Skip to content

انٹرپول کے ذریعے سعودی عرب سے دو قتلاور گاڑی چوری کا مفرور ملزم سابق پولیس ملازم عزیرعرف ٹیپو پاکستان منتقل، مانسہرہ پولیس کے حوالے

شیئر

شیئر

مانسہرہ

اسلام آباد انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول) اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) کے باہمی تعاون سے مانسہرہ میں دو قتلوں اور گاڑی چوری کے مقدمات میں مطلوب مفرور ملزم سابق پولیس اہلکار عزیر بن محمد عرف ٹیپو کو سعودی عرب سے پاکستان منتقل کر دیا گیا۔ ملزم کو سعودی حکام نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا، جہاں سے اسے مانسہرہ پولیس کی اسکارٹ ٹیم نے اپنی تحویل میں لے لیا۔ملزم اور اس کے دیگر ساتھیوں کے خلاف 16 دسمبر 2020 کو تھانہ سٹی میں علت نمبر 1252 اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 181A کے تحت مدعی محمد عثمان انور ولد قاضی محمد سلطان کی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا۔دوسرا مقدمہ 13 جولائی 2022 کو مسماة ریحانہ بیوہ محمد شبیر کی مدعیت میں علت نمبر 626 اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 کے تحت تھانہ سٹی مانسہرہ میں درج ہے جبکہ تیسرا مقدمہ 15 دسمبر 2023 کو علت نمبر 1698 اور تعزیرات پاکستان کی دفعات 302/324/427/148/149 لعل خان تنولی ولد فضل الرحمان کی مدعیت میں درج ہوا۔

نیشنل سنٹرل بیورو (NCB) انٹرپول پاکستان کے مطابق ملزم عزیر بن محمد کے خلاف تھانہ سٹی مانسہرہ میں مقدمہ نمبر 1698 مورخہ 15 دسمبر 2023 درج ہے، جس میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 324، 427، 148 اور 149 شامل ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس کنٹرول نمبر A-4005/3-2025 جاری کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق سعودی عرب میں تعینات این سی بی انٹرپول ریاض نے 9 فروری 2026 کو اطلاع دی کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کے تحت سعودی حکام نے ملزم کو پاکستانی حکام کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں ملزم کو سعودی ایئر لائن کی پرواز SV724 کے ذریعے 15 فروری 2026 کو صبح 8:10 بجے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچایا گیا۔

ملزم کے ہمراہ سعودی سیکیورٹی ٹیم کے افسران، جن میں کیپٹن راکان الراشود، سارجنٹ سلطان القحطانی اور وائس سارجنٹ یاسر السہلی شامل تھے، نے ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ملزم کو ایف آئی اے امیگریشن حکام کے ذریعے مانسہرہ پولیس کے حوالے کیا۔ سعودی اسکارٹ ٹیم اسی روز سعودی ایئر لائن کی پرواز SV725 کے ذریعے واپس روانہ ہو گئی۔

این سی بی انٹرپول پاکستان نے اس سے قبل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انویسٹی گیشن مانسہرہ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ایف آئی اے امیگریشن اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ملزم کی حوالگی کے لیے خصوصی پولیس اسکارٹ ٹیم کا انتظام کریں اور کارروائی مکمل ہونے کے بعد متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے ضلع مانسہرہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کے خلاف درج مقدمات کی روشنی میں کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ انٹرپول کے ذریعے ملزم کی گرفتاری اور حوالگی دونوں ممالک کے درمیان مؤثر سیکیورٹی تعاون کی اہم مثال ہے، جس سے سنگین جرائم میں ملوث مفرور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں مدد ملتی ہے۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں