Skip to content

سلاںئ مشین کے ذریعے درجنوں خاندان کی کفالت کرنے والی خاتون 

شیئر

شیئر

مونیبہ

مانسہرہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والی عائشہ کی زندگی اس دن یکسر بدل گئی جب اس کے شوہر ایک شدید کار حادثے کا شکار ہو گئے۔ حادثہ اچانک ہوا، مگر اس کے اثرات عمر بھر کے لیے ثابت ہوئے۔ شوہر کی ٹانگیں بری طرح ٹوٹ گئیں، کئی مہینوں کا علاج چلا، مگر وہ دوبارہ چلنے کے قابل نہ ہو سکے۔ 

وہ شخص جو ایک دکان پر کام کرتا تھا اور گھر کے لیے واحد ذریعۂ آمدن تھا، معذوری کی زندگی پر مجبور ہو گیا۔ اسی ایک لمحے میں گھر کی آمدن، سکون اور مستقبل کے سارے منصوبے ختم ہو گئے۔حادثے سے پہلے عائشہ کی زندگی سادہ مگر متوازن تھی۔ شوہر کی کمائی سے گھر کا خرچ چل جاتا تھا، دونوں بیٹیاں محفوظ ماحول میں پل رہی تھیں اور زندگی اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی۔ اس کا شوہر ایک جوتوں کی دکان پر کام کرتا تھا اور ساتھ ساتھ کھیتوں میں بھی مزدوری کرتا تھا 

 مگر حادثے کے بعد اسپتال کے لمبے دن، دواؤں کے اخراجات اور مسلسل دیکھ بھال نے عائشہ کو اندر سے توڑ دیا۔ اصل مشکل اس وقت شروع ہوئی جب علاج جاری رہا مگر آمدن مکمل طور پر رک گئی۔شوہر کے بستر سے لگتے ہی عائشہ کے کندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ آن پڑا۔ ایک معذور شوہر کی دیکھ بھال، بیمار ساس کی خدمت، گھر کے اخراجات اور بچوں کا مستقبل — سب کچھ ایک عورت کو سنبھالنا پڑا۔ کچھ عرصے بعد سسر کا انتقال بھی ہو گیا، جس سے گھر کی فضا مزید اداس ہو گئی۔ عائشہ کہتی ہے کہ وہ راتوں کو جاگ کر سوچتی رہتی تھی کہ کل بچوں کے لیے کیا انتظام کرے گی اور علاج کے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ کچھ عرصہ اس نے اپنی جمع کی ہوئی رقم سے علاج کرنا شروع کیا وہ مرکزی کلینک جاتی اور ادوایات خرید کر لاتی تھی ۔

اس مشکل وقت میں سب سے زیادہ تکلیف دہ چیز اپنوں کی بے حسی تھی۔ عائشہ کے بھائیوں نے مالی مدد سے انکار کر دیا۔ رشتہ دار آہستہ آہستہ دور ہوتے گئے۔ محلے والوں نے چند دن ہمدردی دکھائی، پھر سوال اور طنز شروع ہو گئے۔ لوگ کہتے تھے کہ ایک عورت کب تک معذور شوہر اور دو بچوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ یہ جملے عائشہ کے لیے روز کا امتحان بن گئے، مگر اس نے خود کو بکھرنے نہیں دیا۔عائشہ کی دو بیٹیاں ہیں۔ ایک بیٹی پیدائشی طور پر معذور ہے، جسے مسلسل توجہ اور خاص دیکھ بھال کی ضرورت رہتی ہے۔ اس کی بیٹی اپاہج ہونے کے ساتھ ساتھ دماغی طور پر بھی کمزور تھی۔

 

دوسری بیٹی صحت مند ہے اور مانسہرہ کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ عائشہ کے لیے سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ کہیں حالات اس کی بیٹی کی تعلیم نہ چھین لیں۔ اس نے دل میں ٹھان لی تھی کہ چاہے کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو، وہ اپنی محنت سے اسکول کی فیس ادا کرے گی۔

مایوسی کے انہی دنوں میں عائشہ کو اپنی ماں یاد آتی رہی، جو سلائی کا کام کیا کرتی تھیں۔ بچپن میں عائشہ نے بھی کپڑے سینا سیکھا تھا، مگر شادی کے بعد گھریلو ذمہ داریوں میں یہ ہنر پیچھے رہ گیا تھا۔ شوہر کے حادثے کے بعد جب ہر دروازہ بند نظر آیا تو اسی پرانے ہنر نے اسے ایک نیا راستہ دکھایا۔ اس موڑ پر عائشہ کی بہن اس کا سب سے بڑا سہارا بنی۔ اسی بہن نے نہ صرف اسے قرض دیا بلکہ حوصلہ بھی دیا اور عملی مدد بھی کی۔

عائشہ نے بہن سے ملنے والے قرض سے ایک پرانی سلائی مشین خریدی۔ شروع میں نہ آرڈر تھے نہ اعتماد۔ محلے کی عورتیں سوال کرتی تھیں کہ اگر اسے سلائی آتی تھی تو پہلے کیوں نہیں کی۔ بعض دن ایسے بھی گزرے جب وہ صبح سے شام تک مشین کے پاس بیٹھی رہتی اور ایک بھی کپڑا نہیں سِلتا۔ کبھی دھاگہ کم پڑ جاتا، کبھی کپڑا خراب ہو جاتا، اور کبھی محنت کے مطابق پیسے نہیں ملتے۔ مگر عائشہ نے ہار ماننے کے بجائے ہر مشکل سے سیکھنے کا فیصلہ کیا۔

اسی دوران اس کی بہن اسے محلے کی چند عورتوں کے ایک چھوٹے سے بوتیک پر لے گئی۔ یہ کوئی بڑا شوروم نہیں تھا بلکہ ایک سادہ سا کمرہ تھا جہاں عورتیں اپنے ڈیزائن کیے ہوئے کپڑے سِل کر فروخت کرتی تھیں۔ وہیں عائشہ کی ملاقات بوتیک کی مالکن سے ہوئی۔ عائشہ نے اپنے سلے ہوئے کپڑے دکھائے، اپنی مجبوری بیان کی اور صاف لفظوں میں کہا کہ وہ محنت کرنا چاہتی ہے اور کام سیکھنے کے لیے تیار ہے۔بوتیک کی مالکن نے اس کی محنت اور لگن کو دیکھا اور اسے چند ڈیزائن تیار کرنے کا موقع دیا۔ یہ عائشہ کے لیے ایک نیا موڑ تھا۔ اس نے یوٹیوب سے کپڑوں کے جدید ڈیزائن سیکھنے شروع کیے، اپنی بیٹیوں کے کپڑوں پر پریکٹس کی، ناپ تول اور پیٹرن بہتر کیے۔ رات دیر تک وہ کپڑے کاٹتی اور سِلتی، کیونکہ اب اسے معلوم تھا کہ یہ صرف کام نہیں بلکہ اس کے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔

وقت کے ساتھ عائشہ کے بنائے ہوئے ڈیزائن بوتیک میں فروخت ہونے لگے۔ آہستہ آہستہ اس کے کام کی پہچان بننے لگی۔ محلے کی عورتیں اس کے پاس سلائی کروانے آنے لگیں اور کچھ نے اپنی بیٹیوں کو بھی سیکھنے کے لیے بھیجنا شروع کر دیا۔ عائشہ کے لیے یہ صرف آمدن کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ خود اعتمادی کی واپسی بھی تھی۔

آج عائشہ نہ صرف خود کفیل ہے بلکہ دوسری عورتوں کے لیے بھی مثال بن چکی ہے۔ وہ اپنے معذور شوہر کی دیکھ بھال کرتی ہے، بیمار ساس کی ذمہ داری نبھاتی ہے اور اپنی دونوں بیٹیوں کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کرتی ہے۔ اس کی ساس فخر سے کہتی ہیں کہ عائشہ لڑکی نہیں بلکہ ایک مضبوط دیوار ہے، جو ہر مشکل کے سامنے کھڑی رہتی ہے۔

عائشہ خود کہتی ہے کہ وہ ٹوٹی ضرور تھی، مگر ہاری نہیں۔ اگر اس کی بہن اس کا ہاتھ نہ تھامتی اور اگر اس نے خود ہمت نہ کی ہوتی تو شاید آج حالات مختلف ہوتے۔ آج اس کی کہانی صرف ایک عورت کی جدوجہد نہیں بلکہ ان ہزاروں پاکستانی عورتوں کی نمائندہ آواز ہے جو خاموشی سے حالات کا مقابلہ کر کے اپنی زندگی خود بناتی ہیں۔ اور وہ نہ صرف اپنے گھر کو سنبھل رہی ہے بلکہ اپنا ہنر دوسروں کو بھی سیکھا رہی ہے تاکہ زندگی کے مشکل وقت میں ان کی طرخ باقی لڑکیوں کو کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے ۔

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں