Skip to content

جمہوریت، مذہبی قیادت اور فکری خلاء

شیئر

شیئر

اپنے امیر حضرت مولانا فضل الرحمٰن کی خدمت میں

پاکستان میں جمہوریت اور اسلام کے باہمی تعلق پر بحث ہمیشہ جاری رہی ہے۔ خاص طور پر مذہبی جماعتوں اور اسلامی فکر رکھنے والے طبقات میں اس پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے جمہوریت کو اسلامی اصولوں کے مطابق قابلِ قبول یا کم از کم قابلِ تطبیق سمجھا اور اسی بنیاد پر انتخابی سیاست میں بھرپور کردار ادا کیا۔ تاہم، جمہوری عمل میں ان کی مسلسل شرکت کے باوجود جمہوریت اپنی حیثیت کے دفاع میں مشکلات کا شکار رہی ہے، اور اس کے کمزور پہلوؤں نے ان گروہوں کو تقویت دی ہے جو اسے کلیتاً مسترد کرتے ہیں۔ جس کا اظہار مولانا گزشتہ ایک سال سے "جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے” کے عنوان سے کر رہے ہیں ۔

ہمارے ناقص خیال میں جمہوریت کے زوال اور شکست کا معاملہ صرف یہ نہیں کہ مقتدر قوتیں، جو اس ملک کی سیاسی سمت کا تعین کرتی ہیں، جمہوریت پسند مذہبی قیادت کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے دھاندلی، ووٹوں کی خرد برد اور انتخابی انجینئرنگ جیسے غیر جمہوری حربے استعمال کرتی ہیں۔ یہ ایک پہلو ضرور ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور نہایت اہم نقصان علمی و فکری سطح پر بھی ہوا ہے۔ آج اسی طرف توجہ دلانے کی جسارت کرنی ہے ۔

دیکھئے! جو لوگ جمہوریت کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک قابلِ قبول نظام سمجھتے ہیں، وہ ابھی تک علمی اور استدلالی سطح پر اس مقدمے کو مضبوطی سے پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ جمہوریت کو اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ ثابت کرنے کے لیے جو دلائل دیے گئے ہیں، وہ یا تو کمزور رہے ہیں یا ایسے تضادات پر مشتمل ہیں جو مزید فکری الجھنیں پیدا کرتے ہیں۔ نتیجتاً، اس فکری کمزوری کا فائدہ ان گروہوں کو پہنچا ہے جو جمہوریت کو غیر اسلامی، طاغوتی اور غیر شرعی قرار دیتے ہیں اور بزورِ طاقت اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

بلکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوری اسلامی فکر رکھنے والوں اہل علم نے اب تک جو استدلال اختیار کیا ہے، وہ بعض صورتوں میں ایسے مغالطوں پر مشتمل رہا ہے جنہیں بنیاد بنا کر جمہوریت مخالف حلقے اپنے بیانیے کو مزید مستحکم کر چکے ہیں۔ اسلامی تاریخ کے تناظر میں جمہوریت کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل اکثر کمزور، داخلی تضادات سے بھرپور اور اسلامی سیاسی روایات سے متصادم نظر آتے ہیں۔ اس فکری خلاء کو پر نہ کرنے کی وجہ سے جمہوریت کے خلاف مزاحمتی اور عسکری گروہوں کو اپنی فکر کے پھیلاؤ میں مزید تقویت ملی ہے۔ جس کے ثمرات ہم گزشتہ دو دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں ۔

مولانا فضل الرحمن اور ان جیسے دیگر جمہوریت پسند مذہبی رہنماؤں کی خدمت عالیہ میں یہ درخواست کرنے کی شدید ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ جمہوریت کو درپیش چیلنج صرف اسٹیبلشمنٹ کی رکاوٹیں یا اقتدار سے محرومی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک فکری بحران بھی موجود ہے۔ جب تک جمہوریت کے اسلامی جواز کو علمی بنیادوں پر مضبوط اور استدلالی طور پر ناقابلِ تردید نہیں بنایا جاتا، تب تک جمہوریت محض ایک وقتی حکمتِ عملی کے طور پر سمجھی جاتی رہے گی (جیسا کہ ہمارے جماعتی حلقوں میں سمجھی جاتی ہے۔ باقی مذہبی رجحانات میں تو خالص کفر اور باطل) نہ کہ ایک پائیدار اور اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ طرزِ حکمرانی کے طور پر۔ اس فکری کمزوری کو دور کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ جمہوریت مخالف بیانیہ مزید قوت پکڑتا جائے گا اور مذہبی سیاسی قوتیں ایک ایسے خلاء میں کام کرتی رہیں گی جہاں نہ وہ مکمل جمہوری کہلا سکیں گی اور نہ ہی اپنا بیانیہ مکمل طور پر منوا سکیں گی۔ (اگر یہ فریضہ ہم نے انجام نہیں دیا تو اہل مدرسہ تو پہلے ہی مسلح جتھوں کی طرف پرواز سے مولانا کی شخصیت کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں ، آپ کے عصری جامعات کا طالب علم ، جس نے جمہوریت کو اس کے اصل مآخذ سے پورے پس منظر کے ساتھ پڑھ رکھا ہے ، وہ موجودہ استدلالات سے تشفی نہیں حاصل کر پاتا۔ مبادا وہ بھی ح۔ز۔ب التحریر ، ادارہ رحیمیہ وغیرہ وغیرہ کی طرف نکل جائے گا بلکہ بڑی تیزی سے نکل رہا ہے)

اپنی رائے دیں

متعلقہ پوسٹس

دوسری زبان میں ترجمہ کریں