(روضۂ رسول ﷺ پر الوداعی سلام)
تحریر: راشد خان سواتی
آج جمعہ المبارک مسجدِ نبوی ﷺ میں اور روضۂ رسول ﷺ پر میرا الوداعی سلام تھا۔
سلام پیش کرنے سے پہلے ہی، جب روضۂ اقدس ﷺ کی طرف بڑھا، تو سلام کے الفاظ زبان تک آتے آتے رک گئے۔ ہچکی بندھ گئی اور آنسوؤں نے میری بے بسی اور بے چارگی کی گواہی دینا شروع کر دی۔ سرکارِ مدینہ ﷺ کی نگری سے جدائی ہم جیسے ناتواں اور کمزور دل لوگوں کے لیے سنبھالنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن محسوس ہوتی ہے۔
آج مجھے اس آیتِ مبارکہ کی گہرائی کچھ سمجھ آئی:
﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾
جب حضور اکرم ﷺ نے پردہ فرمایا تو جانثار صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دلوں پر جو قیامت ٹوٹی، اس کرب کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
آج اسی جدائی کا ایک ادنیٰ سا عکس دل پر اترا۔
یہ سوچ دل کو مزید بوجھل کر رہی تھی کہ سرکار ﷺ کے در سے بچھڑ کر اب دنیا کی مصروفیات میں دربدر ہونا پڑے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ احساسِ محرومی کے ساتھ بے مقصد زندگی کی گاڑی کھینچتے ہوئے منزل سے بھٹک جاؤں اور ان پرکیف ایام کی لذت سے محروم ہو جاؤں۔ دل چاہتا تھا کہ دھاڑیں مار مار کر روؤں، مگر مدینہ کے ادب میں تو کائنات بھی ٹھہر جاتی ہے—یہاں خاموشی اور سکون کا راج ہے۔
بڑی مشکل سے روضۂ رسول ﷺ کے عین سامنے الفاظ کو یکجا کیا اور رسولِ کریم ﷺ کے محبوب ناموں کے ساتھ سلام پیش کرنا شروع کیا۔ آنسوؤں میں بھیگا ہوا سلام تھا:
اسلام علیک یا صاحبُ المعراج ﷺ
یہ کہتے ہوئے یارِ غار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی سلام پیش کیا۔
اسلام علیک یا صاحبُ السیف ﷺ
کہتے ہوئے امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو سلام عرض کیا۔
اسلام علیک یا صاحبُ العلم والکمال ﷺ
کے ساتھ مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو سلام کہا۔
اسلام علیک یا صاحبُ القرآن ﷺ
کہتے ہوئے سیدنا عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کو سلام پیش کیا۔
اسلام علیک یا صاحبُ الجمال ﷺ
کہتے ہوئے ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور تمام امہات المؤمنین کو الوداعی سلام عرض کیا۔
اسلام علیک یا صاحبُ الجنۃ ﷺ
کہتے ہوئے عشرۂ مبشرہ، کاتبینِ وحی اور تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو سلامی دی۔
پھر بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا:
اسلام علیک یا رسول اللہ ﷺ
اسلام علیک یا سید المرسلین ﷺ
اسلام علیک یا امام المتقین ﷺ
اسلام علیک یا احمد ﷺ
اسلام علیک یا مزمل ﷺ
اسلام علیک یا مدثر ﷺ
اسلام علیک یا نبیَّ التوبہ ﷺ
اسلام علیک یا صاحبَ المغفرہ ﷺ
اسلام علیک یا صاحبَ الشفاعۃ ﷺ
جب اسلام علیک یا صاحبَ الکوثر ﷺ تک پہنچا تو دل دھک دھک کرنے لگا۔
یہ الوداعی سلام تھا اور دل میں یہ خوف بھی کہ صاحبِ کوثر ﷺ کے دربار میں میری شنوائی کیسے ہو؟ میں تو گناہگار ہوں، فقیر ہوں؛ طلب تو ہے مگر طریقہ نہیں۔ رسولِ پاک ﷺ کی شفاعت اور رحمت کے بغیر حوضِ کوثر کی امید کیسے رکھوں؟
روتے ہوئے، بے اختیار زبان سے نکلا:
اسلام علیک یا اباالقاسم ﷺ
اسلام علیک یا اباابراہیم ﷺ
اسلام علیک یا ابوفاطمہ ﷺ
بس اسلام علیک یا ابو زہراء ﷺ کہنے کی دیر تھی کہ دل کو سکون مل گیا۔
کیونکہ بیٹی فاطمہؓ—خاتونِ جنت سیدہ زہرہ بتولؓ—کی بات تو رسولِ کریم ﷺ کبھی نہیں ٹالتے۔
بی بی فاطمہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا کے نام نوافل کی نیت کے ساتھ اور اس امید پر رخصت ہوا کہ خاتونِ جنتؓ بابا حضور ﷺ کے سامنے ہماری حوضِ کوثر پر سفارش کریں گی، اور ان شاء اللہ دوبارہ سرکار ﷺ کے روضۂ اقدس پر حاضری نصیب ہوگی۔
اسی امید، اسی دعا اور اسی لرزتے دل کے ساتھ:
اسلام علیک یا رحمۃً للعالمین ﷺ
تنِ فرسودہ، جاں پارہ


