ڈاکٹر جزبیہ شیریں
ملیٹنٹ گروپوں کی سرگرمیاں اور علیحدگی پسند تحریکوں نے پاکستان خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو ایک سنجیدہ مسئلہ بنا دیا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور خصوصاً بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی کارروائیاں پاکستان کے لیے نہ صرف داخلی بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ مارچ 2025 میں جافرا ایکسپریس ٹرین کے اغوا کی واردات نے ان کی شدت اور پیچیدگی کو مزید واضح کیا ہے۔ یہ حملہ دراصل بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے پاکستان کے اندر ہونے والے ایک اور دہشت گردانہ حملے کا حصہ تھا، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد کی جانیں گئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں پر گہری تشویش پیدا کی ہے، جو پہلے سے ہی کئی دہائیوں سے جاری ہیں۔
بلوچستان کا مسئلہ پاکستان کی تاریخ کا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، جس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ 1947 میں پاکستان کے قیام کے بعد سے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کا آغاز ہوا، جنہوں نے صوبے کی سیاسی و اقتصادی پسماندگی اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم پر احتجاج کیا۔ اس کے بعد سے، بلوچستان میں مختلف علیحدگی پسند گروپوں نے اپنی آزادی کی جدوجہد شروع کی، جن میں سب سے اہم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) اور بلوچ نیشنل آرمی (BNA) ہیں۔ یہ گروہ بلوچستان کو پاکستان سے آزاد کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اکثر فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرتے ہیں۔ ان گروپوں کی کارروائیاں پاکستان کے داخلی
بلوچستان کے بحران میں عالمی طاقتوں کی مداخلت نے اس مسئلے کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بلوچستان کی جغرافیائی پوزیشن اور قدرتی وسائل جیسے تیل، گیس، اور معدنیات کی موجودگی نے اسے عالمی سطح پر اہمیت کا حامل بنا دیا ہے۔ مختلف عالمی طاقتیں، خاص طور پر بھارت، افغانستان اور بعض مشرق وسطی کے ممالک، بلوچستان میں ہونے والی علیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کر رہے ہیں۔
افغانستان کے ساتھ سرحد کی قربت نے بلوچستان کے علیحدگی پسند گروپوں کو پناہ گزینی کا موقع فراہم کیا ہے۔ افغان حکومت، جو خود داخلی مسائل کا شکار ہے، نے مبینہ طور پر بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کو اسلحہ اور مالی امداد فراہم کی ہے تاکہ وہ پاکستان کے خلاف کارروائیاں کریں۔ یہی نہیں، بھارت نے بھی بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی حمایت کرنے کا عندیہ دیا ہے، خصوصاً پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے پر کشیدگی کے دوران۔ ان عالمی طاقتوں کی مداخلت نے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی طاقت میں مزید اضافہ کیا ہے اور ان کے لئے عالمی سطح پر حمایت کا جواز فراہم کیا ہے۔
مہرنگ بلوچ، ایک اہم علیحدگی پسند رہنما، نے اپنے موقف کی جڑیں زیادہ تر بلوچ عوام کی پسماندگی اور ان کے حقوق کی جنگ میں رکھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچ قوم کی ثقافت، زبان، اور سرزمین کو عالمی طاقتوں کے مفادات کے لیے قربان کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا کہ بلوچوں کے حقوق کی پامالی کے لیے پاکستانی ریاست ذمہ دار ہے، اور اسی وجہ سے انہیں آزادی کی ضرورت ہے۔
مہرنگ بلوچ کی قیادت نے علیحدگی پسند تحریک کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ ان کی قیادت میں بلوچ عوام نے اپنی آزادی کی جنگ کو نئے حوصلے سے جاری رکھا۔ ان کے حامی انہیں ایک ہیرو اور آزادی کے علمبردار کے طور پر دیکھتے ہیں، جو بلوچ قوم کے حقوق کے لیے لڑ رہی ہیں۔ لیکن ان کے مخالفین، جو زیادہ تر پاکستانی حکومت اور سکیورٹی اداروں کے حامی ہیں، ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ ریاست کے خلاف دہشت گردی کو بڑھاوا دے رہی ہیں اور پاکستان کے اندر امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
"خاک میں مسکراہٹوں کی تلاش ہے،
دل میں امیدوں کی ایک دنیا ہے،
بلوچوں کے دل میں بھی یہ سوال ہے،
کیا ہمیں کبھی سکون کی سوغات ملے گی؟”
یہ شعر بلوچستان کے عوام کی حالت زار کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتا ہے، جو اپنی زمین، اپنے حقوق اور اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بلوچستان کی زمین پر خون کی نہ ختم ہونے والی دھار اور علیحدگی پسندوں کی مسلسل کارروائیاں اس خطے میں سکون اور امن کی امیدوں کو تقریباً ختم کر چکی ہیں۔
پاکستانی حکومت نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی علیحدگی پسند کارروائیوں کے خلاف مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں فوجی آپریشنز، سکیورٹی فورسز کی تعیناتی، اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل شامل ہے۔ تاہم، ان اقدامات کے باوجود بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی کارروائیوں میں کمی نہیں آئی۔ حکومتی ردعمل اکثر فوجی نوعیت کا ہوتا ہے، جس سے مقامی آبادی کی حمایت حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس کے علاوہ، بلوچستان کے عوام میں احساس محرومی اور بے چینی میں اضافہ ہوا ہے، جس کا فائدہ علیحدگی پسند گروہ اٹھا رہے ہیں۔
بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کو ختم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اس حکمت عملی میں صرف فوجی کارروائیاں ہی نہیں، بلکہ اقتصادی ترقی، مقامی قیادت کی مضبوطی اور سیاسی مذاکرات بھی شامل ہوں گے۔ حکومت پاکستان کو بلوچستان کی عوامی مشکلات کو سمجھنا ہوگا اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اگر حکومت بلوچستان کی ترقی اور عوام کی فلاح کے لیے مناسب اقدامات نہیں کرتی تو علیحدگی پسندوں کی طاقت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور بین الاقوامی طاقتوں کی مداخلت پاکستان کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا بحران بنتی جا رہی ہیں۔ ان مسائل کا حل صرف سکیورٹی فورسز کی طاقت سے نہیں نکالا جا سکتا، بلکہ پاکستان کو ایک قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے جو عوام کی حمایت کو شامل کرے اور بلوچستان کی ترقی کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔
اگر پاکستان نے بلوچستان میں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے معاشی ترقی کے منصوبوں اور عوامی سطح پر سیاسی مذاکرات کو بڑھاوا نہ دیا تو یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ بلوچستان کا بحران نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے، بلکہ یہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ اور استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔
بلوچستان کے عوام کی حالت میں بہتری لانے کے لیے حکومت پاکستان کو ایک جامع حکمت عملی اپنانی ہوگی جس میں سماجی، اقتصادی اور سیاسی اصلاحات کو شامل کیا جائے۔ صرف اس طرح پاکستان اس بحران کا خاتمہ کر سکتا ہے اور بلوچستان میں امن و سکون واپس لا سکتا ہے۔
"دریا کی گہرائی میں چھپی ہے تقدیر کی رہگزر،
پہاڑوں کی بلندیوں سے بات کرتی ہے سرکش ہوا،
بلوچوں کے خوابوں میں آزادی کا رنگ ہے،
کہ جب تک نہ ہو آزادی، تب تک نہ ہو سکون کا جواز۔”
یہ اشعار بلوچستان کے مسائل کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ایک نئی صبح کی ضرورت ہے، جہاں خونریزی کا خاتمہ ہو اور امن کا پیغام غالب آئے۔معاملات میں مداخلت کرتی ہیں اور ان کے اثرات ملکی سطح پر بھی محسوس کیے جاتے ہیں