شاہ زمان حنیف
کیابے مہار سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں ایک باخبر صحافی چراغ کا متبادل ہوسکتا ہے، جو اطلاعات کے اندھیروں میں راستہ دکھانے کاکردار ادا کر سکے! ڈیجیٹل انقلاب نے جہاں دنیا کو ایک عالمی ویلیج میں بدل دیا ہے، وہیں اطلاعات کے بہاؤ کو بھی بے مثال رفتار عطا کی ہے۔ آج خبر چند لمحوں میں ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پہنچ جاتی ہے، مگر اس اجلت کے ساتھ ایک بڑا المیہ اوربحران بھی جنم لے چکا ہے، مثلاًجھوٹی خبروں، افواہوں اور من گھڑت بیانیوں کی یلغار۔ پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں سیاسی درجہ حرارت اکثر ب آسمان کی بلندیوں پر رہتا ہےاور عوامی جذبات جلد متاثر ہو جاتے ہیں، وہاں ایک باخبر اور ذمہ دار صحافی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔سوشل میڈیا نے ہر فرد کو گویا ایک "نام نہادصحافی” بنا دیا ہے۔ فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، یوٹیوب اور واٹس ایپ پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ اطلاعات اکثر حقیقت کا لبادہ اوڑھ کر عوامی رائے کو گمراہ کرتی ہیں۔ کبھی کسی سیاسی رہنما کے بارے میں جھوٹی خبر، کبھی کسی مذہبی معاملے پر اشتعال انگیز ویڈیو، اور کبھی کسی قومی سانحے کے حوالے سے غلط اعداد و شمار؛یہ سب معاشرتی انتشار کو جنم دیتے ہیں۔ ان حالات میں اصل صحافت کا امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ صحافی محض خبر پہنچانے والا نہیں بلکہ حقیقت کا محافظ اور نگہبان بھی ہوتا ہے۔
ایک باخبر صحافی کی پہلی اور بنیادی خصوصیت سچائی سے غیر متزلزل وابستگی ہے۔ خبر دینے میں جلد بازی کے بجائے تصدیق کو ترجیح دینا ہی پیشہ ورانہ دیانت داری کی علامت ہے۔ پاکستان میں کئی مواقع پر دیکھا گیا کہ غیر مصدقہ خبروں نے نہ صرف عوام میں خوف و ہراس پھیلایا بلکہ بعض اوقات ریاستی اداروں اور سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچایا۔ لہٰذا ایک ذمہ دار صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ خبر کی اشاعت سے پہلے کم از کم دو معتبر ذرائع سے تصدیق کرے اور اگر کسی اطلاع میں ابہام ہو تو اسے واضح طور پر بیان کرے۔دوسری اہم خصوصیت غیر جانبداری ہے۔ ہمارے ہاں میڈیا پر اکثر سیاسی وابستگی یا نظریاتی جھکاؤ کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ایک حقیقی صحافی کو چاہیے کہ وہ ذاتی پسند و ناپسند سے بالا ہو کر محض حقائق کی بنیاد پر رپورٹنگ کرے۔ غیر جانبداری کا مطلب یہ نہیں کہ صحافی حق اور باطل میں فرق نہ کرے، بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ تمام فریقین کا مؤقف دیانت داری سے پیش کرے تاکہ قاری یا ناظر خود نتیجہ اخذ کر سکے۔
تیسری خصوصیت تنقیدی شعور ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں ہر وائرل ہونے والی چیز خبر نہیں ہوتی۔ ایک باخبر صحافی کو یہ صلاحیت حاصل ہونی چاہیے کہ وہ معلومات کے سیلاب میں سے اہم اور غیر اہم کا فرق کر سکے۔ مثال کے طور پر، کسی ویڈیو کلپ کا سیاق و سباق جانے بغیر اسے نشر کر دینا صحافتی بددیانتی کے مترادف ہے۔ تنقیدی سوچ ہی صحافی کو محض اطلاع رسانی سے اٹھا کر فکری رہنمائی کے مقام تک لے جاتی ہے۔چوتھی خصوصیت ڈیجیٹل مہارت ہے۔ جدید صحافی کے لیے صرف قلم یا مائیکروفون کافی نہیں رہا؛ اسے فیک نیوز کی پہچان، ڈیٹا جرنلزم، اور آن لائن تحقیق کے جدید ذرائع سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں فیکٹ چیکنگ ادارے اب صحافت کا لازمی حصہ بن چکے ہیں، اور پاکستان میں بھی اس رجحان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر صحافی خود ڈیجیٹل دھوکے کا شکار ہو جائے تو وہ معاشرے کی رہنمائی کیسے کرے گا؟
ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ ایک صحافی پر چند بنیادی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ سب سے پہلی ذمہ داری عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔ خبر کا مقصد محض سنسنی پھیلانا نہیں بلکہ لوگوں کو باخبر کرنا ہے۔ ریٹنگ یا کلکس کی دوڑ میں بعض اوقات میڈیا ایسے موضوعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے جو معاشرے میں بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ ایک ذمہ دار صحافی کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس کی خبر عوام کو کیا دے رہی ہے؛آگہی یا اضطراب؟دوسری ذمہ داری معاشرتی ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہے۔ پاکستان ایک کثیرالثقافتی اور مذہبی تنوع رکھنے والا ملک ہے، جہاں معمولی سی غلط خبر بھی فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے سکتی ہے۔ اس لیے الفاظ کا چناؤ، لہجے کی شائستگی، اور خبر کی پیشکش میں توازن بے حد ضروری ہے۔ صحافت کی آزادی اپنی جگہ مسلمہ ہے، مگر آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس نہ ہو تو یہی آزادی انتشار کا سبب بن سکتی ہے۔تیسری ذمہ داری احتساب کو فروغ دینا ہے۔ صحافت کو اکثر ریاست کا "چوتھا ستون” کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ طاقت کے مراکز پر نظر رکھتی ہے۔ مگر احتساب کا یہ عمل تبھی مؤثر ہوگا جب صحافی خود بھی شفافیت کا مظاہرہ کرے۔ اگر کوئی خبر غلط ثابت ہو جائے تو اس کی تصحیح میں ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں بلکہ پیشہ ورانہ بلوغت اور پختگی کی علامت ہے۔چوتھی ذمہ داری تعلیم اور شعور کی ترویج ہے۔ پاکستان میں خواندگی کی شرح اور میڈیا لٹریسی ابھی اس سطح پر نہیں پہنچی جہاں ہر فرد خبر اور پروپیگنڈے میں فرق کر سکے۔ ایسے میں صحافی کا کردار ایک استاد جیسا ہو جاتا ہے، جو نہ صرف اطلاع دیتا ہے بلکہ اپنے سامعین کو سوچنے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔ تحقیق پر مبنی فیچر، پس منظر کی وضاحت، اور پیچیدہ معاملات کو سادہ انداز میں بیان کرنا اسی ذمہ داری کا حصہ ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض اوقات صحافت کو کاروباری مفادات یا سیاسی دباؤ کا سامنا بھی رہتا ہے۔ ایسے ماحول میں سچ لکھنا بلاشبہ ایک مشکل کام ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ وہی صحافی زندہ رہتے ہیں جو اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ معاشرے کا اعتماد کسی چینل یا اخبار کو نہیں بلکہ اس کے کردار کو حاصل ہوتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافتی ادارے اپنے نمائندوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں، فیکٹ چیکنگ کے نظام کو مضبوط بنائیں، اور اخلاقی ضابطوں پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔ جامعات میں صحافت کے نصاب کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا تاکہ نئی نسل محض خبر نویسی نہیں بلکہ ذمہ دارانہ ابلاغ سیکھ کر میدان میں اترے۔بے مہار سوشل میڈیا کے اس دور میں ایک باخبر صحافی چراغ کی مانند ہے، جو اطلاعات کے اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔ اگر یہ چراغ کمزور پڑ جائے تو افواہیں روشنی کا روپ دھار لیتی ہیں اور سچ دھندلا جاتا ہے۔ لہٰذا صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ سچائی، غیر جانبداری اور ذمہ داری کو اپنا شعار بنائے، کیونکہ مضبوط صحافت ہی مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ پاکستان کو آج ایسے ہی باشعور اور نڈر صحافیوں کی ضرورت ہے، جو نہ صرف خبر دیں بلکہ قوم کی فکری سمت بھی متعین کریں۔

