Skip to content

خطرہ، خوف اور امید: دنیا آج کس موڑ پر ہے؟

شیئر

شیئر

دنیا آج ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں ہر خبر صرف خبر نہیں، بلکہ ایک لرزتا ہوا احساس ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جو کچھ چل رہا ہے، وہ محض دو ملکوں کا جھگڑا نہیں بلکہ پوری دنیا کی تزویراتی، اقتصادی اور انسانی تقدیر کا امتحان ہے۔ ایک طرف اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ حبشی حملے، جس میں تہران کے اہم فوجی اور سکیورٹی مقامات تباہ ہوئے، اور دوسری طرف ایران کا فضا میں کرتی ہوئی بھرپور جوابی کارروائی یہ سب ایسی چیزیں ہیں جو صرف نقشوں پر نہیں بلکہ عالمی معیشت، تیل کے نرخ، سفری پابندیوں اور ہر عام انسان کی زندگی پر اثر ڈال رہی ہیں۔

یہ لڑائی اچانک نہیں ہوئی۔ سالوں سے ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی رہی، خاص کر جب ایران کی جوہری صلاحیت اور اس کی علاقائی طاقت بڑھنے لگی اور عالمی طاقتیں خاص طور پر امریکہ نے اسے خطرہ سمجھنا شروع کیا۔ 2015 میں جوہری معاہدہ (JCPOA) اُس وقت کے لیے ایک امن کا راستہ تھا، لیکن اُس سے نکل جانے اور پابندیوں کے بڑھ جانے نے سب کچھ دوبارہ بھڑکا دیا۔

فروری 2026 میں صورتحال ایک نیا رخ لے گئی جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے جس سے نہ صرف تہران بلکہ پورے خطے میں دھماکوں کی آواز گونجی، اور متعدد ممالک میں فضائی حدود بند ہو گئیں۔ اسی کے جواب میں ایران نے سینکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے، حتیٰ کہ متحدہ عرب امارات جیسے ملک بھی نشانہ بنے، جس میں عام شہریوں کو نقصان پہنچا۔

صرف جنگی کارروائیاں ہی نہیں، بلکہ ایران میں عوامی احتجاج اور حکومت کا سخت ردِعمل بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ملکی احتجاجات کو دبانے کے لیے حکومت نے انٹرنیٹ بند کر دیا، جس سے عام لوگ نہ صرف ایک دوسرے سے رابطہ نہیں کر پا رہے، بلکہ اقتصادی نقصان بھی ہو رہا ہے اور کروڑوں ڈالرز روزانہ تباہ ہو رہے ہیں۔

اس سب کے بیچ عام لوگ سراپا تشویش ہیں۔ جنگ کی وجہ سے نہ صرف تیل کے نرخ آسمان کو چھونے لگے ہیں بلکہ عالمی معیشت میں اضطراب، انفلیشن اور سرمایہ کاری کی کمی جیسے بحران بھی جنم لے رہے ہیں۔

یہ لڑائی صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہی اثرات پوری دنیا میں محسوس ہو رہے ہیں۔ جہاز رانی کے راستے بند، فلائٹس منسوخ، ایندھن مہنگا، عام چیزیں سستی نہیں، ہر چین کی شے پر جنگ کا سایہ پڑا ہوا ہے۔

تو آخر اس کا اصل حل کیا ہے؟ دنیا کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگ کا واحد راستہ سفارت، مذاکرات اور سیاسی تصفیہ ہے — تب ہی غیر ضروری خونریزی روکی جا سکتی ہے، اور عالمی اقتصادی نظام کو پھر سے ریلیف مل سکتا ہے۔ بہت سے ملکوں نے کہا ہے کہ طاقت کی زبان پہلی ترجیح نہیں ہونی چاہیے، بلکہ امن مذاکرات، جوہری معاہدوں کی بحالی، اور انسانی حقوق کی بحالی پر زور دینا چاہیے۔

اسرائیل‑ایران کا تنازعہ ہمیں صرف یہ نہیں دکھاتا کہ جنگ کتنی تباہ کن ہے، بلکہ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ دنیا جتنی جڑی ہوئی ہے، ایک چھوٹا سا واقعہ بھی پوری دنیا میں ہلچل مچا سکتا ہے چاہے وہ تیل کے نرخ ہوں، عام لوگوں کی زندگی ہو، یا معاشی بحران۔

اگر ہم سب ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ جنگ کی بجائے کیا ممکن ہے کہ ہم امن، سمجھوتہ، اور مذاکرات کو ترجیح دیں؟ شاید تبھی وہ دن آئے جب دنیا سوچے کہ جنگ صرف طاقت کا اظہار نہیں، بلکہ انسانیت کا زہر بھی ہے۔

تحریر : اشراق سید

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں