عمرخان جوزوی
اللہ کے پیارے حبیبﷺ جس مہینے کاپہلے سے انتظاراور اہتمام فرمایاکرتے تھے وہ مہینہ شروع ہوچکاہے۔جس وقت قارئین یہ سطورپڑھ رہے ہوں گے اس وقت عرب دنیامیں پانچواں اورہماراانشاء اللہ چوتھاروزہ ہوگا۔رمضان کایہ مہینہ اورتیس روزے ایسے گزرجاتے ہیں کہ پتہ ہی نہیں چلتا۔کچھ لوگ روزوں کے شروع شروع میں تنگ ہوجاتے ہیں لیکن جسم کی مشینری اورعادتیں جب نئی روٹ پرسیدھی ہوجاتی ہیں توپھرپتہ ہی نہیں چلتا۔ہمارے ایک دوست ہیں احسان اللہ جوچناروں کے شہرایبٹ آبادمیں برادرم ندیم خان کے پڑوس میں رہتے ہیں،یہ کپتان کے پکے ٹکے مریدہیں۔ان کے سامنے سیاست کے بارے میں کوئی لفظ بول دیں پھرخاموشی سے ان کوسنتے جائیں۔ ندیم خان اس کونکہ یوتھیاکہتے ہیں جبکہ اس کے کام اورکرتوت وڈے یوتھیوں سے بھی آگے ہیں۔اس جناب کی لمبی لمبی چھوڑنے اوربولنے کی کچھ عادتیں واقعی بڑے یوتھیوں جیسی ہیں لیکن کبھی کبھاریہ ایسی کوئی اچھی اورگہری بات بھی کہہ دیتے ہیں کہ دل خوش ہوجاتاہے۔پہلے روزے پر کسی نے احسان سے پوچھاکہ روزوں نے تنگ تونہیں کیا۔؟پتہ ہے اس نکے خان نے کیاجواب دیا۔بولے روزے بھی کوئی تنگ کرنے والی چیزہے۔؟تم روزوں کوتنگ نہ کروتویہ تمہیں کچھ نہیں کہتے۔ انسان اگرروزے کوروزے کی نیت سے دیکھے اوررکھے توروزے سے دل،روح اورجسم کوجوسکون ملتاہے اتناچین اورسکون شائدکہ کسی اورچیزسے نہ ملے۔دین اسلام میں ماہ رمضان کو ایک خاص اہمیت،فضیلت اورحیثیت حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نیک اوربرگزیدہ بندے آج کے دورمیں بھی ماہ دوپہلے رجب وشعبان سے اس مبارک مہینے کی تیاریاں شروع کردیتے ہیں۔رمضان سال بھر کے اسلامی مہینوں میں سب سے زیادہ عظمتوں، برکتوں، رحمتوں اور فضیلتوں والا مہینہ ہے۔روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے اوررمضان کے روزے ہر مسلمان،عاقل، بالغ مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت سے ثابت ہے۔بلاکسی عذر روزہ نہ رکھنے والا فاسق اور اس کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔رمضان المبارک کوئی بھوک اورپیاس کانام نہیں بلکہ یہ رب کی طرف سے مسلمانوں باالخصوص ہمارے جیسے گناہ گاروں کے لئے اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم تحفہ اورنعمت ہے جس پرہم رب کا جتنابھی شکراداکریں وہ کم ہے۔اس تحفے اورنعمت کی قدروہی لوگ جانتے ہیں جنہیں ماہ رمضان کی رحمتوں،برکتوں اورنعمتوں کاحقیقی معنوں میں احساس اوراندازہ ہے۔رمضان یہ وہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ کی رحمتوں اوربرکتوں کادائرہ اتناوسیع ہوجاتاہے کہ مسلمان اللہ کی نعمتیں سمیٹتے سمیٹتے تھک جاتے ہیں لیکن اللہ کی رحمتیں اوربرکتیں کم نہیں ہوتیں۔اس مہینے میں ہرنیک عمل کااجروثواب ڈبل سے ٹرپل ہوجاتاہے۔ رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی آسمانوں اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اوردوزخ کے دروازوں کو بند کردیا جاتا ہے۔سرکش شیاطین کو مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے، مومن کا رزق اور نیکیوں کا اجر و ثواب بڑھادیا جاتا ہے۔علمائے کرام سے سناہے کہ اس مبارک مہینے میں نفل فرض کے برابر اور ایک فرض ستر فرائض کے برابر ہوجاتا ہے۔علمائے کرام فرماتے ہیں کہ رمضان میں ایک مرتبہ سبحان اللہ کہہ لینا غیر رمضان میں کئی بار کہہ لینے سے بہتر ہے۔یہی وہ مبارک مہینہ ہے جس کی ایک ایک ساعت،لمحہ اورگھڑی قیمتی بلکہ بہت قیمتی ہے۔اس مہینے میں رب کی طرف سے یہ اعلان ہوتا ہے کہ،،ہے کوئی دعا مانگنے والا،، میں اس کی دعا قبول کروں۔؟ ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا میں اس کو بخش دوں۔؟ ہے کوئی گناہوں سے توبہ کرنے والا میں اس کی توبہ قبول کروں۔؟ کیا ہے کوئی صحت مانگنے والا! میں اس کو صحت وعافیت دوں۔؟۔“ اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نداء کا نتیجہ ہے کہ اہل ِ ایمان کا رجحان و میلان رمضان المبارک میں خیر اور سعادت والے اعمال کی طرف بڑھ جاتا ہے۔یہاں تک کہ غیر محتاط آزاد منش عام مسلمان بھی رمضان میں اپنی روش بدل لیتے ہیں۔صحابہ کرام،اولیاء کرام اورمشائح عظام اس مہینے کاپہلے سے خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ہم توسحری وافطاری کے لئے انواع واقسام کے کھانے پکانے کواہتمام کہتے اورسمجھتے ہیں لیکن معذرت کے ساتھ یہ رمضان کااہتمام نہیں۔ماناکہ سحروافطاررمضان کاحصہ ہے اوراس کیلئے کھانے پینے کی اشیاء کااہتمام وانتخاب کرناہرروزہ دارکی ضرورت ہے مگررمضان کے اہتمام کاہرگزیہ مطلب نہیں کہ اس بابرکت مہینے کی مبارک ساعتوں اورقبولیت کی گھڑیوں کوسحروافطارکے لئے کھانے پینے کی اشیاء جمع کرنے پرصرف کی جائیں۔اہتمام کامطلب یہ ہے کہ اس مہینے میں ذکرواذکار،تلاوت،نوافل اوردیگرعبادات کاخصوصی اہتمام کیاجائے۔یہی وہ مہینہ توہے جس میں روٹھے رب کومنایاجاسکتاہے،اس مہینے میں بھی اگرروٹھے رب کوراضی نہ کیا جائے توپھرکس مہینے میں خداکوراضی کیاجائے گا۔؟روٹھے رب کومنانے اورخداکوراضی کرنے کااصل مہینہ تویہی ہے۔اس مہینے میں تقویٰ،پرہیزگاری،ذکرواذکاراورعبادات کی وجہ سے بندہ اللہ کے بہت قریب پہنچ جاتاہے۔بلاکسی شک وشبہ کے ماہ رمضان کمائی کامہینہ،ذریعہ اوربہانہ ہے پر یہ ان ڈالروں والی کمائی کاذریعہ اوربہانہ ہرگزنہیں۔اس مقدس مہینے میں کمائی کے بارے میں ہم نے جو سمجھ رکھاہے وہ باالکل غلط ہے۔ہمارے ہاں ایک رواج اورہم سب کی ایک عادت سی بن گئی ہے کہ جب بھی رمضان کامقدس مہینہ شروع ہوتاہے توہم دس روپے کی چیزسواورسوکی پانچ سوروپے تک پہنچاکررمضان کے کھاتے میں کمائی شروع کردیتے ہیں یہ کمائی نہیں بلکہ وہ لوٹ مارہے جسے اسلام نے حرام قراردیاہے۔رمضان کی کمائی یہ نہیں کہ سوروپے کی شئے پانچ سواورہزارروپے پربیچ دی جائے بلکہ رمضان کی کمائی تو یہ ہے کہ اس مہینے میں روزوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ تقویٰ اورپرہیزگاری حاصل کرکے ذکرواذکاراورعبادات کی صورت میں ثواب اورنیکیوں کی کمائی کرکے لوٹ ماراورگناہوں سے توبہ کی جائے۔جولوگ اس مہینے میں صدق دل سے توبہ کرکے عبادات میں مشغول رہتے ہیں وہ نہ صرف اس مبارک مہینے کے ذریعے دنیاوآخرت کی بہت سی کامیابیاں حاصل کرلیتے ہیں بلکہ وہ اپنے روٹھے رب کومنانے میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں۔رب اس مبارک مہینے اوران مبارک ساعتوں کوہمارے اس پیارے ملک اورقوم کے لئے بھی مبارک بنادے۔آمین
—

