زینب
یہ تصویری کہانی دکھاتی ہے کہ کس طرح شفاقت ربانی پلاسٹک اور کچرے سے بھرے ماحول میں امید کا چراغ جلاتا ہے۔
وہ پھینکی ہوئی بوتلوں کو خوبصورت اور مفید چیزوں میں بدل کر آلودگی کے خلاف خاموش مگر طاقتور کوشش کرتا ہے۔

لبرکوٹ کا خوبصورت منظر
لبرکوٹ اپنی خوبصورت پہاڑیوں، صاف ہوا اور دلکش نظاروں کی وجہ سے منفرد پہچان رکھتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں قدرت نے ہر رنگ کھلے دل سے بکھیرے ہیں۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہاں کے ماحول کو آلودگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس نے قدرتی حسن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ہر طرف گندگی نظر آتی ہے
یہ تصویر زمین کی آلودگی کی واضح مثال ہے۔ جگہ جگہ پلاسٹک کے تھیلے، بوتلیں اور گندگی کے ڈھیر نہ صرف ماحول کو خراب کرتے ہیں بلکہ زمین کی زرخیزی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

یہ دھواں ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہے
کچرے کو آگ لگانے سے زہریلا دھواں آسمان کی طرف اٹھتا ہے۔ یہ دھواں نہ صرف ہوا کو آلودہ کرتا ہے بلکہ انسانوں کی صحت، پودوں اور جانوروں پر بھی برا اثر ڈالتا ہے۔

"صاف پانی نہ ہو تو زندگی مشکل ہو جاتی ہے”
پانی میں بہتا ہوا گندہ مواد، پلاسٹک، کیمیکل اور خراب فاضل مادہ پینے کے پانی کو خراب کر دیتا ہے۔ اسی وجہ سے جھیلیں، دریا اور چشمے آلودہ ہوتے جا رہے ہیں۔

"شفاقت ربانی کے گھر کا دلکش منظر"
کہانی شفاقت ربانی سے شروع ہوتی ہے، جو ماحول کی بہتری کے لیے خاموش مگر مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ شفاقت کا تعلق پہلے ایبٹ آباد سے تھا، جہاں وہ کئی سال تک مقیم رہے۔ گزشتہ پانچ سال سے وہ مانسہرہ، بیلا اکبر خان میں رہائش پذیر ہیں۔
وہ بیلا اکبر خان میں کرائے کے گھر میں رہتے ہیں، مگر ان کا جذبہ کسی ذاتی جگہ کا محتاج نہیں۔
شفاقت پیشے کے لحاظ سے وائٹل ایف ایم 99.4 ایبٹ آباد سے وابستہ ہیں، جہاں وہ شام کے وقت ریڈیو شوز کرتے ہیں۔ جبکہ صبح کے وقت وہ تقریباً 2 سے 3 گھنٹے ماحول دوست سرگرمیوں، خاص طور پر ری سائیکلنگ کے کام کے لیے وقف کرتے ہیں۔

"یہاں پھولوں کے لیے خوبصورت پوٹس تیار ہوتے ہیں”
اکبر خان میں اوَیس خان سواتی اور محمود خان سواتی نے شفاقت کو اپنے ڈیری فارم اور کام کرنے کی جگہ فراہم کی، جہاں وہ بوتلوں کی کٹنگ اور کلرنگ کا کام کرتے ہیں۔
یہ تعاون اس بات کی مثال ہے کہ اگر معاشرہ ساتھ دے تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔

"یہ بوتلیں دوبارہ استعمال کے لیے جمع کی جا رہی ہیں”
شفاقت ربانی پلاسٹک کی پھینکی ہوئی بوتلیں جمع کرتے ہیں تاکہ انہیں دوبارہ کارآمد بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ اسکول میں پڑھتے تھے تو لوگ پلاسٹک کی بوتلیں کھلے عام پھینک دیتے یا جلا دیتے تھے، جس سے شدید آلودگی پھیلتی تھی۔ اسی احساس نے انہیں بہت کم عمری میں اس کام کی طرف راغب کیانہوں نے یہ ہنر یوٹیوب (YouTube) سے سیکھا اور پھر اسے عملی شکل دی۔

بوتلیں کاٹ کر دوبارہ استعمال کے لیے تیار کی جا رہی ہیں
بوتل کو اچھی طرح دھونے اور صاف کرنے کے بعد شفاقت انہیں خاص انداز میں کاٹتے ہیں، تاکہ انہیں نئی شکل دی جا سکے۔ یہ مرحلہ ری سائیکلنگ کا بنیادی ستون ہے، جہاں کچرا دوبارہ کارآمد چیز میں بدلنے کا سفر شروع کرتا ہے۔

سادہ بوتلیں اب رنگین اور پیاری لگ رہی ہیں
کٹنگ کے بعد بوتلوں کو مختلف رنگوں سے سجایا جاتا ہے۔ یہ رنگ نہ صرف خوبصورتی پیدا کرتے ہیں بلکہ ماحول میں تازگی اور خوشی کا پیغام بھی دیتے ہیں۔

شفاقت کی محنت سے یہ خوبصورت پوٹس بنے ہیں
ایک خوبصورت آرٹ پیس میں بدل دیتی ہے۔آخر میں وہی پھینکی ہوئی پلاسٹک کی بوتلیں خوبصورت فُولر پوٹس کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ نہ صرف ماحول کی صفائی میں مدد دیتے ہیں بلکہ لوگوں کو ری سائیکلنگ کا مثبت پیغام بھی دیتے ہیں۔ شفاقت کی یہ چھوٹی سی کوشش ثابت کرتی ہے کہ تبدیلی کا آغاز ہمیشہ ایک قدم سے ہوتا ہے۔

تیار شدہ سارے فلاور پوٹس ایک ساتھ
یہ وہ نتیجہ ہے جو عزم، محنت اور ماحول سے محبت کی وجہ سے ممکن ہوا۔ شفاقت ربانی نے ثابت کیا کہ اگر ہم سب مل کر اپنی ذمہ داری نبھائیں تو ماحول کو صاف رکھنا مشکل نہیں۔ اس کا یہ چھوٹے پیمانے کا ری سائیکلنگ پراجیکٹ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا آغاز ہے۔
سوشل میڈیا اور آن لائن آرڈرز
شفاقت ربانی کے مختلف سوشل میڈیا پیجز، واٹس ایپ گروپس اور ٹک ٹاک اکاؤنٹس موجود ہیں، جہاں وہ اپنی ویڈیوز اپلوڈ کرتے ہیں۔ انہی پلیٹ فارمز کے ذریعے انہیں آرڈرز موصول ہوتے ہیں۔
سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ یہ کام مفت سکھاتے بھی ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مشن کا حصہ بن سکیں۔
یہ فوٹو اسٹوری ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ماحول کی صفائی کے لیے حکومت یا بڑی فیکٹریوں کا انتظار ضروری نہیں۔ ایک عام انسان بھی غیرمعمولی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اگر ہم پلاسٹک کو درست طریقے سے دوبارہ استعمال کریں، صفائی کا خیال رکھیں اور دوسروں کو بھی اس مہم میں شامل کریں تو ہمارا ماحول دوبارہ صاف، خوبصورت اور محفوظ بن سکتا ہے۔
