تحریر : راشد خان سواتی
سرن ویلی کی تعلیمی فضاؤں، بالخصوص Government Girls High School Jabbori اور اہلیانِ جبوڑی کے لیے آج کا دن نہایت ہی رنج و الم کا دن ہے۔ وہ مایہ ناز، معتبر، باعمل اور باوقار معلمہ، عالمہ فاضلہ، اور کم از کم ہماری تین نسلوں کی استاد آمنہ کلثوم باجی، سینئر عربی ٹیچر اچانک اپنے بچوں، اپنی طالبات اور ہم سب کو داغِ مفارقت دے کر اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
کہنے کو تو وہ عربی کی استاد تھیں، مگر حقیقت میں وہ ہر فن مولا تھیں۔ شہری علاقے اور دینی ماحول میں پرورش پانے کے باعث راسخ العقیدہ، نظریاتی طور پر مضبوط اور کردار میں بے مثال تھیں۔ اپنی طالبات کے لیے وہ ایک شفیق ماں، ساتھی کولیگز کے لیے ایک مہربان بہن، اور علاقے کے لوگوں کے لیے سکول کا وہ مثبت چہرہ تھیں جن کی وجہ سے ادارے کو وقار، رعب اور اعتماد نصیب ہوا۔
ڈھونڈو گے ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
مجھے آج بھی یاد ہے جب میں نے اپنے نجی سکول میں میڈم ناہید باجی اور مس آمنہ کلثوم باجی کو بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا۔ وہاں مس آمنہ کلثوم باجی نے اپنی شاگردوں سے مخاطب ہو کر کہا:
“راشد سر دنیاوی لوگ ہیں، یہ دنیاوی تعلیم کو پروموٹ کریں گے، مگر تم نے ان کے رنگ میں نہیں رنگنا۔ تم نے خاص طور پر طالبات کے عقیدے، کردار اور تربیت پر محنت کرنی ہے۔”
یہ جملے نہ خوشامد تھے، نہ مصلحت؛ بلکہ ایک بہادر استاد کا بے باک، خالص اور ماں جیسا لہجہ تھا—ایسی ماں جو اولاد کی کوتاہیوں پر نظر رکھتی ہے اور اصلاح سے پیچھے نہیں ہٹتی۔
شاید ہی گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جبوڑی کی کوئی طالبہ ہو جو مس آمنہ کلثوم سے متاثر نہ ہوئی ہو۔ ان کی شخصیت خود ایک درس تھی۔ وہ اس نظریے کی عملی تصویر تھیں کہ استاد کو بہادر اور دلیر ہونا چاہیے۔
ان کی دلیری کا ایک روشن پہلو ان کی ذاتی زندگی بھی تھی۔ ان کے شریکِ حیات، ہمارے دوست قاری عبد الرحمن صاحب، انہیں بیوگی کے عالم میں چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گئے۔ شوہر کی جدائی کا صدمہ، کمسن بچے، اور گھر سے میلوں دور سرکاری فرائض—یہ سب آزمائشیں ایک ساتھ آئیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ حوصلے کے ساتھ انہوں نے نہ صرف اپنے بچوں کی بہترین پرورش کی بلکہ اسی استقامت کے ساتھ اپنے تدریسی فرائض بھی انجام دیتی رہیں۔
ہاں، انہوں نے اپنی سی کوشش کرتے ہوئے تبادلے کے لیے متعدد درخواستیں دیں، محکمۂ تعلیم کے دروازے کھٹکھٹائے، مگر شاید تقدیر کو یہی منظور تھا کہ ایک بہادر استانی، ایک بہادر ماں، ساتھی استانیوں کے لیے دلیر بہن، سکول انتظامیہ کے لیے فعال اور ہمہ جہت کارکن، اور اہلیانِ جبوڑی کے لیے ایک مثال—اسی مٹی میں اپنی جدائی رقم کرے۔
واقعی، مس آمنہ کلثوم کی جدائی، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جبوڑی سے ہی لکھی تھی۔
الوداع آمنہ باجی! الوداع!
اس گلشنِ جبوڑی میں یہ رنگ جو سارے ہیں
تم نے ہی لہو دے کر یہ نقش سنوارے ہیں
تم نے ہی لہو دے کر یہ نقش سنوارے ہیں
اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، اور پسماندگان، طالبات اور ہم سب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

