پاکستان میں پاسپورٹ کا حصول لاکھوں شہریوں کے لیے نہایت اہم معاملہ ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو روزگار، تعلیم یا دیگر مقاصد کے لیے بیرونِ ملک سفر کرتے ہیں۔ ماضی قریب تک یہ نظام مختلف انتظامی مشکلات اور تاخیر کا شکار رہا، جس کے باعث شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ایسے حالات میں جب، موجودہ ڈی جی پاسپورٹ مصطفیٰ جمال قاضی نے
ذمہ داریاں سنبھالیں تو ادارے کو نہ صرف انتظامی اصلاحات بلکہ عوامی اعتماد کی بحالی کا بھی چیلنج درپیش تھا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس ادارے کی کارکردگی اور آمدنی کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس سمت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم بعض مالی اور انتظامی امور ایسے بھی ہیں جن پر حکومتی سطح پر مزید توجہ درکار ہے۔ چند سال قبل تک پاسپورٹ کے اجرا کا نظام شہریوں کے لیے خاصا مشکل سمجھا جاتا تھا۔ مختلف شہروں میں پاسپورٹ دفاتر کے باہر طویل قطاریں معمول بن چکی تھیں۔ عام پاسپورٹ کے حصول میں بعض اوقات کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اس تاخیر کی بڑی وجوہات میں پاسپورٹ بک لیٹس کی کمی، درخواستوں کا بڑھتا ہوا بوجھ اور انتظامی وسائل کی محدودیت شامل تھیں۔بیرونِ ملک روزگار کے خواہش مند افراد، طلبہ اور دیگر شہری اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے تھے۔ ان مسائل کے باعث پاسپورٹ نظام پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہو رہا تھا اور اصلاحات کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ڈی جی کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد مصطفیٰ جمال قاضی نے ادارے کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور خدمات کی رفتار بڑھانے پر خصوصی توجہ دی۔ پاسپورٹ دفاتر میں کام کے اوقات اور استعداد کار میں اضافہ کیا گیا جبکہ زیرِ التوا درخواستوں کو تیزی سے نمٹانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ادارے کے اندر نگرانی کے نظام کو بھی مؤثر بنایا گیا تاکہ درخواستوں کی بروقت تکمیل ممکن ہو سکے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں پاسپورٹ کے اجرا کے عمل میں نمایاں بہتری آئی اور شہریوں کو طویل انتظار کی مشکل سے نجات ملی۔ پاسپورٹ فیس حکومتی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اگر ادارہ مؤثر انداز میں کام کرے تو اس کے مالی نتائج بھی مثبت سامنے آتے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق چند برسوں میں اس شعبے کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔سال 2023 میں پاسپورٹ کے اجرا سے قومی خزانے کو تقریباً 36 ارب روپے کی آمدنی حاصل ہوئی تھی۔ بعد ازاں بہتر انتظامی اقدامات اور بڑھتی ہوئی کارکردگی کے باعث مالی سال 2023-24 میں یہ آمدنی بڑھ کر تقریباً 51 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اسی تسلسل میں گزشتہ سال یہ رقم مزید بڑھ کر 70 ارب روپے تک جا پہنچی، جو کہ کسی بھی لحاظ سے قابلِ ذکر پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق موجودہ سال کے لیے ادارے نے 76 ارب روپے آمدنی کا ہدف مقرر کیا ہے، جو اس شعبے کی بڑھتی ہوئی استعداد اور کارکردگی کا عکاس ہے۔سکیورٹی پرنٹنگ پریس کے بقایا جات کا معاملہپاسپورٹ کے اجرا کے عمل میں سب سے اہم مرحلہ پاسپورٹ بک لیٹس کی تیاری اور فراہمی ہے، جس میں Security Printing Corporation of Pakistan کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔اطلاعات
کے مطابق اس وقت سکیورٹی پرنٹنگ پریس کے تقریباً 9 ارب روپے کے بقایا جات موجود ہیں۔ اگر یہ ادائیگیاں مزید زیرِ التوا رہیں تو پاسپورٹ بک لیٹس کی پرنٹنگ کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ اگر بروقت ادائیگیاں نہ ہو سکیں تو پرنٹنگ کا عمل رک بھی سکتا ہے۔حکومتی حلقوں میں یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ متعلقہ اداروں کے درمیان مشاورت کے ذریعے اس معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے گا تاکہ پاسپورٹ کے اجرا کا عمل بلا تعطل جاری رہ سکے۔پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ کا ایک اہم پہلو بیرونِ ملک پاکستانی مشنز میں تعینات عملہ بھی ہے، جو اوورسیز پاکستانیوں کو پاسپورٹ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بیرونِ ملک تعینات عملے کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کے لیے مختص فنڈز میں بھی اس وقت کمی کا سامنا ہے۔اطلاعات کے مطابق رواں مالی سال میں جہاں تقریباً 34 ارب روپے کی ضرورت تھی، وہاں اب تک صرف 10 ارب روپے کی ادائیگی ہو سکی ہے۔ اس صورتحال کے باعث اربوں روپے کے شارٹ فال کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس خلا کو بروقت پورا نہ کیا گیا تو بیرونِ ملک تعینات عملے کی کارکردگی متاثر ہونے کا اندیشہ پیدا ہو سکتا ہے۔پاسپورٹ نظام کی کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے صرف ایک ادارے کی کوششیں کافی نہیں ہوتیں بلکہ مختلف سرکاری اداروں کے درمیان مؤثر تعاون بھی لازمی ہوتا ہے۔ مالی معاملات، تکنیکی سہولیات اور انتظامی ہم آہنگی اس نظام کے بنیادی ستون ہیں۔حکومتی حلقوں میں یہ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ متعلقہ وزارتیں اور ادارے باہمی مشاورت کے ذریعے ان مالی اور انتظامی امور کو جلد حل کر لیں گے تاکہ پاسپورٹ نظام کی موجودہ بہتری برقرار رہ سکے اور شہریوں کو بلا رکاوٹ سہولیات فراہم ہوتی رہیں۔گزشتہ چند برسوں کے دوران پاسپورٹ کے اجرا کے نظام میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور ادارے کی آمدنی میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بہتر انتظامی اقدامات کے ذریعے سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ساتھ ہی یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ بعض مالی اور انتظامی معاملات ایسے ہیں جن کے حل کے لیے وسیع تر حکومتی تعاون درکار ہے۔ اگر ان مسائل کو بروقت اور باہمی مشاورت کے ذریعے حل کر لیا جائے تو امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کا پاسپورٹ نظام مستقبل میں مزید مؤثر اور مستحکم ہو گا اور لاکھوں شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کرتا رہے گا۔


