Skip to content

انگریزی تراجمِ قرآن کا تقابلی جائزہ

شیئر

شیئر

محمد اویس

قرآن مجید کے کئی انگریزی تراجم مشہور ومعروف ہیں۔ہر مترجم نے اپنی فکری تربیت، علمی پس منظر اور زمانے کی زبان کے مطابق اسے پیش کرنے کی بہترین کوشش کی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی ترجمہ دوسرے سے کم ہے، بلکہ ہر ایک نے اپنے دور کے قارئین کے لیے عربی متن کے مفہوم کو زیادہ مؤثر، قابلِ فہم اور روان انداز میں منتقل کرنے کی سعی کی ہے۔
زبان وقت کے ساتھ بدلتی ہے، پڑھنے کے انداز میں تبدیلی آتی ہے، اور اسی لیے کسی نہ کسی مترجم کا اسلوب اپنے زمانے میں سب سے زیادہ فطری اور موزوں سمجھا جاتا رہا ہے۔ جدید دور کے قارئین کے لیے یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ کس ترجمے کا اسلوب آج کے وقت میں زیادہ readable اور contemporary محسوس ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہم کسی مترجم کے علمی مقام یا سعی کو کم کرنے کی ناکام کوشش کریں۔

یہاں ہم پورے قرآن کے تراجم کا جائزہ نہیں لے رہے، بلکہ صرف ایک آیت، سورۃ البقرہ (2:186)، کے ذریعے مختلف تراجم کو تقابلی طور پر دیکھنے کی کوشش کریں گے۔

ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم تمام قرآن کے تراجم کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں، بلکہ صرف یہ سمجھنا ہے کہ اس ایک آیت کے ترجمے میں کون سا اسلوب زمانے کے بدلتے رجحانات اور جدید پڑھنے کے تقاضوں کے مطابق سب سے زیادہ فطری، روان اور قابلِ فہم ہے۔ ہر مترجم، چاہے وہ قدیم ہو یا معاصر، اپنے دور میں علمی لحاظ سے ممتاز رہا ہے، اور ہم سب کے علمی اعتراف کے ساتھ اس جائزے کو پیش کر رہے ہیں تاکہ قارئین آسانی سے سمجھ سکیں کہ عربی متن کا مفہوم مختلف علمی روایات میں کیسے منتقل ہوا، اور آج کے دور میں کس ترجمے کی زبان اور روانی سب سے زیادہ مناسب اور readable ہے۔

آیت مبارکہ یہ ہے
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ

مارماڈیوک پکتھال (Marmaduke Pickthall، 1875–1936) ایک برطانوی نژاد مسلمان اسکالر تھے جنہوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں قرآن کا مشہور انگریزی ترجمہ کیا۔ ان کا ترجمہ یہ ہے:
“And when My servants question thee concerning Me, then surely I am nigh. I answer the prayer of the suppliant when he crieth unto Me. So let them hear My call and let them trust in Me, in order that they may be led aright.”

پکتھال صاحب کے ترجمے کا اسلوب کلاسیکی انگریزی پر مبنی ہے جس میں (thee, thy, crieth, nigh) جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ زبان آج کے قاری کے لیے نسبتاً قدیم اور نامانوس سی محسوس ہوتی ہے۔ مفہوم درست ہے، مگر جدید قاری کے لیے (accessibility) کم ہو جاتی ہے اور ترجمہ قدرے رسمی اور پرانی زبان میں ڈھل جاتاہے۔

عبد اللہ یوسف علی صاحب ( 1872–1953) برصغیر کے معروف مترجم اور مفسر تھے۔ ان کا ترجمہ یوں ہے:
“When My servants ask thee concerning Me, I am indeed close (to them): I listen to the prayer of every suppliant when he calleth on Me: Let them also, with a will, Listen to My call, and believe in Me: That they may walk in the right way.”

یوسف علی صاحب کا ترجمہ اگرچہ پکتھال سے قدرے آسان ہے، مگر پھر بھی (thee, calleth) جیسی قدیم زبان رکھتا ہے۔ اس میں تشریحی انداز زیادہ ہے اور بعض جگہ مفہوم میں (interpretive expansion) نظر آتی ہے، جو ترجمہ کو جدید سادہ اسلوب سے کچھ دور لے جاتی ہے۔

مولانا عبد الماجد دریا آبادی صاحب ( 1892–1977) ایک بہت بڑا نام ہے ۔ ان کا ترجمہ یہ ہے:
“And when My bondmen ask thee regarding Me, then surely I am nigh. I answer the call of the caller, when he calls Me; so let them answer Me and believe in Me, haply they may be directed.”

دریا آبادی صاحب کا ترجمہ علمی اور فصیح ہے، مگر یہاں بھی (bondmen, thee, nigh, haply) جیسے الفاظ قدیم انگریزی روایت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ اسلوب اپنے زمانے کے لیے موزوں تھا، مگر آج کے قاری کے لیے یہ زبان (archaic tone) رکھتی ہے اور جدید فہم کے لیے نسبتاً کم براہِ راست ہے۔

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی صاحب ( 1903–1979) کے تفہیم القرآن سے کون واقف نہیں۔انگریزی ترجمہ جناب پروفیسر ظفر اسحاق انصاری صاحب نے کیا تھا۔ ان کا ترجمہ یہ ہے:
“(O Muhammad), when My servants ask you about Me, tell them I am quite near; I hear and answer the call of the caller whenever he calls Me. Let them listen to My call and believe in Me; perhaps they will be guided aright.”

یہ ترجمہinterpretive ہے، جس میں آیت کے معنوی پہلوؤں کو واضح کرنے کے لیے (quite near, I hear and answer the prayer of the suppliant) جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ تاہم، طویل اور elaborate جملے، اور literal simplicity کی کمی، reading flow اور modern readability میں تھوڑی رکاوٹ پیدا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ترجمہ آسان اور سلیس انداز میں اثر ڈالنے کے لحاظ سے کچھ محدود محسوس ہوتا ہے۔

(Saheeh International) جو ایک جدید اجتماعی ترجمہ ہے، اس کا متن یہ ہے:
“And when My servants ask you, [O Muḥammad], concerning Me – indeed I am near. I respond to the invocation of the supplicant when he calls upon Me. So let them respond to Me [by obedience] and believe in Me that they may be [rightly] guided.”

یہ ترجمہ جدید انگریزی میں ہے اور کافی حد تک (accurate) اور (neutral) ہے، مگر اس میں بریکٹس کے ذریعے تشریح شامل کی گئی ہے جیسے ([by obedience])، جو ترجمہ کو قدرے (interpretive) بنا دیتی ہے اور خالص روانی میں کمی آتی ہے۔

ڈاکٹر مصطفیٰ خطاب صاحب کا ترجمہ جدید دور میں بہت مقبول ہے۔ ان کا ترجمہ یوں ہے:
“When My servants ask you ˹O Prophet˺ about Me: I am truly near. I respond to one’s prayer when they call upon Me. So let them respond ˹with obedience˺ to Me and believe in Me, perhaps they will be guided ˹to the Right Way˺.”

یہ ترجمہ نہایت روان اور جدید ہے، مگر یہاں بھی (with obedience, to the Right Way) جیسی توضیحات شامل کر کے مفہوم کو تشریحی رنگ دیا گیا ہے، جس سے یہ ترجمہ زیادہ (reader-friendly) تو بنتا ہے مگر بعض اہلِ علم کے نزدیک یہ (interpretive translation) کے قریب ہو جاتا ہے۔

جاوید احمد غامدی صاحب کا ترجمہ و فکری اسلوب خاص زاویہ رکھتا ہے۔ان کا انگریزی ترجمہ جناب شہزاد سلیم صاحب نے کیا۔(حال ہی میں جناب پروفیسر عبدالرحیم قدوائی صاحب نے ان کے اسلوب پہ تفصیلاً تحریر فرمایا ہے)۔ان کا ترجمہ یہ ہے:
“And [O Prophet!] When My servants question you about [any of My directives, tell them:] I am near them [at this time]. I answer the prayer of the suppliant when he calls Me; therefore, let them follow My directive and put their faith in Me so that they remain on the right path.”

غامدی صاحب کے ترجمے میں فکری تشریح بہت نمایاں ہے، جیسے ([any of My directives], [at this time])، جو ترجمہ کو واضح طور پر ایک مخصوص (interpretive framework) میں لے جاتا ہے۔ یہ علمی لحاظ سے ایک زاویہ ہے، مگر عام قاری کے لیے یہ ترجمہ کم اور تفسیر زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

اب اگر ہم مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ترجمے کو دیکھیں تو وہ یوں ہے:
“When My servants ask you about Me, then (tell them that) I am near. I respond to the call of one when he prays to Me; so they should respond to Me, and have faith in Me, so that they may be on the right path.”
مفتی تقی عثمانی صاحب کا ترجمہ ایک غیر معمولی توازن رکھتا ہے۔ اس میں نہ تو قدیم انگریزی کی سختی ہے اور نہ ہی ضرورت سے زیادہ تشریح۔ ان کا اسلوب (modern but dignified) ہے، مفہوم (accurate) ہے، اور زبان (natural contemporary English) کے قریب ہے۔ یہاں (respond, have faith, right path) جیسے الفاظ سادہ بھی ہیں اور معنوی طور پر مضبوط بھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ترجمہ نہ صرف علمی حلقوں کے لیے قابلِ قبول ہے بلکہ عام قاری کے لیے بھی نہایت (accessible) اور (balanced) ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو قدیم مترجمین کا اسلوب اپنی جگہ علمی اہمیت رکھتا ہے۔جدید مترجمین نے زبان کو آسان بنایا ہے، مگر مفتی تقی عثمانی کا ترجمہ اس لحاظ سے نمایاں ہے کہ وہ روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک ایسا توازن قائم کرتا ہے ۔ یہی وہ وجہ ہے کہ تقریباً ہر انگریزی زبان سے شناسا کو یہ ترجمہ سب سے زیادہ representative اور recommended لگتا ہے، بغیر اس کے کہ کسی دوسرے کی علمی محنت یا قدر کم ہو۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں