شاہ زمان حنیف
عثمانی سلطنت کے زوال سے امت مسلمہ کا شیرازہ کیسے بکھرا۔ حصہ دوئم۔مغربی طاقتوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف جو جال بچھایا، وہ محض عسکری محاذ تک محدود نہیں تھا بلکہ ایک ہمہ جہت، طویل المدت اور نہایت چالاک حکمتِ عملی پر مبنی منصوبہ تھا۔ یہ جال سیاسی سازشوں، سفارتی دباؤ، فکری یلغار، معاشی انحصار اور داخلی انتشار کو ہوا دینے جیسے ہتھکنڈوں سے تیار کیا گیا، جس کا حتمی مقصد عالمِ اسلام کے اس مرکزی اقتدار کو ختم کرنا تھا جو صدیوں سے یورپ کی توسیع پسندانہ خواہشات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا تھا۔یورپی طاقتیں بخوبی جانتی تھیں کہ سلطنتِ عثمانیہ کو محض میدانِ جنگ میں شکست دینا آسان نہیں، اس لیے انہوں نے اندر سے کھوکھلا کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی۔ سب سے پہلے عثمانی ریاست کو “مردِ بیمارِ یورپ” قرار دے کر اس کی ساکھ کو عالمی سطح پر کمزور کیا گیا۔ اس اصطلاح کے ذریعے یہ تاثر پھیلایا گیا کہ یہ سلطنت اب اپنی عمر پوری کر چکی ہے اور اس کے خاتمے میں ہی دنیا کا بھلا ہے۔ اس فکری یلغار نے عثمانیوں کے دوستوں کو بدظن اور دشمنوں کو مزید جری کر دیا۔سیاسی سطح پر یورپی طاقتوں نے عثمانی دربار میں اپنے حامی پیدا کیے۔ اصلاحات کے نام پر ایسے قوانین اور نظام متعارف کروائے گئے جو بظاہر جدیدیت کی علامت تھے، مگر درحقیقت اسلامی سیاسی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا ذریعہ بنے۔ تنظیمات (Tanzimat) کے دور میں یورپی طرزِ قانون، عدالتی نظام اور بیوروکریسی نافذ کی گئی، جس سے ریاست کی نظریاتی بنیادیں متزلزل ہوئیں اور اشرافیہ مغربی فکر سے متاثر ہوتی چلی گئی۔معاشی جال اس سازش کا ایک نہایت مؤثر ہتھیار تھا۔ یورپی بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ذریعے عثمانی سلطنت کو قرضوں کے جال میں جکڑ دیا گیا۔ جنگوں اور انتظامی اخراجات کے بہانے لیے گئے قرضے آہستہ آہستہ اس حد تک بڑھ گئے کہ ریاست کی آمدنی کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں صرف ہونے لگا۔ نتیجتاً “عثمانی پبلک ڈیٹ ایڈمنسٹریشن” جیسے ادارے قائم ہوئے، جن کے ذریعے مغربی طاقتوں نے عثمانی معیشت پر براہِ راست کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ درحقیقت سیاسی غلامی کی ایک خاموش شکل تھی۔سفارتی محاذ پر “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی پوری مہارت سے استعمال کی گئی۔ سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ نگیں مختلف قومیتوں اور مذہبی گروہوں میں علیحدگی کے جذبات کو ہوا دی گئی۔ بلقان میں عیسائی آبادی کو آزادی اور قوم پرستی کے نام پر بغاوت پر آمادہ کیا گیا، جبکہ عرب علاقوں میں ترکوں کے خلاف نفرت پیدا کی گئی۔ کرنل ٹی۔ای۔ لارنس جیسے کردار اسی منصوبے کا حصہ تھے، جنہوں نے عربوں کو خلافت سے بغاوت پر اکسایا اور آزادی کے سبز باغ دکھائے، جو بعد میں محض ایک فریب ثابت ہوئے۔فکری اور تعلیمی میدان میں بھی مغربی طاقتوں نے بھرپور سرمایہ کاری کی۔ مشنری اسکولوں، تعلیمی اداروں اور اخبارات کے ذریعے مغربی تہذیب کو برتر اور اسلامی نظام کو فرسودہ ثابت کیا گیا۔ نئی نسل کو یہ باور کرایا گیا کہ ترقی کا واحد راستہ مغرب کی اندھی تقلید ہے۔ اس فکری یلغار نے عثمانی معاشرے میں خود اعتمادی کو کمزور کیا اور ایک ذہنی غلامی کو جنم دیا، جو جسمانی غلامی سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔عسکری سطح پر یورپی طاقتوں نے بیک وقت دوہری پالیسی اپنائی۔ ایک طرف عثمانی فوج کو جدید اسلحہ فراہم کر کے اسے اپنے اسلحہ ساز کارخانوں کا محتاج بنایا، اور دوسری طرف جنگی حکمتِ عملی، انٹیلی جنس اور سپلائی لائنز پر بالواسطہ کنٹرول حاصل کر لیا۔ پہلی جنگِ عظیم میں عثمانیوں کو ایک ایسے اتحاد میں دھکیلا گیا جو درحقیقت ان کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ جنگ کے دوران بغاوتیں، محاذوں پر ناکامیاں اور رسد کی کمی نے سلطنت کی کمر توڑ دی۔جنگ کے بعد اصل چہرہ اس سازش کا کھل کر سامنے آیا۔ عربوں سے کیے گئے وعدے یکسر فراموش کر دیے گئے اور سائیکس پیکو معاہدے کے تحت عثمانی علاقوں کو برطانیہ اور فرانس نے آپس میں بانٹ لیا۔ فلسطین میں یہودی
آبادکاری کی راہ ہموار کی گئی، جو بعد میں پورے مشرقِ وسطیٰ کے عدم استحکام کی بنیاد بنی۔ اس تقسیم کا مقصد مضبوط ریاستیں بنانا نہیں تھا بلکہ ایسی کمزور اور باہم متصادم اکائیاں پیدا کرنا تھا جو ہمیشہ مغربی طاقتوں کی محتاج رہیں۔حقیقت یہ ہے کہ مغربی طاقتوں کا یہ جال اس وقت تک کامیاب نہ ہوتا اگر عثمانی سلطنت اندر سے کمزور نہ ہو چکی ہوتی۔ داخلی نااہلی، انصاف کی کمزوری، علمی جمود اور عوام و حکمرانوں کے درمیان فاصلے نے اس سازش کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ مگر اس سے مغربی طاقتوں کی ذمہ داری کم نہیں ہو جاتی، جنہوں نے اخلاقی اصولوں کو پامال کر کے پوری مسلم دنیا کے نقشے کو اپنے مفادات کے مطابق بدل دیا۔ آج کا عالمی منظرنامہ اسی جال کی عکاسی کررہا ہے جو سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف بچھایا گیا تھا۔ فرقہ واریت، معاشی انحصار، فکری مرعوبیت اور سیاسی مداخلت اسی پرانے کھیل کے نئے مہرے ہیں۔ اگر عالمِ اسلام اس تاریخ سے سبق نہ سیکھا تو اندیشہ ہے کہ یہ جال مزید مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔ اصل ضرورت خود احتسابی، فکری بیداری، باہمی اتحاد اور خود انحصاری کی ہے، کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جو قومیں دوسروں کے جال کو نہ پہچان سکیں، وہ بار بار اسی میں پھنسنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ہندوستان کو میدان جنگ میں دھول چٹانے کے بعد پاکستان بظاہر عالمی سطح پر محو اڑان ہے،وہ ہی عالمی طاقتیں چشمِ براہ ہیںجن کی آنکھوں میں وطن عزیز کانٹے کی مانند تھا۔۔کہیں ایسان تو نہیں کہ اس دل افروزی کے پس پردہ کوئی نئی چال کار فرما ہے۔ اہل علم و دانش اور ملکی سلامتی کے ذمہ داروں کو "سب اچھا” کی امید پر آنکھیں بند رکھنے کے بجائے ہمہ تن ہوشیار رہنا چاہیے۔ "

