شاہ زیب نَجی
سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں بھارتی فوج اور پولیس نے ایک مبینہ دہشتگرد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اس کارروائی میں کئی سوالات اور شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق، ہلاک ہونے والا دہشتگرد پاکستانی شہری تھا اور اس کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے، لیکن اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ آپریشن ہندواڑہ کے علاقے میں پولیس، 21 راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر کیا۔ بھارتی فورسز نے ہلاک ہونے والے کو پاکستانی دہشتگرد قرار دیا، لیکن اس بات کے کوئی شواہد فراہم نہیں کیے گئے کہ وہ واقعی پاکستانی تھا۔ نہ کوئی شناختی کارڈ، نہ سفری دستاویزات، نہ کوئی اور ثبوت پیش کیا گیا، جو اس دعوے کو کمزور بناتا ہے۔
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں، جس کے بعد کارروائی کی گئی۔ تاہم، ان اطلاعات کے ذرائع اور ان کی نوعیت کو ظاہر نہیں کیا گیا، جس سے ان دعوؤں پر مزید سوالیہ نشان لگتے ہیں۔ مزید برآں، بھارتی فوج نے کہا کہ ہلاک شخص کے پاس سے ایک اے کے 47 رائفل، چار میگزین اور ایک دستی بم برآمد ہوا، لیکن یہ شواہد کسی آزاد اور غیر جانبدار تنظیم سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی بھارتی فورسز پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ جعلی انکاؤنٹرز میں عام کشمیریوں کو مار کر انہیں دہشتگرد قرار دیتی ہیں اور بعد میں ان کے پاس اسلحہ رکھ کر انکاؤنٹر کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
آپریشن کے دوران مقامی شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی، لیکن اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اس کارروائی سے عام لوگوں کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ کشمیر میں ایسے آپریشنز اکثر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات کی زد میں رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارتی فورسز نے کسی فرد کو پاکستانی دہشتگرد قرار دے کر ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہو۔ 2020 میں شوپیاں میں تین نوجوانوں کو دہشتگرد قرار دے کر ہلاک کر دیا گیا، لیکن بعد میں یہ ثابت ہوا کہ وہ عام مزدور تھے، جنہیں جعلی انکاؤنٹر میں مارا گیا۔ اسی طرح، 2010 میں مژھل میں تین بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوج نے عسکریت پسند قرار دے کر قتل کر دیا تھا، جس پر عالمی سطح پر سخت ردعمل آیا۔
ایک رپورٹ کے مطابق، 2000 سے 2023 کے دوران جموں و کشمیر میں 700 سے زائد افراد کو ماورائے عدالت قتل کا نشانہ بنایا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، ان میں سے بہت سے افراد کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا، اور بھارتی فوج نے ان کے لاشے بغیر تحقیقات کے دفنا دیے۔
اس طرح کے غیر مصدقہ دعوے اور کارروائیاں خطے میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہیں۔ بھارتی فوج پر پہلے بھی ماورائے عدالت قتل اور جعلی انکاؤنٹرز کے الزامات لگتے رہے ہیں، اور اس تازہ کارروائی میں بھی وہی خدشات سر اٹھا رہے ہیں۔ آزاد تحقیقات کے بغیر کسی بھی آپریشن کی شفافیت پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بھارت کے ان دعووں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا واقعی ہلاک شدہ فرد کسی دہشتگرد تنظیم سے وابستہ تھا یا پھر یہ ایک اور جعلی انکاؤنٹر تھا۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اس معاملے پر نظر رکھنی چاہیے تاکہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزیوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