تحریر: راشد خان سواتی
اس وقت میں حرمِ کعبہ میں بیٹھا ہوا اپنی ایک دیرینہ خواہش کی تکمیل پر ربِ کعبہ کا شکر ادا کر رہا ہوں۔ میری آرزو تھی کہ کبھی جمعہ کا دن ہو اور میں سورۂ کہف کی تلاوت حرم میں بیٹھ کر کر سکوں، الحمدللہ آج اللہ کے فضل سے یہ خواہش پوری ہو گئی۔ اسی لمحے میرا دل اور ذہن روضۂ رسول ﷺ کی حاضری کے تصور میں گم ہے، اور میں اپنے خیالات کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ جب وہ مبارک ساعت نصیب ہو تو درود و سلام کے بعد بارگاہِ رسالت ﷺ میں کیا عرض کروں۔
یا رسول اللہ ﷺ! آپ کی امت، آپ کی بے مثال محنت، فکرِ امت اور ربِ کعبہ کے فضل کے سبب آج جوق در جوق آپ کے شہر کا رخ کیے ہوئے ہے۔ آپ کے شہر کے باسی آج بھی آپ کے اخلاق، رویّے اور سخاوت کی روشن روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اہلِ عرب ہم عجمیوں کو اجنبی نہیں سمجھتے، ہمیں ’’عجمی‘‘ نہیں بلکہ ’’حاجی‘‘ کہہ کر خوش آمدید کہتے ہیں۔ آپ کا آبائی شہر اب پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے جائے پناہ بن چکا ہے۔
یا رسول اللہ ﷺ! حرمین شریفین کے ذمہ داران اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ وہ اہلِ ایمان کے لیے نرم دل اور دشمنانِ دین کے لیے مضبوط و باوقار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کلمہ گو مسلمانوں کے سوا کسی غیر مسلم کو اس پاک سرزمین میں داخل ہونے کی جسارت نہیں۔ حرمین کی امامت اور اذان میں آج بھی وہی بلالی گونج سنائی دیتی ہے جو دلوں کو لرزا دیتی ہے اور ایمان کو تازہ کر دیتی ہے۔
یا رسول اللہ ﷺ! آپ کے شہر کی کیا بات کی جائے—تجارت ہو یا سخاوت، علم ہو یا خدمت—ہر پہلو میں آپ کے شہر کے لوگ مثال بن چکے ہیں۔ آج بھی پوری دنیا کا مرکز یہی شہر نظر آتا ہے۔ مکہ میں قدم رکھتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری دنیا پر صرف ’’اللہ اکبر‘‘ کی صدا غالب ہے اور اس سچ کے سامنے باقی سب باطل بے بس اور ماند پڑ چکا ہے۔
یا رسول اللہ ﷺ! ان تمام کیفیات کے درمیان ایک خوف اور جھجک میرے دل کو گھیرے ہوئے ہے۔ میں اس کشمکش میں مبتلا ہوں کہ میری یہ عرضداشت آپ تک کیسے پہنچے گی؟ نہ مجھے آدابِ حاضری کا مکمل شعور ہے، نہ میں مدینہ منورہ کے طریقوں سے واقف ہوں، اور نہ ہی خود کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ آپ کے شہرِ طیبہ میں داخل ہو کر ادب و احترام کے تمام تقاضے پورے کر سکوں۔
مگر مجھے ربِ کعبہ سے کامل امید ہے کہ جس طرح آپ کے آبائی شہر والوں نے ہم عجمیوں کو کبھی اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیا، اسی طرح مدینہ کے باسی—جو انصار کہلاتے ہیں—بھی مجھے پہچان لیں گے کہ میں آپ کی امت، ملتِ اسلامیہ کا ایک ادنیٰ فرد ہوں۔ اور یا رسول اللہ ﷺ! ان انصار کی آپ سے محبت کے صدقے مجھے یقین ہے کہ آپ کے شہرِ طیبہ کے دیدار سے میری آنکھوں کو ٹھنڈک ضرور نصیب ہو گی، ان شاء اللہ۔


