Skip to content

پاکستان کے شماریاتی نظام میں موجود خامیاں اور ان کے قومی معیشت پر اثرات

شیئر

شیئر

معروف سکالر یوحال نوح ہراری کہتے ہیں جس طرح زرعی دور میں زمین،صنعتی دور میں لوہا کی اہمیت تھی بالکل اسی طرح ڈیجیٹل دور میں ڈیٹا خام مال کی حیثیت رکھتا ہے،اس دور میں اگر آپ کے پاس ڈیٹا نہیں تو آپ کی نہ صرف معاشی بنیادیں کمزور ہیں بلکہ آپ کی سیاسی اور سماجی حیثیت بھی نہ ہونے کے برابر ہے یہی معاملہ قوموں کا ہے۔ قومی شماریاتی نظام کسی بھی ملک کی پالیسی سازی اور ترقیاتی حکمت عملی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ درست اور بروقت ڈیٹا کی عدم دستیابی ملک کے معاشی استحکام، پالیسی سازی، اور عوامی فلاح و بہبود پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی 2022/23 کی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کے قومی شماریاتی نظام پر کافی تفصیل سے بحث کی گئی ہے ،اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کا موجودہ شماریاتی نظام کئی مسائل کا شکار ہے، جن میں ناقص ڈیٹا کلیکشن، غیر معیاری رپورٹنگ اور پالیسی سازوں تک محدود رسائی شامل ہیں​۔
شماریاتی نظام میں موجود خامیاں

  1. پرانا اور غیر متحرک نظام
    پاکستان کا موجودہ شماریاتی نظام کئی دہائیوں پرانے ڈھانچے پر مشتمل ہے،جو بدلتے ہوئے اقتصادی اور سماجی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔ اس میں ڈیٹا کلیکشن اور تجزیے کے جدید طریقوں کا فقدان پایا جاتا ہے، جس کے باعث پالیسی سازی میں تاخیر اور غلط فیصلے سامنے آتے ہیں​۔
  2. غیر معیاری ڈیٹا اور عدم دستیابی
    شماریاتی ڈیٹا کی غیر معیاری رپورٹنگ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ قومی اور صوبائی سطح پر مختلف ادارے ڈیٹا تو جمع کرتے ہیں لیکن وہ عالمی معیار سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ، پاکستان میں سہ ماہی اور ماہانہ GDP کا ڈیٹا دستیاب نہیں، جس سے معیشت کے حقیقی رجحانات کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے​
    ۔
  3. سروے کی کمی اور ناقص شماریات
    پاکستان میں زیادہ تر اقتصادی سروے یا تو بہت پرانے ہیں یا ان کا دائرہ کار محدود ہے۔

زرعی مردم شماری 2010 میں ہوئی تھی اور اب پندرہ سال بعد اس کی تجدید ہوئی ہے۔
۔

صنعتی شماریات میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کا مکمل احاطہ نہیں کیا جاتا، جس سے اس شعبے کی حقیقی ترقی کا پتہ نہیں چلتا​
۔

بیروزگاری اور اجرتوں سے متعلق سروے محدود ہیں، جو کہ روزگار کے درست تخمینے کے لیے ضروری ہیں​
۔

  1. ادارہ جاتی ہم آہنگی کا فقدان
    پاکستان میں قومی اور صوبائی سطح پر شماریاتی نظام میں ہم آہنگی کی کمی ہے۔ مختلف سرکاری محکمے الگ الگ ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں، لیکن ان کے درمیان اشتراک نہ ہونے کے باعث شماریات کا مربوط اور جامع نظام تشکیل نہیں پا سکا​
    ۔
  2. ٹیکنالوجی کا محدود استعمال
    عالمی سطح پر معلوماتی مواصلاتی ٹیکنالوجی (ICT) اور مصنوعی ذہانت (AI) کو شماریاتی نظام میں شامل کیا جا رہا ہے، لیکن پاکستان میں اب بھی زیادہ تر ڈیٹا کلیکشن اور پروسیسنگ روایتی طریقوں پر مبنی ہے۔ اس کی وجہ سے ڈیٹا میں غلطیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور معلومات کی دستیابی میں تاخیر ہوتی ہے​
    ۔

شماریاتی نظام کی خامیوں کے قومی معیشت پر اثرات

  1. پالیسی سازی پر اثرات
    ناقص اور غیر معیاری ڈیٹا کی وجہ سے پالیسی سازوں کو درست فیصلے کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب حکومت کو درست اقتصادی اعداد و شمار میسر نہیں ہوتے، تو وہ معیشت کو درپیش حقیقی مسائل کی تشخیص نہیں کر پاتی، جس سے کمزور پالیسیاں نافذ ہوتی ہیں​
    ۔
  2. سرمایہ کاری اور کاروباری ماحول پر اثرات
    عالمی سرمایہ کار کسی بھی ملک میں سرمایہ لگانے سے پہلے اس کے اقتصادی اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان میں غیر مستند اور محدود ڈیٹا کی دستیابی کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار اعتماد نہیں کرتے، جس سے سرمایہ کاری کی رفتار سست رہتی ہے​
    ۔
  3. ٹیکس اور محصولات پر اثرات
    پاکستان میں غیر رسمی معیشت کا ایک بڑا حصہ ہے، لیکن چونکہ اس کا درست تخمینہ نہیں لگایا جاتا، اس لیے حکومت مناسب ٹیکس پالیسی نہیں بنا سکتی۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس چوری بڑھ جاتی ہے اور محصولات میں کمی آتی ہے، جس کا براہ راست اثر ترقیاتی منصوبوں پر پڑتا ہے​
    ۔
  4. سماجی اور اقتصادی ترقی پر اثرات
    اگر کسی ملک میں غربت، بیروزگاری، صحت اور تعلیم کے درست اعداد و شمار موجود نہ ہوں، تو اس کی ترقیاتی منصوبہ بندی کمزور ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں صحت اور تعلیم کے شعبے کے لیے مکمل اور جامع شماریات کی کمی ہے، جس کے باعث حکومت موثر فلاحی پالیسی مرتب نہیں کر پاتی​ اسی طرح ناقص ڈیٹا جدید ریسرچ کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ ہے
    ۔

اصلاحات اور بہتری کے لیے تجاویز

  1. جدید ڈیٹا کلیکشن سسٹم متعارف کرایا جائے
    حکومت کو جدید ٹیکنالوجی جیسے کہ بگ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت، اور جیو اسپیشل ٹیکنالوجی کو شماریات کے نظام میں شامل کرنا چاہیے تاکہ بروقت اور درست ڈیٹا حاصل ہو سکے​
    ۔
  2. خودمختار قومی شماریاتی ادارہ قائم کیا جائے
    شماریات کے اداروں کو مکمل خودمختاری دینی چاہیے تاکہ وہ کسی سیاسی دباؤ کے بغیر شفاف اور معیاری ڈیٹا فراہم کر سکیں​
    ۔
  3. سہ ماہی GDP اور بیروزگاری کا ڈیٹا شائع کیا جائے
    پاکستان میں سہ ماہی GDP، اجرت، اور بیروزگاری کا ڈیٹا دستیاب نہیں، جو کہ عالمی معیار کے مطابق ضروری ہے۔ حکومت کو یہ شماریات جاری کرنے کو یقینی بنانا چاہیے​
    ۔
  4. قومی اور صوبائی اداروں کے درمیان اشتراک
    قومی شماریاتی ادارے اور صوبائی ادارے ایک مربوط نظام کے تحت کام کریں تاکہ ڈیٹا کا تبادلہ بہتر ہو اور ہر سطح پر یکساں شماریات دستیاب ہوں​
    ۔
  5. عالمی معیارات کے مطابق شماریاتی اصلاحات
    پاکستان کو اقوام متحدہ اور عالمی بینک کے شماریاتی معیارات کو اپنانا چاہیے تاکہ اس کا شماریاتی نظام عالمی سطح پر قابل قبول ہو اور سرمایہ کاری اور پالیسی سازی کے لیے استعمال ہو سکے​۔
    ۔

پاکستان میں شماریاتی نظام کی موجودہ صورتحال قومی معیشت کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔ ناقص ڈیٹا کی وجہ سے ملک میں موثر پالیسی سازی، سرمایہ کاری، اور محصولات کے نظام میں مشکلات کا سامنا ہے۔ اگر حکومت جدید شماریاتی طریقے اپنائے اور نظام میں بنیادی اصلاحات کرے، تو نہ صرف معیشت کو استحکام حاصل ہوگا بلکہ ترقی کی رفتار بھی تیز ہو گی

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں