منیبہ
یہ کہانی مانسہرہ (بیدرہ چوک ) سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی ہے ۔ ہنسا ایک سادہ مگر باہمت خاندان سے تعلق رکھتی تھی جب وہ میٹرک کی تعلیم حاصل کر رہی تھی، اس کے والد کا انتقال ہو گیا۔اس کا والد کھیتوں میں مزدوری کیا کرتا تھا ۔والد کی وفات نے گھر کی ذمہ داریوں کو اچانک اس کے کندھوں پر ڈال دیا۔ اس کی والدہ کی طبیعت اکثر خراب رہتی تھی، اور گھر کے مالی حالات بھی زیادہ بہتر نہیں تھے۔
ہنسا نے ان سب مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔ اس نے نہ صرف اپنی تعلیم جاری رکھی بلکہ اسکول میں اپنی ذہانت کی وجہ سے اعلیٰ پوزیشنیں بھی حاصل کیں۔ ہنسا ہر قسم کے مقابلوں میں حصہ لیتی اور انعامات بھی وصول کرتی رہی ۔

صبح اسکول جاتی، دن میں لوگوں کے گھروں میں برتن دھونے اور صفائی کے کام کرتی تاکہ گھر اور اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کر سکے۔وہ لوگوں کے گھروں میں برتن دھویا کرتی تھی اور اس سے ہونے والی کماںی سے وہ گھر کا خرچہ چلایا کرتی تھی ۔

ہنسا کا کہنا ہے جب وہ کام لوگوں کے گھروں میں کرتی تو لوگوں اس کے ساتھ عجیب برتاؤ کیا کرتے ۔ کبھی کبھی لیٹ جانے کی وجہ سے مالکن اس کی بے عزتی کیا کرتی لیکن اس کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری وہ بہت خوددار تھی اتنی مشکلات کے باوجود کسی سے مدد طلب نہیں کی ۔

رات کو گھر کے کاموں کے بعد اپنی پڑھائی مکمل کرتی۔ اس طرح ہنسا نے خود کو تعلیم اور محنت میں مصروف رکھ کر ہر مشکل کا مقابلہ کیا۔ رات دیر تک وہ پڑھتی رہتی ۔

ہنسا کا کہنا ہے کہ جب اس نے میٹرک کا امتحان پاس کیا تو اس کی دوست نے مشورہ دیا کہ وہ بینڈز بنانا سیکھئے اور ساتھ سیلاںی کا کام بھی سیکھے اپنی دوست کے مشورہ سے اس نے معمولی سیلاںی سینٹر میں داخلہ لیا اور بڑی دلچسپی سے کام سیکھا تین ماہ بعد وہ اپنی ذہانت کی وجہ سے کام سیکھ گئی ۔میٹرک کے بعد تین مہینوں کے وقفہ میں ہنسا نے سادہ مگر مفید ہنر سیکھنا شروعہ کیا۔ اس نے ہینڈ میڈ بینڈز اور چھوٹے کرافٹ آئٹمز بنانا شروع کیے۔ رات کے وقت، گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر، وہ یہ چیزیں بناتی اور اس کی دوست نے اسے انسٹاگرام پر اپنے کام کی تصاویر شیئر کرنے کا مشورہ دیا ۔اس کے کام میں خوبصورتی کی وجہ سے لوگوں نے اسےآہستہ آہستہ اآرڈرز دینا شروع ہو گئے اور وہ ہزاروں روپے کمانے لگی۔ یہ آمدنی نہ صرف اس کے لیے بلکہ اس کے گھر کے لیے بھی ایک مضبوط سہارا بن گئی۔ اس نے بہت سے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزیں فروخت کرنا شروع کی ۔

مشکل حالات کے باوجود ہنسا نے تعلیم کا سفر جاری رکھا اور اپنی گریجویشن مکمل کی۔ اور اب وہ پراںٔیویٹ اسکول میں بطور سینیئر اردو ٹیچر کی خدمات دے رہی ہے ۔اور ساتھ ساتھ اپنی والدہ کا علاج بھی کر رہی ہے وہ سکول پڑھانے جاتی ہے اور واپسی پر کپڑے سلائی کرتی ہے اس سے آنے والے پیسوں کو اپنی والدہ کا علاج کرتی ہے اور گھر کا خرچہ چلاتی ہے ۔

وقت بہت مشکل تھا لوگوں کی باتیں بھی برداشت کرنا پڑتی ۔ہنسا کا کہنا ہے کہ اس نے باقی لوگوں سے مختلف زندگی گزاری بچپن سے ہی محرومیاں تھی والد کی کمی اور بہن بھائی کا نہ ہونا ۔اکیلے لڑکی اپنی والدہ کے ساتھ زندگی گزاری ۔
لیکن ہنسا نے خود کو ٹوٹنے نہیں دیا۔ اس نے حوصلہ
اور محنت کے ساتھ زندگی کے ہر امتحان کا سامنا کیا۔
آج ہنسا ایک ہمت والی اور مضبوط انسان ہے۔ وہ اپنے گھر اور والدہ کو سہارا دے رہی ہے اور ہر مشکل کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر کھڑی ہوتی ہے۔ ہنسا کی کہانی یہ سکھاتی ہے کہ اصل کامیابی دولت میں نہیں بلکہ حوصلے، محنت، ذہانت، ذمہ داری اور ثابت قدمی میں ہے۔
