Skip to content

واٹر سپلائی سکیم تباہ حال، چوٹا تریڈہ ویلی کے سینکڑوں افراد پینے کے پانی سے محروم

شیئر

شیئر

ضلع مانسہرہ بالائی سرن کے لوگ پانی کی بھوندبھوند کے ترس رھے ھیں.
حکومتی ادارےخاموش تماشائی ھیں.
بالائی سرن ویلی میں چوٹا تریڈہ واٹر سپلائی سکیم جو کہ ایک عرصہ دراز سے چوٹا تریڈہ ہاڑیاں پنجول اور چلیانی کے رھائشی ھزاروں افراد کی پانی کی ضرورت پوری کر رہی ھے.
اور اس سکیم پر گورنمنٹ کی طرف سے دو سرکاری ملازمیں باقاعدگی سے تنخوائیں بھی وصول کر رھے ھیں.
مگر حالات یہ ھیں ان علاقوں کے لوگ پانی کے قطرےقطرے کے لیئے ترس رھے ھیں.
ایک عرصے سے پانی کا جو مین سورس تھا وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ھے.اور علاقے کے لوگوں کے لیئے سورس سے ہٹ کر آلودہ ترین پانی لگایا ہوا ھے.
محکمہ پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ یا کسی ملازم نے کبھی یہ زحمت نہیں کی کہ پانی سورس سے بحال کیا جائے.وہی گندہ پانی جس ٹینک میں آتا ھے ٹینک کی تہہ میں تقریبا ڈیڑھ فٹ تک کیچڑ جمع ھے جسکی صفائی شاید 1997سے اب تک ایک یا دور بار ہوئی ھے .
اس سے بڑی ستم ظریفی یہ ھے کہ گزشتہ تین دن سے پانی مکمل بند ھے اور علاقہ کے بیشتر لوگوں کے پاس متبادل کوئی پانی نہیں ھے.
جن ملازمین کا کام پانی بحال کرنا ھے ان سے متعدد بار رابطے کیئے جا چکے ھیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی.
جو ملازمین پانی کی دیکھ بھال کے عوض تنخوائیں وصول کر رھے ھیں وہ اس علاقے میں رہ ہی نہیں رھے.اور انھوں نے اپنے آگے ملازم ہائر کیئے ہوئے ھیں جن کو علاقے میں پانی بحال کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں.
ھمارا اہلیان علاقہ تریڈہ ہاڑیاں چوٹا اور چلیانی کا
XENپبلک ہیلتھ انجیئرگ ڈیپارٹمنٹ ضلع مانسہرہ
XDOپبلک ہیلتھہ انجنیئرنگڈیپارٹمنٹ
سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجنیئرنگ پشاور اور
ڈپٹی کمشنر مانسہرہ سے پرزور مطالبہ ھے کہ ایمرجنسی بنیادوں پر ھمارا پانی بحال کیا جائے اور چوٹا تریڈہ واٹر سپلائی سکیم پر موجود ملازمین کو پانی پر ڈیوٹی کا پابند بنایا جائے.
یا سکیم پر ایسے ملازمین تعینات کیئے جائیں جو علاقے میں رہ کر پانی پف ڈیوٹی سرانجام دیں.شکریہ

عبد القیوم گجر

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں