Skip to content

ایبٹ آباد بورڈ میں ای شیٹ کا تعارف اور اس کی افادیت

شیئر

شیئر

ایبٹ آباد بورڈ میں امتحانات کے لیے ای شیٹ کے ذریعے بعض مضامین کی اسسمنٹ اور کمپیوٹر بیس مارکنگ کا آغاز نہایت خوش آئند اور قابل تعریف اقدام ہے۔ اس سے پہلے فیڈرل بورڈ اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں جوابی پرچے کے لیے یہی ای شیٹ استعمال کی جا رہی تھی، جس نے امتحانات کے معیار اور درستگی میں نمایاں بہتری لائی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس کے فوائد کو طلبا تک پہنچایا جائے تاکہ وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

عام شیٹ پر پرچہ حل کرتے وقت بعض طلبا غیر ضروری ہیڈنگز لکھ دیتے ہیں یا لائن اور اسپیس چھوڑ کر جواب دیتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں اضافی شیٹس کی ضرورت پڑتی ہے۔ امتحان کے دوران ایگزامینر بھی مجبور ہو جاتا ہے کہ اضافی شیٹس رکھنے والے طلبا کو زیادہ نمبر دے، خاص طور پر جہاں ہیڈنگز زیادہ ہوں یا اضافی صفحات ہوں۔ میں نے بحیثیت استاد خود مشاہدہ کیا ہے کہ بعض طلبا عام سوالات کے جوابات میں بھی سیاق و سباق اور حوالہ متن لکھ دیتے ہیں اور پھر اس کی ہیڈنگ بھی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اردو کے ایک مختصر سوال میں، جیسے "اقبال وطن پرستی کے کیوں مخالف تھے؟”، طلبا سبق کا نام "اقبال کا تصور وطنیت” اور مصنف کا نام "ڈاکٹر وحید قریشی” لکھ دیتے ہیں، حالانکہ جواب صرف سوال کے مطابق دینا ہوتا ہے۔ نتیجتاً وہ چار نمبر کے سوال میں اضافی معلومات لکھنے کے باوجود پورے نمبر حاصل کر لیتے ہیں، جو کہ درست جواب دینے والے طالب علم کے ساتھ غیر منصفانہ ہے۔

ای شیٹ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ کم از کم ٹودی پوائنٹ لکھنے والے طلبا نقصان سے بچ جائیں گے اور پرچے کو مشین پر مارک کرنے کی صورت میں مختلف ایپس سے لکھا گیا مواد بھی ٹریس ہو سکے گا۔ اس سے طلبا کی تخلیقی صلاحیتیں بھی سامنے آئیں گی اور پرانے مارکنگ کے فرسودہ نظام سے بھی نجات ملے گی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ طلبا کو صرف ایک شیٹ کے استعمال کے طریقہ سے آگاہ نہ کیا جائے بلکہ اس کی افادیت بھی سمجھائی جائے۔ لکھنا اور سمجھنا اس پر اتنا مشکل نہیں جتنا لگتا؛ بچے سمجھدار ہیں، بس انہیں اس کی اہمیت اور فوائد بتانے کی ضرورت ہے۔ ارباب اختیار کو چاہیے کہ صرف ایک یا دو مضامین تک محدود نہ رہیں، بلکہ تمام مضامین کے پرچے ای شیٹ کے ذریعے لیے جائیں، جیسا کہ فیڈرل بورڈ اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ہو رہا ہے۔ اس سے نہ صرف امتحانات کا معیار بلند ہوگا بلکہ طلبا کی محنت اور صلاحیتوں کا حقیقی اندازہ بھی لگایا جا سکے گا، اور فرسودہ مارکنگ کے نظام سے جان چھوٹے گی

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں