہ سال پہلے میں نے نارتھ سٹار کے سنڈے میگزین کے لیے ایک تحریرلکھی تھی

شیر افضل گوجر

یہ محض ایک تحریر نہیں تھی بلکہ ایک پاکستانی کی خواہش تھی،کچھ دعائیہ کلمات تھے جنہیں میں نے لفظوں کی صورت میں صفحہ قرطاس پر اتارا تھا٬ اس تحریر میں ریاست کے سامنے چند گزارشات پیش کی گئی تھی کہ وہ سلامتی، تجارت، علم، پیداوار اور جمہوری راستہ اپنائے، تاکہ ہمارے دامن میں بھی دنیا کو دکھانے کے لیے کچھ ہو، کوئی ایسی شناخت ہو جس پر ہم فخر کر سکیں۔یہ خواہش اس وقت تک دل و دماغ کے نہاں خانے میں کہیں نہ کہیں موجود ہے۔
آج، جب دنیا کو ایک غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے،خطے کی معیشت پیچیدہ اور خطرناک دوراہے پر کھڑی ہے اور جب ہم عالمی ذرائع ابلاغ میں اپنی ریاست کا چہرہ اور کردار دیکھتے ہیں تو ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے٬جیسے اندھیرے کے ماروں کو روشنی محسوس ہوتی ہے٬ جیسے تیز اندھی میں میں کہیں چراغ جل رہا ہو۔ایک امید سی پیدا ہوتی ہے کہ شاہد ہماری امیدوں کی منزل کی طرف سفر کا یہی نقطہ اغاز ہے۔

عالمی تاریخ اور سیاست میں متعدد لمحے ایسے ائے جو محض تاریخی واقعہ نہیں رہے بلکہ قوموں کو نئی زندگی اور شناخت دے گئے ۔یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب ریاستیں اپنے بیانیوں سے نہیں بلکہ اپنے فیصلوں سے پہچانی جاتی ہیں اور کل کے بجائے اج ان کی اصل پہچان بن جاتا ہے۔ آج پاکستان اسی نوعیت کے ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ ہر کھڑا ہے جہاں جنگ کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں اور امن کی ایک دھندلی مگر بقا سے جڑی امید بھی موجود ہے۔بھاری زمہ داری کا بوجھ بھی اٹھا رکھا ہے اور توازن بھی برقرار رکھنا ہے۔یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ ایک پل کی معمولی سے لغزش کی قیمت بہت بھاری ہے۔

اگر چہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا پاکستان سے سے برائے راست کوئی تعلق نہیں ہے اور نا ہی ہاکستان اس میں فریق ہے مگر صورتحال سے لاتعلق رہنا بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں٬اس صورتحال نے پاکستان کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں پر چند لمحوں کی خاموشی کو ایک پالیسی اور ایک ٹویٹ کو بھی ایک سفارتی پیغام کا درجہ حاصل ہے۔ ایک کروڑ کے قریب پاکستانیوں کے لیے بے روزگاری کے خطرات منڈلا رہے ہیں اور آبنائے ہرمز جیسے عالمی معاشی راستے تک خطرے میں آ گئے ۔ دنیا ایک ایسی جنگ کے دہانے پر کھڑی ہو گئی جس کے اثرات سرحدوں سے کہیں آگے نکل گئیے ہیں۔
اس ماحول میں پاکستان نے اپنے اپ کو ایک ایسے کردار کے لیے چنا ہے جو کہ دنیا کے لیے نہ صرف غیر متوقع تھا بلکہ غیر معمولی بھی۔ یہ کردار دنیا کے لیے گرم الو جیسا تھا جس کو دنیا نہ پکڑ سکتی تھی اور نہ نگل سکتی تھی۔پاکستان کی عالمی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی ممکن ہوئی ہے جسے عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ جنگ بندی وقتی سہی، مگر اس نے ایک ممکنہ تباہی کو مؤخر کر دیا ہے اور مکالمے کا دروازہ کھول دیا۔

