یا رسول اللہ ﷺ!
آپ کے در پر حاضری کا موقع اللہ نے عطا فرمایا—یہ وہ نعمت ہے جس کے بعد دل کسی اور سمت لگتا ہی نہیں۔ سرورِ کونین ﷺ! محبت و کیف کا وہ پیالہ نصیب ہوا کہ اب واپسی کے دن شروع ہوتے ہیں تو دل بوجھل ہے۔ محبت، عشق اور جنون سے آگے اگر کوئی درجہ ہوتا تو شاید وہ بھی اس کیفیت کو نام دینے سے قاصر رہتا۔
آپ کے روضۂ اقدس کے سامنے آنسوؤں کی صورت میں اپنی گناہگاری کا اقرار کیا۔ وہ توبہ جو اللہ کے حضور خوف اور ڈر سے نہ ہو سکی، یہاں آپ کے سامنے دل کی گہرائیوں سے پھوٹ پڑی۔ بس یہی دعا رہی کہ میرے گناہوں کا بوجھ مدینہ آنے کے لیے میرے قدموں میں بیڑیاں نہ بن جائے۔ آپ کی رحمت کے طفیل، روز آپ کے سامنے دل و دماغ کا بوجھ ہلکا کرتا رہا۔
یا رسول اللہ ﷺ!
بڑی مشکل سے آپ کے روضۂ اطہر سے نکل کر جبلِ اُحد جانے کا موقع ملا۔ میں نے تاریخ کی بڑی بڑی جنگیں پڑھیں، فلمی اور خیالی معرکے دیکھے، سپہ سالاروں کو فوجیں لڑاتے اور خود کو لڑتے دیکھا—مگر جو حکمتِ عملی میں نے اُحد کے دامن میں محسوس کی، وہ حیرت میں ڈال دینے والی تھی۔
آپ ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے مسجد میں جنگی لباس پہن لیا تھا۔ شاید سپہ سالارِ اعظم ﷺ اس لمحے کو بھانپ چکے تھے جب پراپیگنڈے اور اندرونی یہودی سازشوں کے ذریعے حالات سخت کیے جائیں گے۔
یا رسول اللہ ﷺ!
ہم آپ کے غضب سے ناواقف ہیں، ہم تو آپ کو صرف رحمتُ للعالمین کے طور پر جانتے ہیں۔ مگر اپنے جانثاروں کی شہادت، خصوصاً اپنے چچا حضرت حمزہؓ کی شہادت پر جو جذبات، رعب اور دبدبہ تھا—میں نے اُحد کے اس ٹیلے پر کھڑے ہو کر چشمِ تصور سے وہ منظر دیکھا جہاں مسلمان جانثار دشمن کی حرکات روکنے پر مامور تھے۔
یا رسول اللہ ﷺ!
آپ کے رعب کے آگے دشمن پسپا ہو رہا تھا۔ آپ کی تلوار کے وار سہنے کی کسی میں سکت نہ تھی۔ پھر وہ لمحہ آیا جب آپ ﷺ کی شہادت کی جھوٹی خبر پھیلائی گئی اور کچھ جانثاروں کے قدم ڈگمگانے لگے—تب مجھے آپ ﷺ کی وہ حکمت سمجھ آئی جو آپ نے جنگ سے پہلے زرہ پہن کر اختیار کی تھی۔
یا رسول اللہ ﷺ!
آپ ﷺ زخموں سے چور تھے، مگر جب آپ کی برعب آواز گونجی:
“میں عبداللہ کا بیٹا ہوں، میں عبدالمطلب کا پوتا ہوں—کیا ہے کوئی میرے وار کا سامنا کرنے والا؟”
تو جانثاروں کے دل مضبوط ہو گئے اور کفار کے قدم اکھڑنے لگے۔
آپ کے رعب اور دبدبے کے سامنے اُحد کے پہاڑ کو بھی راستہ دینا پڑا، آپ کے بیٹھنے کی جگہ کو نرم ہونا پڑا، اور خالد بن ولیدؓ جیسے عظیم جرنیل کو بھی آخرکار آپ کے سامنے دو زانو ہونا پڑا۔
یا رسول اللہ ﷺ!
بس ایک گزارش ہے کہ مجھے آپ کے دادا، حضرت عبدالمطلبؓ کی قبر مبارک پر حاضری نصیب ہو—اور میں یہ کہہ سکوں کہ عالمِ اسلام آپ کے بیٹے حضرت حمزہؓ کی شہادت کا مقروض ہے، اور پوری کائنات آپ کے پوتے کے دانتِ مبارک کی قربانی کی مقروض ہے۔
تحریر : راشد خان سواتی

