پاکستان میں خواتین کی سیاسی شرکت ایک اہم مسئلہ رہا ہے، جہاں صنفی تفریق، سماجی روایات اور سیاسی ڈھانچے کی پیچیدگیوں نے خواتین کو سیاست میں مؤثر کردار ادا کرنے سے روکے رکھا ہے وہاں سیاسی جماعتیں بھی خواتین کی سیاسی میدان میں بااختیاری کے لئے سیاسی مصلحتوں کا شکار نظر رہی ہیں ۔ چند استثناؤں کے علاوہ، پاکستان میں سیاسی طاقت بلا شبہ بڑی حد تک مردوں کے زیر تسلط ہے۔ جہاں تعداد میں اضافہ صنفی شمولیت کے لیے ضروری ہے، وہیں یہ واحد اہم پیمانہ نہیں ہے۔ خواتین کے ذریعے پیش کیے گئے قوانین، ان کے نفاذ، اور وقت کے ساتھ وزارتوں میں ان کی موجودگی جیسے عوامل خواتین کی سیاسی بااختیاری کو جانچنے کے چند بنیادی اشاریے ہیں۔ اس لحاظ سے، خواتین کو ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے، اور آئندہ انتخابات پاکستان کے سیاسی میدان میں صنفی حرکیات کا ایک اور امتحان ہوں گے۔
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں خواتین ووٹرز، امیدواروں، یا سیاسی جماعتوں کی رکنیت کے لحاظ سے نمایاں تعداد میں موجود نہیں ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، پاکستان کے آئین میں خواتین کے لیے مخصوص کوٹہ مختص کیا گیا ہے: قومی اسمبلی اور سینیٹ میں 17 فیصد نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔پاکستان میں خواتین تقریباً نصف آبادی (49 فیصد) پر مشتمل ہیں، اس کے باوجود ان کا سینئر، ایگزیکٹو یا قانون سازی کے عہدوں میں حصہ بہت کم ہے – صرف 4.5 فیصد، جو دنیا میں سب سے کم شرحوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان میں ہر 10 میں سے صرف 2 خواتین محنت کش طبقے میں شامل ہوتی ہیں، جو کہ خطے میں بھی سب سے کم شرحوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ شہری شمولیت کے لحاظ سے بھی، خواتین کی سیاسی سرگرمیاں محدود ہیں ۔
فافن کی خواتین پر الیکشن رپورٹ 2024 کے مطابق خواتین ووٹرز کی شرکت میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ 2018 کے عام انتخابات کے مقابلے میں، خواتین اور مرد دونوں کا ٹرن آؤٹ کم ہوا، تاہم ڈالے گئے ووٹوں میں خواتین کے ووٹوں کا تناسب بڑھا۔کل ڈالے گئے 58.9 ملین ووٹوں میں سے 24.4 ملین ووٹ خواتین نے ڈالے، جو کہ 2.7 ملین کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اضافہ مرد ووٹرز میں ہونے والے اضافے (1.6 ملین) سے تقریباً دوگنا ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقوں میں، خواتین کے ووٹوں کا تناسب 2018 میں 39.4 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 41.4 فیصد ہو گیا۔صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں، یہ تناسب 2018 میں 40 فیصد حلقہ جاتی سطح پر، خواتین کا ٹرن آؤٹ مردوں کے مقابلے میں تمام حلقوں میں کم رہا، سوائے 36 حلقوں کے۔ 27 حلقوں میں (4 قومی اور 23 صوبائی) خواتین کا ٹرن آؤٹ مردوں سے زیادہ تھا، جبکہ 9 حلقوں میں دونوں کا ٹرن آؤٹ برابر تھا۔سے بڑھ کر 2024 میں 41.4 فیصد ہو گیا۔
خواتین کی سیاسی شرکت میں حائل رکاوٹیں
پاکستان میں خواتین کی سیاست میں شمولیت میں کئی چیلنجز حائل ہیں، جن میں شامل ہیں:
ثقافتی اور سماجی رکاوٹیں :اکثر خواتین کو گھریلو ذمہ داریوں اور سماجی روایات کی بنا پر سیاست میں آنے سے روکا جاتا ہے۔
تعلیمی اور آگاہی کی کمی: سیاست میں خواتین کی کم شمولیت کی ایک بڑی وجہ ان کے لیے تعلیم اور سیاسی شعور کی کمی ہے۔
سیاسی جماعتوں میں صنفی عدم توازن: خواتین کو اکثر پارٹی پالیسی سازی اور اہم عہدوں تک رسائی حاصل نہیں ہوتی۔
انتخابی عمل میں مشکلات: خواتین ووٹرز کو رجسٹریشن، ووٹ ڈالنے اور انتخابی مہم میں شرکت کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فافن کی کوششیں