یہ وہی پاکستان ہے جسے کچھ عرصہ پہلے تک عالمی میڈیا میں زیادہ تر دہشت گردی، عدم استحکام اور خطرے کے استعارے کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ مگر آج یہی پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جو کشیدگی کم کرنے، فریقین کے درمیان رابطہ قائم رکھنے اور جنگ کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے بھی اس کردار کو سراہا اور اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ۔
یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔
پاکستان کی اج کی خارجہ پالیسی کو اگر ایک سادہ مگر جامع جملے میں بیان کیا جائے تو شاید یوں کہا جا سکتا ہے کہ اصولوں کے ساتھ مفادات کا سمجھوتہ نہیں کیا جاتا، مگر مفادات کے بغیر اصول بھی اپنی عملی معنویت کھو دیتے ہیں۔ یہی وہ توازن ہے جس پر آج پاکستان کھڑا ہے۔
ایک طرف سعودی عرب ہے ٬ایک قریبی اتحادی، دفاعی معاہدے کا حامل دوست٬ایک معاشی سہارا، جہاں لاکھوں پاکستانی روزگار حاصل کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کے مقدسات کی سرزمین ۔ دوسری طرف ایران ہے ایک ہمسایہ،ایک تاریخی اور جغرافیائی حقیقت، جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں اور ان دونوں کے درمیان امریکہ اور چین جیسی عالمی طاقتیں ہیں، جن کے اپنے اپنے مفادات اور ترجیحات ہیں۔

یہی وہ تضاد ہے جو پاکستان کی پالیسی کو پیچیدہ بناتا ہے، مگر اسی پیچیدگی میں اس کی سفارتی مہارت کا امتحان بھی پوشیدہ ہے۔ پاکستان نے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی ہے جسے “محدود وابستگی” کہا جا سکتا ہے یعنی سب کے ساتھ تعلق رکھنا مگر کسی ایک کا حصہ نہ بن جانا ۔
پاکستان اس وقت ایک ایسے پیچیدہ کراسنگ پوائنٹ پر موجود ہے ہے جہاں ایک سمت عالمی سطح پر زمہ دار ریاست کے طور پر شناخت کے مواقع اور عالمی معیشت کو خطرات سے نکالنے کی زمہ داری ہےبتو دوسری طرف امریکہ٬ایران٬سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کا توان برقرار رکھنا٬اسرائیل سے سفارتی تعلقات بھی نہیں اور ایران امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل فیکٹر کو مد نظر بھی رکھنا٬ عالمی سفارتی نظر سے دیکھیں تو پاکستان اپنی تاریخ کا مشکل ترین کردار نبھا رہا ہے۔ ایران کی حساسیت، سعودی عرب کی توقعات، امریکہ کی پالیسی اور چین کے علاقائی مفادات یہ سب عناصر پاکستان کو مسلسل ایک نازک توازن میں رکھتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی سفارتکاری کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔
مگر اس پوری صورتحال کو صرف خارجہ پالیسی کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ اس کے ساتھ ایک اور اہم پہلو جڑا ہوا ہے عالمی شناخت٬ ایک ایسی شناخت جو ہر پاکستانی کا سر بطور شہری فخر سے بلند رکھنے کی معقول وجہ بنے ۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پاکستان کے بارے میں عالمی تصور ایک خاص سمت میں تشکیل پایا تھا، جہاں اس کا نام سنتے ہی دہشت گردی اور عدم استحکام کی ایک تصویر ذہن میں ابھرتی تھی۔پاکستانی دنیا بھر میں اس اس شناخت کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک چکے تھے۔

لیکن آج یہ تصویر بدل رہی ہے۔ اب پاکستان کا ذکر صرف خطرے کے ساتھ نہیں بلکہ امن کی کوششوں کے ساتھ بھی ہو رہا ہے۔ یہ ایک سادہ مگر گہری تبدیلی ہےایک عالمی پہچان کی تبدیلی، جس کی اہمیت کسی بھی عسکری کامیابی سے کم نہیں۔

