سردار افتخار احمد
پاکستان کی یونیورسٹیوں میں آئے روز طالبات کو ہراساں کیے جانے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہر پور یونیورسٹی میں ایک سنگین معاملہ سامنے آیا، جہاں سیکیورٹی انچارج نہ صرف طالبات کو ہراساں کر رہا تھا بلکہ انہیں بلیک میل بھی کر رہا تھا، اور ان کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی تھیں۔ اس سے پہلے بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی، پہاولپور یونیورسٹی اور دیگر جامعات میں بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
جب بھی کوئی سکینڈل سامنے آتا ہے، پوری قوم احتجاج کرتی ہے، لیکن چند دن بعد سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ یہ ہماری اجتماعی کمزوری ہے کہ ہم بڑے بڑے واقعات کو بھولنے کے عادی ہیں۔ اس وقت ہزارہ ڈویژن سمیت خیبر پختونخوا میں اس معاملے پر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے، اور لوگ مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف احتجاج کافی ہے؟ یا ہمیں اس مسئلے کا کوئی مستقل حل نکالنا ہوگا؟
ہراسانی کے بنیادی اسباب
یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کئی برسوں سے جاری ہے، اور ہر بڑی یونیورسٹی سے ایسے اسکینڈلز سامنے آتے رہتے ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان معاملات پر شور تو مچتا ہے، مگر پھر سب خاموش ہو جاتے ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ یونیورسٹیوں میں ناقص امتحانی نظام ہے، جہاں پروفیسرز خود ہی طلبہ کو نمبر دیتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی نظام میں قابلیت اور میرٹ کے بجائے صرف نمبروں کو دیکھا جاتا ہے، اور یہی نمبروں کا کھیل طلبہ کو بلیک میلنگ کا شکار بناتا ہے۔ بہتر جی پی اے حاصل کرنے کے دباؤ میں طالبات کو ہراساں کیا جاتا ہے، اور بعض پروفیسرز اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
استاد کا مقام اور موجودہ صورتِ حال
استاد کا مقام انتہائی بلند ہے، اور ایک استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے۔ لیکن جب چند کالی بھیڑیں اس پیشے کو بدنام کرتی ہیں تو وہ نہ صرف اپنی ذمہ داری سے غداری کرتے ہیں بلکہ معصوم طالبات کی زندگیوں سے بھی کھیلتے ہیں۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں استاد کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اٹلی میں ایک واقعہ پیش آیا، جہاں عدالت اشفاق احمدعدالت میں گئے اور جب بتایا کہ میں استاد ہوں تو جج کھڑا ہوگیا کیونکہ وہاں استاد کو انتہائی احترام دیا جاتا ہے۔ آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک میں پروفیسرز کے گھروں کے ساتھ رہنا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں استاد کے مقدس رشتے کو کچھ عناصر داغدار کر رہے ہیں۔
نظام میں تبدیلی کی ضرورت
ہمارے موجودہ امتحانی نظام اور جی پی اے سسٹم نے تعلیم کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ والدین اپنی بیٹیوں کو عزت و احترام کے ساتھ یونیورسٹی بھیجتے ہیں، لیکن جب انہیں بلیک میلنگ اور ہراسانی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ بن جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر اس نظام میں تبدیلی لائی جائے۔ جس طرح کا سکولوں کے امتحانات بورڈز لیتے ہیں، اسی طرح یونیورسٹیوں میں بھی ایک خودمختار ادارہ ہونا چاہیے جو امتحانات لے اور نتائج کا اعلان کرے، نہ کہ وہی استاد جو پڑھا رہا ہو، نمبر بھی وہی دے۔ اس سے میرٹ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور ہراسانی کے واقعات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
اسلامی اصولوں پر عمل کی ضرورت
اگر ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کریں تو بھی اس مسئلے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح راولپنڈی میں فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی قائم کی گئی ہے، اسی طرح ہر ڈویژن کی سطح پر خواتین کے لیے علیحدہ یونیورسٹیاں ہونی چاہئیں تاکہ وہ محفوظ تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ کو ایجوکیشن کے نام پر جس طرح مرد و خواتین کو ایک ساتھ تعلیم دی جا رہی ہے، اس نے ہمارے معاشرے میں کئی مسائل پیدا کر دیے ہیں۔
ایک اسلامی معاشرے میں نوجوان لڑکا اور لڑکی ایک ہی کلاس میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کریں، یہ عمل اخلاقی اور مذہبی لحاظ سے قابلِ قبول نہیں۔ جہاں ایک کمرے میں بہن اور بھائی کے ساتھ سونے کی ممانعت ہے، وہاں غیر متعلقہ افراد کا ایک ساتھ تعلیم حاصل کرنا ہمارے اقدار کے خلاف ہے۔
حکومت کی ذمہ داری
یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور ہر ڈویژن کی سطح پر کم از کم ایک خواتین کی یونیورسٹی قائم کرے، جہاں جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم دی جا سکے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شاید اس معاملے میں کچھ بہتری لا سکیں، لیکن خیبر پختونخوا حکومت کو بھی اس پر فوری توجہ دینی چاہیے
یہ مسئلہ کسی ایک طالبہ یا کسی ایک خاندان کا نہیں بلکہ پوری سوسائٹی کا ہے۔ ہر والدین اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر حکومت نے اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا تو مستقبل میں یہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے
خدارا! اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں، ورنہ آنے والا کل والدین کے لیے مزید پریشانیاں لے کر آئے گا۔