فافن ایک غیر سرکاری نیٹ ورک آف نیٹ ورکس ہے جو ملک بھر 500 سے زیادہ سول سوسائٹی کی تنظیموں پر مشتمل ہے اور ان تنظیموں کو ملک کی 20 بڑی تنظیمیں ریجنل نیٹ ورکس کی شکل میں چلا رہی ہیں۔ فافن ملک میں انتخابات کی نگرانی، جمہوری اصولوں کے فروغ اور شہریوں کی سیاسی بیداری کے لیے کام کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک کا بنیادی مقصد شفاف، غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات کے ذریعے جمہوریت کو مستحکم کرنا ہے۔ خواتین کی سیاسی شمولیت فافن کے کلیدی مقاصد میں شامل ہے، کیونکہ فافن سمجھتاہے کہ ایک حقیقی جمہوری نظام تب ہی پروان چڑھ سکتا ہے جب خواتین کو مساوی مواقع دیے جائیں۔ خواتین کی سیاسی بیداری اور بااختیاری کے حوالے سے فافن کی کوششیں نہ صرف خواتین کو سیاسی عمل میں شامل کرنے پر مرکوز ہیں، بلکہ انہیں سیاسی نظام کی باریکیوں سے آگاہ کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہیں۔فافن نے خواتین کو درپیش سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قابلِ قدر اقدامات کیے ہیں تاکہ خواتین کو سیاست میں نہ صرف شرکت بلکہ ایک مضبوط آواز بھی دی جا سکے۔فافن نے خواتین کی سیاسی شمولیت کے فروغ کے لیے درج ذیل اقدامات کیے ہیں؛
: انتخابی عمل میں خواتین کی شرکت کو یقینی بنانا 1
فافن انتخابات کی نگرانی کے دوران خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح، ان کے سیاسی حقوق کی پاسداری، اور صنفی تفریق کے خاتمے پر خصوصی توجہ دیتی ہے۔
: خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن 2.
فافن نے نادرا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ مل کر خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور گلگت بلتستان میں متعدد مہمات چلائیں۔ ان مہمات کے نتیجے میں ہزاروں خواتین کو قومی شناختی کارڈ بنوانے اور اپنے ووٹ کے حق کو استعمال کرنے کے مواقع فراہم کیے گئے۔
: خواتین امیدواروں کی حوصلہ افزائی 3
فافن نے کئی تربیتی پروگرام منعقد کیے جن کے ذریعے خواتین کو سیاست میں حصہ لینے، انتخابی مہمات چلانے، اور پارٹی سطح پر مضبوط مقام حاصل کرنے کی تربیت دی گئی۔ فافن نے خواتین کی سیاسی نمائندگی کو فروغ دینے کے لیے بھی کوششیں کی ہیں۔ اس کے تحت خواتین کو سیاسی عہدوں کے لیے کھڑے ہونے کی ترغیب دی جاتی ہے اور انہیں اس عمل میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ فافن کی کوششوں سے کئی خواتین نے مقامی اور قومی سطح پر انتخابات میں حصہ لیا ہے اور کامیابی حاصل کی ہے۔
: خواتین کے لیے انتخابی عمل میں آسانی 4
فافن کی کوششوں کے نتیجے میں کئی حلقوں میں خواتین کے لیے علیحدہ پولنگ اسٹیشنز اور خواتین عملے کی تعیناتی ممکن ہوئی، تاکہ وہ بغیر کسی دباؤ کے اپنا ووٹ ڈال سکیں۔
: صنفی تفریق پر تحقیق اور پالیسی سفارشات 5
فافن نے مختلف مطالعات اور تجزیوں کے ذریعے حکومتی اور سیاسی اداروں کو صنفی برابری پر مبنی پالیسی سازی کے لیے سفارشات پیش کیں۔
خواتین کی سیاسی تربیت:6
فافن نے خواتین کو سیاسی عمل میں شامل ہونے کے لیے درکار مہارتیں سکھانے کے لیے تربیتی ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا ہے۔ ان تربیتی سیشنز میں خواتین کو انتخابی عمل، ووٹ ڈالنے کے طریقہ کار، اور سیاسی نظام کی بنیادی باتیں سکھائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، خواتین کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے حقوق کا استعمال کر سکتی ہیں اور سیاسی عمل میں کیسے موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔اس کے نتیجہ میں ملک بھر میں سینکڑوں خواتین پہلی دفعہ مقامی حکومتی انتخابات میں اپنی ویلج اسمبلی کا حصہ بنی۔
خواتین کی رائے عامہ کی تشکیل:7
فافن نے خواتین کو سیاسی مسائل پر آگاہ کرنے اور ان کی رائے عامہ کو تشکیل دینے کے لیے بھی کام کیا ہے۔ اس کے تحت خواتین کو مختلف سیاسی مسائل پر معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور انہیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ کیسے اپنی آواز کو موثر طریقے سے اٹھا سکتی ہیں۔
فافن نے مختلف مطالعات اور تجزیوں کے ذریعے حکومتی اور سیاسی اداروں کو صنفی برابری پر مبنی پالیسی سازی کے لیے سفارشات پیش کیں۔
نتائج اور اثرات
فافن نے پاکستان میں خواتین کی سیاسی بیداری اور بااختیاری میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کی کوششوں نے نہ صرف خواتین ووٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا بلکہ انہیں سیاست میں عملی شرکت کے مواقع بھی فراہم کیے۔ تاہم، صنفی مساوات کے اس سفر کو مزید آگے بڑھانے کے لیے مستقل مزاجی اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔فافن کی ان کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ حالیہ انتخابات میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے علاوہ کئی سیاسی جماعتوں نے خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کے علاوہ جنرل نشستوں پر بھی امیدوار کھڑے کرنے کی پالیسی اپنائی۔ فافن کی کوششوں کے نتیجے میں پاکستانی خواتین کی سیاسی بیداری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خواتین اب نہ صرف ووٹ ڈالنے کے عمل میں زیادہ فعال ہو رہی ہیں، بلکہ وہ سیاسی عہدوں کے لیے بھی کھڑے ہو رہی ہیں۔ فافن کی تربیتی سیشنز اور آگاہی مہمات نے خواتین کو یہ اعتماد دیا ہے کہ وہ سیاسی نظام میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں اور اپنے حقوق کا تحفظ کر سکتی ہیں۔ فافن کی کوششیں پاکستانی خواتین کی سیاسی بیداری اور بااختیاری کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہیں۔ خواتین کو سیاسی عمل میں شامل کرنے اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے فافن کی کوششیں نہ صرف قابل تعریف ہیں، بلکہ یہ پاکستان کےجمہوری مستقبل کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہیں۔ فافن اور پارٹنر تنظیموں کی کوششوں سے پاکستان میں خواتین کی سیاسی شرکت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی۔
مستقبل کا لائحہ عمل
پاکستان میں خواتین کی سیاسی بیداری اور بااختیاری کے سفر میں ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔اگرچہ فافن کی کوششوں کے مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں، لیکن اب بھی کئی چیلنجز باقی ہیں۔ معاشرتی رکاوٹیں، خواتین کے خلاف تشدد، اور سیاسی نظام میں خواتین کی نمائندگی کی کمی جیسے مسائل اب بھی موجود ہیں۔ فافن ان مسائل سے نمٹنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھےگا اور خواتین کی سیاسی بیداری کو فروغ دینے کے لیے اپنی پارٹنر تنظیموں اور سیاسی جماعتوں سے مل کر نئے طریقے تلاش کرے گا۔
فافن ان حلقوں میں خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کو ترجیح دینے کی سفارش کرتا ہے جہاں انتخابی فہرستوں میں صنفی فرق 10 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ ان حلقوں میں اس حد کو 5 فیصد تک کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جہاں یہ فرق پہلے ہی 10 فیصد سے کم ہو چکا ہے۔خواتین کے ووٹر ٹرن آؤٹ کو بہتر بنانے کے لیے، فافن قانونی ترامیم پر غور کرنے کی تجویز دیتا ہے تاکہ ہر پولنگ اسٹیشن پر کم از کم 10 فیصد خواتین ووٹروں کی لازمی موجودگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایسے انتہائی کیسز میں جہاں کسی مخصوص پولنگ اسٹیشن پر خواتین کا کم ٹرن آؤٹ انتخابی نتائج پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، فافن یہ سفارش کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن کو اختیار دیا جائے کہ وہ ایسے حلقوں میں دوبارہ پولنگ کروا سکے جہاں اس پولنگ اسٹیشن کے ووٹرز کی تعداد جیت کے مارجن سے زیادہ ہو۔ خواتین کی بطور امیدوار انتخابی شمولیت میں اضافے کے لیے، فافن نے ایک جامع اور طویل المدتی حکمت عملی کی تجویز دی ہے جو قانونی، سماجی، سیاسی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو دور کرنے پر مرکوز ہو تاکہ انتخابات میں زیادہ سے زیادہ خواتین امیدوار حصہ لے سکیں۔
مختار جاوید ایک سماجی و ماحولیاتی کارکن , ایگزیکٹو ڈائیریکٹر واج، چیئر پرسن فا فن , ایگزیکٹو ممبر این ایچ این، سن سی ایس اے نیوٹریشن نیٹ ورک پاکستان ،ممبر ، سٹارٹ گلوبل نیٹ ورک ر یڈی پاکستان اور خیبر پختونخواہ فارسٹری راونڈ ٹیبل ہیں۔