عورت کا اختیار، عورت کا مقام اسلام میں ؟ اکثر غیر مسلم تو غیر مسلم مسلمانوں کے بھی خیال میں اگر عورت خود کو مکمل اسلام کے دائرے میں داخل کرتی ہے تو وہ قید ہو جاتی ہے ، اُس کا کام گھر کے کام ، خاوند کی خدمت اور ایک معاشرے کی قیدی کی سی حیثیت ہے۔ مرد اس کا حاکم اور ایک لا محدود اختیار رکھنے والا فرد ہے، وہ جو چاہے کرے، مسلم عورت کو سوال کرنے اور اپنے حق کے لیے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے
حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے، اسلام میں ہمیشہ عورت کو ایک بلند اور باوقار مقام دیا گیا ہے اور آج بھی دیا جاتا ہے. عورت کا پردہ، اس کا لباس کوئی پابندی نہیں بلکہ عورت کے باوقار اور قابل احترام مقام کا عکاس ہے۔ مسلم عورت کی حدود و قیود اُس کے ** Queen standard کو Represent کرتی ہیں نہ کہ بے اختیاری کو۔ اگر تعصب کی عینک ہٹا کر دیکھا جائے تو آج کی مسلمان عورت کو جو سہولیات میسر ہیں ، اُس کا مغربی اور غیر مسلم عورت تصور بھی نہیں کر سکتی۔
میں چند مسلمان خواتین کی مثال دینا چاہوں گی جنہوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں اپنے کاموں سے اپنے لوگوں اور انسانیت کی خدمت کی۔ اُن کا مذہب اُن کے راستے کی رکاوٹ نہیں بنا بلکہ اُن کے دین نے اُن کی پوشیدہ صلاحیتوں کو مزید اجاگر کیا۔ مثلاً:
خدیجہ الکبری
-2
پہلی اسلامی تاجر خاتون جنہوں نے اپنے سرمائے سے اسلام کی بے بہا خدمت کی۔
بی بی فاطمہ
-3-
نبی صلی علیم کی لخت جگر ، حافظہ ، زاہدہ، عابدہ اور جنت کی خواتین کی سردار ۔
-1
بی بی عائشہ
-4
مسلم فقیہا، راوی حدیث اور مفسر قرآن۔
حضرت صفیہ
سو سے زائد یہودیوں کے اسلام لانے کا باعث بنیں۔
5 بی بی زینب
خطبات اسلام کی پہچان۔
-6
عاتکہ بنت زید پانچ شہداء کی بیوہ ( کہا جاتا تھا کہ جسے شہادت کی خواہش ہو وہ عاتکہ سے نکاح کرے، ان سے کوئی
نحوست منسوب نہیں ) ۔ ۔
خولہ بنت ضرار :
-7
جنگجو صحابیہ ۔
یہ تو چند ہیں ایسی ہزاروں خواتین ہیں جنہوں نے اسلام کے پرچم کو بلند کیا، چاہے اسلام کا آغاز ہو ، اشاعت اسلام، تحفظ دین، تحریک پاکستان، تحفظ اقصیٰ یا آج کا جدید دور ، مسلم خواتین نے ہمیشہ اپنے مردوں کے شانہ بشانہ اسلام کی سربلندی اور اسلامی معاشرے کی مضبوطی اور شناخت کے لیے کام کیا ہے۔
یہ غیر مسلموں کی اسلامی تعلیمات سے دوری و ناواقفیت ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام عورتوں کو غیر ضروری طور پر قید اور محدود زندگی گزارنے پر مجبور کرتا ہے، ایسے خیالات رکھنے والے دراصل اسلام کی اصل روح سے آگاہ نہیں ہیں۔ میں ان تمام لوگوں کے خام خیالی سے اتفاق نہیں کرتی۔ اسلام اپنی پیرو کار خواتین کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے ہر جائز کام کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ ان کی خدمات کو ستائش اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات اور تاریخ سے آگاہ ہوں۔
الحمد للہ میں ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی جس کے نبی نے اپنی اُمت اور گھر کی خواتین کو ہمیشہ عزت دی۔ ہمارے دین میں خواتین کی عزت کا یہ عالم ہے کہ :
بیوی تھیں تو فرمایا: ” خدیجہ ! اگر تم کہتیں تو میں اپنے ہاتھوں سے اپنی کھال اتار دیتا ” ۔
بہن تھیں تو فرمایا: "بہن شیما ! آپ نے کیوں زحمت کی، پیغام بھجوا دیتیں، میں تمام قیدی آزاد کروا کر تمام مال غنیمت واپس کروادیتا ” ۔
بیٹی تھیں تو کالی کملی بچھا دیتے، استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے اور فرمایا: "فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا ” ۔
ماں کے لیے حسرت سے فرمایا: "کاش میری والدہ زندہ ہوتیں، میں عشاء کی باجماعت نماز میں کھڑا ہوتا، وہ پکارتی تو میں نماز توڑ کر جواب دیتا: جی یا امی ” ۔
انسانیت اور خواتین کے حقوق کے نام نہاد علمبردار جو اسلام کے پردے، محرم اور حدود پر تنقید کرتے ہیں، وہ ایپسٹن فائلز (Epstein Files) پر نظر ڈالیں اور اپنے گریبانوں میں جھانکیں۔ شرمندہ ہونے کی بجائے مسلمان خواتین پر تنقید کرنا کسی صورت درست نہیں۔ الحمد للہ ہمیں ہمارے اجداد پر فخر ہے اور ہم اپنے مستقبل سے نا امید نہیں ہیں۔
تحریر : پروفیسر کشور سلطانه