شناخت کی دنیا میں یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ پہلے تصور بدلتا ہے اور پھر حقیقت اس کے مطابق ڈھلتی ہے۔ جب دنیا کسی ملک کو مثبت نظر سے دیکھنا شروع کرتی ہے تو اس کے ساتھ رویے بھی بدل جاتے ہیں سرمایہ کاری بڑھتی ہے، سیاحت کو فروغ ملتا ہے اور عالمی سطح پر عزت میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان شاید اسی ابتدائی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے یہ تبدیلی اور بھی اہم ہے۔ وہ لوگ جو برسوں سے اپنے ملک کے منفی تاثر کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے، اب ایک مختلف احساس کے ساتھ خود کو پیش کر سکتے ہیں۔ اب جب کوئی پاکستانی اپنا تعارف کراتا ہے تو اس کے ساتھ شرمندگی نہیں بلکہ فخر کا جذبہ جڑ سکتا ہے۔

یہ تبدیلی بظاہر نظر نہیں آتی، مگر اس کے اثرات گہرے اور دیرپا ہوتے ہیں۔
اس تمام صورتحال میں میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ جنگی حالات میں میڈیا اکثر ریاستی بیانیے کے قریب ہو جاتا ہے، مگر ایک ذمہ دار صحافت کا تقاضا یہ ہے کہ مختلف زاویوں کو بھی سامنے لایا جائے تاکہ عوام مکمل تصویر دیکھ سکیں۔ یک رخی بیانیہ وقتی طور پر فائدہ مند ہو سکتا ہے، مگر طویل المدتی طور پر یہ شعور کو محدود کر دیتا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا پاکستان واقعی غیر جانبدار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ریاست مکمل غیر جانبدار نہیں ہو سکتی،خاص طور پر وہ ریاست جو ایسے حساس جغرافیائی اور سیاسی ماحول میں موجود ہو۔ پاکستان کو اپنے مفادات کا تحفظ بھی کرنا ہے اور خطے میں امن کے لیے کردار بھی ادا کرنا ہے۔ یہی توازن اس کی پالیسی کی بنیاد ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان اکیلے اس جنگ کو نہیں روک سکتا، مگر وہ ایک اہم کردار ضرور ادا کر سکتا ہے۔ وہ رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے، کشیدگی کو کم کر سکتا ہے اور مختلف فریقوں کے درمیان بات چیت کا دروازہ کھلا رکھ سکتا ہے۔

یہ کہنا درست ہے کہ اس تمام پیش رفت سے فوری طور پر عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ نہ پٹرول سستا ہوگا، نہ بجلی کے بل کم ہوں گے اور نہ ہی روزمرہ زندگی آسان ہو جائے گی۔ مگر کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو معیشت سے بھی زیادہ اہم ہوتی ہیں ایک قوم کا وقار، ایک ملک کی عالمی پہچان اور ایک نسل کا اعتماد۔اب یہ سب کچھ ڈراموں اور کمرشل اشتہار میں نہیں پالیسی اور عمل مجں دکھائی دے رہا ہے۔

وقت کے ساتھ ایک نئی سوچ ابھر رہی ہے کہ قوموں کی عزت صرف جنگ جیتنے سے نہیں بلکہ جنگ روکنے سے بھی بنتی ہے۔اب پاکستان جنگ جیت بھج رہا ہے اور روک بھی رہا ہے٬ پاکستان کے لیے یہ لمحہ اسی سوچ کا مظہر ہے۔

اب اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے کیا کیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس موقع کو کس حد تک برقرار رکھ سکتا ہے ؟اگر یہ لمحہ مستقل حکمت عملی میں بدل گیا تو یہ ایک نئی تاریخ کی بنیاد بن سکتا ہے اور اگر یہ صرف ایک وقتی کامیابی ثابت ہوا تو یہ بھی ماضی کے کئی مواقع کی طرح گزر جائے گا۔

پاکستان اس وقت ایک ایسا کردار نبھا رہا ہے جس کے ساتھ صرف اس کی اپنی نہیں بلکہ دنیا کی معیشت، خطے کا امن اور لاکھوں انسانوں کی امیدیں جڑی ہوئی ہیں۔ اس کردار میں مواقع بھی ہیں اور خطرات بھی۔
مگر یہی پاکستان کا امتحان ہے
اور شاید یہی اس کے لیے ایک تاریخی موقع بھی۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں